ایم اے تبسمتازہ ترینکالم

افسوس صدافسوس

ma tabsumاسلام کی کی آمد سے قبل یعنی زمانہ جاہلیت میں انسان بچیوں کو ذلیل وحقیر سمجھتا تھا۔وہ لوگ لڑکی کی پیدائش کے بجائے اس کی وفات پر مبارکباد دیتے تھے۔ لڑکیوں کو اس قدر نیچ سمجھتے تھے کہ کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی تو وہ مارے شرم کے منہ چھپائے پھرتا تھا کہ کہیں اس کی عزت کو داغ نہ لگ جائے ،۔ان میں کچھ لوگ ایسے ظالم تھے کہ کسی بیٹی کا باپ کہلوانے کے ڈر سے اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ یا گلا دبا کر ہمیشہ کے لئے خاموش کردیتے تھے۔بیٹی کو نجاست کا ڈھیر اور شیطان کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ بیٹی کی ولادت کی خبر سنتے ہی حقارت کی تیوریاں چہرے پر نمایاں ہوتی تھیں۔ایسے لوگوں کا نقشہ قرآن پاک نے ان الفاظ میں کھینچا ہے ’’جب ان میں کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے ، لوگوں سے چھپاتا پھرتا ہے کہ اس بری خبر کے بعد کسی کو کیا منہ دکھائے۔سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لئے رکھے یا مٹی میں دبادے ‘‘۔(سورہ النحل : 85 تا 95)لیکن یہ تو زمانہ جاہلیت کے لوگوں کا حال تھا۔ اب آیئے اس زمانہ کے لوگوں پر نظر ڈالتے ہیں کہ ان کی نظر میں بیٹی کا کیا مقام ہے ، جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، سچا عاشق رسول ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ، سرکار دو عالم ﷺکی محبت میں جانِ عزیز کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں ، لیکن جب ان کے دلوں کو ٹٹول کر دیکھو تو پتہ چلتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی طرح یہ بھی بیٹی کی آمد کو خوشگوار نہیں سمجھتے۔ بلکہ اس پر رنجیدہ ہوجاتے ہیں۔ بیٹی کی پیدائش اپنے لئے ننگ وعار تصور کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کو دیکھا گیا کہ مبارک باد کہنے کے بجائے آنسو بہا بہا کر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور کچھ بہادر تو یہ بھی کہنے سے نہیں ہچکچاتے کہ اس مرتبہ بیٹا نہیں ہواتو بیوی کو طلاق دے دوں گا۔ایسے نامردوں کے لئے قرآن کیا کہتا ہے ’’کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ صرف بیٹا دیتا ہے اور کچھ کے مقدر میں بیٹیاں ہی بیٹیاں اور کچھ لوگوں کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں سے نوازتا ہے اور کچھ لوگوں کی جھولی میں کچھ نہیں ڈالتا اور انہیں بانجھ کردیتا ہے۔(الشوری: 05)یہ لوگ بیٹی کو رحمت کے بجائے زحمت سمجھتے ہیں ، اسے ایک بوجھ گردانتے ہیں۔بیٹیوں کو ہر معاملہ میں کم تر سمجھا جاتا ہے۔پڑھائی کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ انہیں پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے ، آخر گھر کے کام کاج ہی تو کرنا ہے۔لہٰذا ان کے لئے تعلیم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں ؛لیکن یا درکھو ! بزرگوں کا قول ہے ’’مرد پڑھا فرد پڑھا ، عورت پڑھی خاندان پڑھا ‘‘۔اچھا لباس ، اچھی غذا اور دیگر ضروریاتِ زندگی میں بھی بیٹیوں کے بجائے بیٹوں کو ترجیح دی جاتی ہے اور بیٹوں کی خواہشات کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔افسوس صد افسوس کہ آج کے مسلمان زمانہ جاہلیت کے لوگوں سے بھی آگے نکل گئے۔جس بچی پر ماں باپ کی طرف سے اس طرح کا ظلم ہوتو یقیناًوہ یہی کے گی ’’کاش میں تیری بیٹی نہ ہوتی ‘‘جس گھر میں بیٹی نہ ہو اس گھر میں رحمت نہیں ہوتی۔ یعنی بیٹی اللہ رب العزت کی طرف سے رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ لڑکیوں پر بہت زیادہ مہربا ن ہوتا ہے۔میرے محبوب ﷺ کی آمد مبارک سے عورت کو دنیا میں جینے کا حق ملا۔معاشرے میں باعزت مقام ملا۔ اور کہا گیا کہ جس کسی کے یہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پاس فرشتے بھیجتے ہیں ، وہ فرشتے گھر والوں سے کہتے ہیں : اے گھر والو ! تم پر سلامتی ہو پھر اس بچی کو فرشتے اپنے پروں سے ڈھانک لیتے ہیں اور اپنے نورانی ہاتھوں کو اس کے سر پر پھیرتے ہیں اور کہتے ہیں : ایک کمزور جان ہے جو کمزور جان سے نکلی ہے ، قیامت تک اس کے کفیل کی مدد کی جائے گی۔ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے ، حضورﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو لڑکیوں کے سلسلے میں کسی طرح آزمایا جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو وہ لڑکیاں اس شخص کے لئے دوزخ سے آڑبن جاتی ہیں۔(جامع ترمذی : حدیث: 7302)حضور ﷺنے فرمایا: جو شخص تین بیٹیوں یا تین بہنوں کی کفالت کرتا ہے ، اس پر جنت واجب ہے۔صحابہ رضی اللہ تعالیٰ نے پوچھا : یا رسول اللہﷺ ! اگرکوئی دو بیٹیوں کی کفالت کرتا ہے۔آپ ﷺنے فرمایا: پھر بھی واجب ہے۔صحابہ رضی اللہ تعالیٰ نے پوچھا : اگر ایک بیٹی کی اور ایک بہن کی کفالت کرتا ہو ؟ آپ ﷺنے فرمایا: پھر بھی واجب ہے۔پیارے نبیﷺنے فرمایا: جو شخص لڑکی رکھتا ہے ، اللہ کی نصرت ، برکت اور اس کی بخششیں اس کے شاملِ حال ہوتی ہیں۔ایک اور جگہ فرمایا: جس کے یہاں ایک بیٹی ہوتی ہے اسے ایک ہزار حج کا ، ہزار جہاد کا ، ہزار قربانی کا اور ہزار مہمانوں کا ثواب ملتا ہے۔جب حضرت فاطمہؓ رحمِ مادر میں آئیں تو سورہ کوثر نازل ہوئی اور آپ کو خیرِ کثیر اور دائمی نیکی کی بشار ت سنائی گئی۔انسان لڑکی کا باپ ہوتا ہے تو یہ اس کے لئے باعثِ فخر ہے ؛کیونکہ رسولِ خدا ﷺ بھی لڑکی کے باپ تھے ، دنیا میں لڑکی کے پیدا ہونے پر رسولِ خدا سے مشابہت ہوجائے تو واقعتا بہت بڑا فخر ہے۔پیار ے آقا ﷺنے فرمایا : جو شخص دو یا تین لڑکیوں کی سرپرستی کرے گا وہ بہشت میں میرا ہم نشیں ہوگا۔پیارے نبی ﷺنے ایک اور جگہ فرمایا: جس کے گھر لڑکی ہو پھر وہ اسے نہ زندہ در گور کرے نہ اس کی توہین کرے (لڑکی ہونے کے ناطے ہر وقت طعن وملامت نہ کرے ) اور نہ لڑکے کو اس پر ترجیح دے ، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمادیں گے (ابوداؤد )جو لوگ بیٹی کی پیدائش کو منحوس سمجھتے ہیں انہیں ان احادیثِ مبارکہ کو

یہ بھی پڑھیں  آرمی چیف جنرل راحیل شریف 3 روزہ دورے پر سری لنکا روانہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker