تازہ ترینکالم

آفتابِ ولایت گنج شکر

Abdullahبابا فرید گنج شکر شہنشاہِ پا ک پتن ؒ کی پیدائش کا واقع بہت مشہور ہے آپ ؒ ایک نیک عابد زاہدخاتون کے بیٹے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب آپ ؒ شکم مادر میں تھے تو ایک رات آپ ؒ کی والدہ محترمہ قرسم خاتون رات کے آخری پہر مصلے پر بیٹھی نماز تہجد ادا کر رہی تھیں کہ ایک چور چوری کی نیت سے آپ ؒ کے گھر آیا آپ ؒ اللہ تعالی کی عبادت میں اس قدر محو تھیں کہ اُس چور کی آمد کا آپ کو بالکل بھی پتہ نہ چلا ۔ ظاہر ہے چور چوری کی نیت سے آیا تھا اور وہ گھر کا مال اسباب سمیٹ لینا چاہتا تھا لیکن جب اُس چور نے ایک نیک خاتون کا بارگاہِ الٰہی میں عبادت کر تے دیکھا تو وہ اِس روح پرور منظر میں کھو گیا اور ساکت نیک خاتون کو عبادتِ الٰہی میں مستغرق دیکھتا رہا وہ نیک خاتون کی عبادت اور انہماک سے بہت زیادہ متاثر ہو گیا تھا نیک عور ت جس طرح خشوع و خضوع سے مصروف عبادت تھی وہ اپنا کام بھول کر اُس ایمان افروز منظر میں کھو چکا تھا پھر اُس نے خود کو اِس سحر انگیز منظر سے نکالا اور چوری کی نیت سے آگے بڑھا ۔ چور نے ارادہ کر لیا تھا کہ اگر عورت نے اُس کو دیکھ لیا تو وہ جبر و تشدد سے اُس کو ہٹا کر چوری کر ے گا یہ سوچ کر اُس نے پھر قرسم خاتون کو دیکھا جو آنکھیں بند کئے اپنے خالق کے تصور میں کھو ئی ہو ئی تھیں اور دنیا ما فیا سے بے خبر قربِ الٰہی عشق الٰہی میں غرق تھیں ۔ اب چور ہمت کر کے آگے بڑھا ابھی اُس نے دو چار قدم ہی اٹھا ئے ہو نگے کہ اچانک وہ اپنی آنکھوں کی روشنی سے محروم ہو گیا وہ اندھا ہو چکا تھا ۔ یہ ایک ناقا بل یقین واقعہ تھا ‘چور نے بہت کو شش کی لیکن اُس کی آنکھوں کا نور واپس نہ آیا ۔ اب اُس نے گھر سے بھاگنے کی کوشش کی اور کافی دیر تک دیواروں سے سر ٹکراتا رہا مگر اُسے واپسی کا راستہ نہ مل سکا ‘فرار کے تمام راستے بند ہو چکے تھے اب چور پر خوف و دہشت نے قبضہ جمانا شروع کیا تو اُسے احساس ہوا کہ یہ تو قہر آسمانی ہے قدرت نے اُس کی آنکھو ں کا نور چھین لیا ہے جب چور کو کو ئی راستہ نہ ملا تو اُس نے چیخنا شروع کر دیا اور با آواز بولنا شروع کیا میں عقیدے کے اعتبار سے غیر مسلم بت پرست ہو ں ‘چوری میرا پیشہ ہے ‘آج رات چوری کی نیت سے ہی میں اِس گھر میں داخل ہوا تھا مگر چوری سے پہلے ہی میں اپنی آنکھوں کا نور کھو بیٹھا ہوں ۔ یہ اندھا پن کو ئی اتفاق نہیں ہے یقیناًاِس گھر میں کو ئی بہت نیک ہستی ہے جس کی وجہ سے میں اندھا ہو گیا ہوں اگر وہ بزرگ ہستی میری آواز سن رہی ہے تو میں اُس کو درخواست کر تا ہوں کہ مجھے معاف کر دے ‘میں گناہ گار ہوں ‘مجھے معافی دی جائے ‘ہندو چور بآواز بار بار اپنی غلطی کا اقراراور معافی مانگ رہا تھا ‘قرسم خاتون دنیا و مافیا سے بے خبرخالق ارض و سما کے حضور عبادت میں غرق تھی جب چور نے بہت گریہ زاری کی تو آنکھیں کھو ل دیں اور دیکھا کہ مکان کے صحن میں ایک طویل قامت انسان ٹھوکریں کھا تا پھر رہا ہے اُس کے چلنے اور لڑکھڑانے سے واضح پتہ چل رہا تھا کہ وہ اپنی آنکھوں کے نور سے محروم ہو چکا ہے ۔ نیک دل خاتون اُس طاقتور انسان کو بے بسی اور لا چارگی کی حالت میں دیکھتی رہی جو چوری کی نیت سے اُس کے گھر میں داخل ہوا تھا ۔ چور نے دو بارہ بولنا شروع کیا کہ جو بھی نیک ہستی اِس گھرمیں مو جود ہے اور یقیناًوہ میری آواز اور بے بسی دیکھ رہی ہو گی اُسے اس کے خدا کا واسطہ وہ مجھے معاف کر دے ‘میں اقرار کر تا ہوں کہ میں ہمیشہ کے لیے چوری اور ڈکیتی سے توبہ کر لوں گا ‘میری آنکھوں کا نور اگر مجھے واپس مل گیا تو میں ہر برا کام چھوڑ دوں گا ۔ قرسم خاتون خاموشی سے اُس کی حالت زار اور بے بسی دیکھ رہی تھیں ‘نیک دل خاتون کے سکوت مسلسل سے چور اور بھی خوف زدہ ہو گیا اور اب براہ راست نیک خاتون کو پکارا کہ میں نیک دل خاتون سے معافی کی درخواست کر تا ہوں کہ میرے گناہ کو معا ف کر دیں ‘بے شک میں انہیں تنہا سمجھ کر چوری کر نا چاہتا تھا کہ کمزور عورت اور چھوٹے بچے میرے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتے لیکن میں غلط تھا مجھے معاف کر دیں اگر میری بینائی بحال ہو گئی تو میں اپنے آباؤ اجداد کے مذہب بت پرستی کو ترک کر دوں گا ‘ماتھے سے قشقا اور گلے میں زنار توڑ کر پھینک دوں گا اور حلقہ اسلام میں دل سے داخل ہو جاؤں گا ۔ چور کی گریہ زاری آہ و بکا سن کر قرسم خاتون نے اپنا وظیفہ نیم شبی چھوڑ دیا اور دعا کے لیے ہاتھ بارگاہِ الٰہی میں اٹھا دئیے ‘اے مالک ارض و سما دنیا مجھے اکیلا سمجھتی ہے لیکن جس کا تُو مدد گار ہو اُسے لا وارث کو ن کہہ سکتا ہے جس کا اللہ تو محافظ ہو اُس کو چوروں ڈکیتوں سے کیا خطرہ ‘اگر سا را زمانہ بھی قزاق بن کر اِس گھر پر ٹوٹ پڑے تو میرا اور میرے بچوں کا کوئی کچھ نہیں بکا سکتا ‘بے شک تو ہی میرا کفیل اور وکیل ہے میں تیری بندگی پر شکر گزار ہوں کہ تُو نے مجھ ناتواں عورت کا بدلہ اِس مرد سے لیا جو چور اور طاقتور تھا ‘قرسم خاتون کی رقت اور لہجے میں درد اور التجا بڑھتی جا رہی تھی ‘اے مالک اب میں تجھ سے التجا کر تی ہوں کہ تو اِس کی بینائی واپس کر دے ‘یہ تیرا ہی بندہ ہے جو راستے سے بھٹک گیا تھا میں نے اِس کا جرم معاف کیا اب تو بھی اِس کے گناہوں سے چشم پو شی فرما اِس کی آنکھوں کے ساتھ اِس کے دل کی سیاہی بھی دھو دے اِس کا نور اِس کو واپس کر دے ۔ اور پھر اچانک بت پرست کو محسوس ہواُ س کی آنکھوں کی سیاہی کی جگہ نور واپس آرہا ہے اور پھر اُس کی بینائی بحال ہو گئی تو وہ تشکر اور لر زتے قدموں سے قرسم خاتون کی طرف بڑھا اور معافی مانگی بت پرست کی آواز ندامت اور شرمندگی سے کانپ رہی تھی ۔ قرسم خاتون بولی تجھے کوئی مجبوری یا ضرورت چوری کے لیے میرے گھر لائی تو میرا مہمان ہے بتا تیری کیا خدمت کر سکتی ہوں ‘چور شرمند گی کے سمندر میں غرق تھا ‘صرف معافی ما نگ رہا تھا جا اُن سے معافی مانگ جن کے حقوق تو نے غضب کئے ہیں پھر ہندو لٹیرا گردن جھکائے واپس چلا گیا ۔ اگلے دن وہ چور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ قرسم خاتون کے دروازے پر کھڑا تھا اور زاروقطار رو تے ہو ئے کہہ رہا تھا اُس ابدی روشنی کی ایک کرن مجھے دے دیں ‘دولت ایمان سے نواز دیں اور پھر یہ بت پرست مسلمان ہو کر دولتِ ایمانی سے اپنا دامن بھر کر گیا اِس لٹیرے کا نام عبداللہ رکھا گیا ‘عبادت و ریاضت سے نیک بندوں میں شامل ہوا ‘وفات پانے کے بعد وہیں دفن ہوا آج بھی اُس کا مزار موجود ہے ‘بابا فرید ؒ ابھی ماں کے پیٹ میں تھے جب یہ واقعہ پیش آیا ۔ بچہ بڑا ہوا کر آفتاب ولایت کا سورج ثابت ہوا جس کی روشنی سے لاکھوں اندھی روحوں نے روشنی پائی اور قیامت تک یہ فیض اِسی طرح جاری و ساری رہے گا

یہ بھی پڑھیں  منورحسن کی عبدالقادر ملا کو پھانسی دینے کی مذمت، آج یوم احتجاج ہوگا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker