تازہ ترینکالم

افواج پاکستان کے خلاف شرمناک مہم

بے شرم اور بے حیا۔۔۔ننگ دین ننگ طن۔۔۔آ ئین کے محافظ تو دور کی بات ہے۔ میں تو انہیں باشعورانسان اور محب وطن تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں۔۔۔آ پ سوچ رہے ہونگے کہ میں کن لوگوں کی بات کر رہا ہوں۔۔۔میں ’’ چیف جسٹس آف پاکستان کے جانثاروں‘‘کی بات کر رہا ہوں جنہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور راولپنڈی کی بارایسوسی ایشنز کے مشترکہ اجلاس میں افوج پاکستان خصوصی طور پر آرمی چیف کے خلاف جو شرمناک قرارداد منظور کی ہے۔۔۔لیکن بڑے بڑے ماہرین قانون اور آئین نے گندے اورسازشی ذہنیت کی عکاسی کرنے والی اس قرارداد کو لائق تبصرہ نہیں سمجھا اور نہ ہی ہمارے خود سر آزاد میڈیا کے ذہین و فطین اینکرز نے اس پر اظہار خیال کی ضرورت محسوس کی۔۔۔اس قراردار کے پس منظر میں پانچ نومبر کو آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کادیا ہوا وہ بیان ہے ۔جس میں انہوں نے نام لیے بغیر کچھ عناصر کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’کوئی ادارہ اکیلا ملکی مفاد کے تعین کا فیصلہ نہیں کر سکتا‘‘۔۔۔جس کے ہدف کی نشاندہی کرتے ہوئے میڈیا پر کسی نے اس کے تانے بانے ایوان صدر تک ملا دئیے۔۔۔۔۔۔ مطلب یہ کہ آرمی چیف کا ٹارگٹ ایوان صدر تھا۔کوئی دور کی کوڑی لایا اور قوم کو بتایا ’’ آرمی چیف کا مخاطب اور مطلوب و مقصود کوئی اور ادارہ نہیں صرف میڈیا تھا۔۔۔لیکن ابھی ان صفائیوں کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی یعنی ایک دن بعد ہی جب بھری عدالت میں ’’ سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشاد ‘‘ نے عدالت کے روبرو کہا کہ فوج عدالت کا احترام کرتی ہے۔مگر چیف جسٹس افتخار محمد چودہری ایک لمحہ ضائع کیے بغیر بولے ’’کل ہم نے دیکھ لیا ہے کتنا احترام کیا جاتا ہے‘‘پھر کوئی پردہ نہ رہا سب صاف ہوگیا ۔۔۔سب حجاب ہٹ گے ۔۔۔اب کسی شک و شعبے کی گنجائش ہی باقی نہ رہی تھی ۔کہ آرمی چیف نے کسے پیغام دیا تھا۔۔۔ اسکے بعد دوڑیں لگ گئیں۔۔۔ملک اور قوم سے حقیقی محبت رکھنے والے اورجمہوریت پسند آ گے آئے۔۔۔ سب کی کوشش یہ رہی کہ عسکری قائد اور عدالتی قائد کے درمیان حالات کو سازگار بنایا جائے۔۔۔ملک کو کسی انہونی بچایاجائےِ ۔ایک طرف یہ کوششیں ہورہی تھیں بقول ’’انصار عباسی‘‘ایک سینئر صحافی کے مطابق چیف جسٹس اور آرمی چیف کے حالیہ بیانات سے پیدا ہونے والے ٹکراؤ کے تاثر سے اسلام آباد کے ریڈ زون میں قیام پذیر ایک اہم شخصیت بہت خوش تھی۔جن کا کہنا تھا اچھا ہے دونوں لڑیں۔یہی خوائش سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کچھ نام نہاد چمپئینز اور میڈیا میں موجود ایک مخصوص گروہ کی تھی۔مگر ان سب کے ارمانوں پر پانی پھرگیا۔وہ سب کچھ نہ ہوسکا جس کی ان کو شدید خوائش تھی ۔۔۔لیکن عین اسی وقت ں ب ’’انصار عباسی‘‘ یہ سطور لکھ رہے تھے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی بار ایسوسی ایشنوں کے جانثاروں نے پندرہ نومبر کے دن ایک ایسی قرارداد منظور کی جس کے متن میں ایسے الفاظ کا انتخاب کی گیا جو کوئی کسی دشمن ملک کی افواج اور اسکی قیادت کے لیے بھی استعمال نہیں کرتا۔۔۔ یہ کارنامہ عدالتی چیف کے جانثاروں نے سرانجام دیدیا۔۔۔قرارداد کا متن میں ہے’’ پانچ نومبر کوآرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے جرنیلوں کی کرپشن بے نقاب کرنے پر عدلیہ اور میڈیا کے خلاف دھمکی آمیز بیان دیکر ملک کے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔فوج بحثیت ادارہ اپنے کرپٹ افسران کا احتساب کرنے میں نہ صرف ناکام ہوئی ہیبلکہ ان کا تحفظ بھی کر رہی ہے۔اگر فوج بحثیت ادارہ کرپٹ افسران کی پشت پناہی نہیں کر رہی تو اب تک اس بڑے پیمانے پر کرپشن کرنے اور آئین کو پامال کرنے والے افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔‘‘ اس قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’’جرنیلوں کی تعداد ستر فیصد کم کرکیان کی لوٹ مار کی حد تک تنخواہوں اور مراعات میں بھی کمی کی جائے ڈی ایچ اے اور دیگر کمرشل ادارے جو فوج کی زیر نگرانی یا ماتحت چل رہے ہیں فورا بند کیے جائیں اور فوج کو صرف ملکی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری تک محدود کیا جائیفوج کو کسی بھی کاروباری سرگرمی میں شامل ہونے سے روکا جائے اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کو دفاعی اداروں میں ملنے والے ٹھیکوں کی انکوائری کروائی جائے‘‘ میرے خیال میں اس زہریلی اور شرمناک قراردراد کی منظوری کسی بڑے کی آشیر باد کے ناممکن ہے۔۔۔اس شرمناک قراداد کو آزادی اظہار کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔۔۔کیونکہ یہ مخض ایک قرارداد نہیں ہے بلکہ یہ آرمی چیف کے ساتھ ساتھ پورے فوجی ادارے کے خلاف ایک زہریلی اور شرمناک مہم ہے اور اسے اگر بلیک میلنگ بھی کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔۔۔یہ گھٹیا حرکت کرنے والے جانثاروں کی پشت پناہی کا سلسلہ بڑے عرصے سے جاری تھا۔۔۔ان جانثاروں نے عدالتوں کو تالے لگائے ۔۔۔ججز پر جوتیاں پھینکی گئیں ۔۔۔ پولیس اہلکاروں کو کھلے عام تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔۔۔مگر ان کے چیف کیجانب سے ان کی معمولی سی سرزش تک نہ کی گئی۔۔۔پیپلز پارٹی کے باغی’’ فیصل رضا عابدی سے تلخ و تند سوالات کرکے الیکٹرانک میڈیا کے اینکرز یہ پوچھتے ہیں کہ’’انہیں ایوان صدر کی پشت پناہی حاصل ہے‘‘ وہ بیچارہ کہتا کہتا تھک گیا ہے کہ ’’ میں اکیلا ہوں مجھے کسی کی حمایت اور پشت پناہی حاصل نہ ہے مگر آزاد میڈیا کے آزاد اینکرز اس کا موقف تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔۔۔اب بھی کیا یہی کہا جائیگا کہ اسلامآباد اور راولپنڈی کے کالے کوٹو ں والے جانثاروں کو کسی بڑے کی حمایت حاصل ہے۔۔۔اور ان جانثاروں کی پشت پناہی کون کر رہا ہے؟اس راز پر سے پردہ ضرور سرکنا چاہئے اور اپنی افواج کے خلاف اس شرمناک اور گھٹیا مہم کے پیچھے کیا مقاصد کا فرما ہیں؟اس قرارداد کے پیچھے چھپے ہوئے ’’میر جعفروں اور میر صادقوں کو بے نقاب ضرور ہونا چاہئے ورنہ ان کے حوصلے بڑھتے جائیں گے اس لیے انہیں لگام دینا انتہائی لازمی ہے ’’انصار عباسی‘‘ کو اس بات کا کھوج ضرور لگانا چاہئے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی بار ایسوسی ایشنز کی متفقہ طور پر منظور کردہ اس شرمناک قرارداد کے پیچھے کون لوگ ہیں جو فوج کے خلاف یہ زہریلی قرارداد لیکر آئے۔اور قوم کو بتائیں کہ یہ’’ ننگ دین اور ننگ وطن کون ہیں۔۔۔ان میر جعفروں اور میر صادقوں کا تعلق ریڈ زون میں قیام پذیر اہم شخصیت سے کیا ہے؟۔۔۔ ورنہ مخض اپنے دل کی آرزؤں کی تکمیل کی خاطر ریڈ زون میں قیام پذیر کسی شخصیت کو مورد الزام ٹھہرانا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔۔۔چیف تیرے جانثار بے شمار بے شمار۔۔۔ کچھ زیادہ ہی اپنی حد سے بڑھ رہے ہیں۔۔۔ان بے شرم اور بے حیا جانثاروں کو لگام دیجئے یہی ملک وقوم کے مفاد میں ہے اسی میں آئین کی پاسداری ہے

یہ بھی پڑھیں  لاڑکانہ میں بھٹو کی برسی پرہونے والا جلسہ منسوخ

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. Anwar Abbas Anwar sahib kamal kia hi aap ney….sab suchi batien likh di hien ….yahee Haqeeqi sahafat hi…..mager zara taqatwaron sey bach bacha key…kahee such likhtey likhtey jail na chaliey jana

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker