بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

افضل گورو ۔۔۔اب ہر گھر سے گورو نکلے گا!!!

bashir ahmad mirاللہ تعالیٰ نے اپنے سوائے ہر جاندار کو فانی حیثیت دیکر دنیا میں لایا ،انسان کو اشرف المخلوق کا درجہ دیا اور خلافت سے نوازہ ،زندگی کو جس قدر حسین اور اپنی قدرت کاملہ سے ممتاز کیا یہ اسی رب العزت کا کمال و جمال ہے،مگر زندگی کو جتنا عمدہ درجہ دیا اتنی ہی قلیل مدت بھی ساتھ مقرر کر دی۔بہت مختصر زندگی اور اس کے تقاضے بھی کافی محنت طلب رکھ دیئے۔اسلام نے عمدہ زندگی گذارنے کا درس دیا،اخلاق و اعمال کا تعین کر کے زندگی کو حسین مرکب بنایا۔امن کا اولین درس یہی تقاضہ کرتا ہے کہ ہم حق و انصاف کے لئے پرامن جہد مسلسل جاری رکھیں چاہئے اس کے لئے جان کا نذرانہ بھی دینا پڑے۔دنیا میں بے شمار ایسی شخصیات گذر چکی ہیں جن کی زندگی ان کی موت کے بعد شروع ہوئی انسانی آبادی کے تناسب سے یہ اعزاز بہت کم لوگوں کو نصیب ہوا ،جہاں مظلوم کی یاد رہتی دنیا تک جاری رہے گی ویہیءں ظالم کو بھی نشان عبرت کے طور سامنے رکھا جاتا ہے۔بہر حال زندگی کی آخری ہچکی سارے اوصاف کا مجموعہ ہے۔
اب آتے ہیں موضوع بحث پر جس کے لئے قارئین کو زحمت دی ہے ۔9فروری اب تاریخ کا یاد گار دن بن چکا ہے ،اس دن نے اب ہزاروں گرو پیدا کر دیئے ہیں بھارت لاکھ جتن کرئے اب یہ خون کبھی بھی بھلایا نہیں جا سکے گا جو 9فروری 2013کی صبح 8بجے عظیم دانشور محمد افضل گورو کو پھانسی دیکر بھارتی حکمرانوں نے اپنی انا اور بے انتہاء ظلم سے رقم کیا۔افضل گرو کون تھا ۔۔؟ یہ اجمل قصاب نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام بن چکا ہے۔بھارت نے بہت جلد بازی اور سطحی مفاد کے پیش نظر ایک ایسے انسان کی جان لی جو شاہد زندہ رہتا تو بھارت کا کوئی نہ بگاڑ سکتا مگر اب پھانسی کا رسہ چوم کر اس نے تحریک کو نیا رخ دے دیا ہے ،اب بھارت نے دہشتگردی کو فروغ دینے میں کھل کر مدد کر دی ہے جیسا کہ ذرائع بتاتے ہیں کہ طالبان کشمیر کا رخ کر سکتے ہیں اس المناک واقعہ کے بعد انہیں محفوظ راستہ فراہم کرنے میں بھارت نے خود بڑی غلطی کی جیسے اگر سابق صدر پاکستان لال مسجد پر فاسفورس بمباری نہ کرتا تو آج پورا پاکستان خود کش اور بم حملوں کی ذد میں نہ آتا ،اسی طرح بھارتی صدر پرناب مکھرجی نے ایک ایسے شہری کو تختہ دار پر چھڑا دیا جس کے ردعمل میں جو بھی ہو گا اب بھارت کو بھگتنا پڑے گا۔
عظیم دانشور افضل گورو معتدل مزاج ،امن پسند اور محب الوطن شخصیت کے حامل تھے ان کا ذہین صاف اور عوام دوست تھا ،وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور میڈیکل کا کاروبار کر رہے تھے ۔ان کا خاندانی پس منظر متوسط سطح کا ہے ،ویلی کے شمالی علاقہ سوپور کے قریب جاگیر دوآب گاہ کا رہنے والا جوان عام شہری تھا جس کا مقصد کشمیریوں پر بھارتی مظالم بند کرنے کے سوا کچھ نہ تھا ،اگر سچی بات کی جائے تو افضل گورو کو مخالف ذہین بنانے میں بھارتی افواج کے کردار کو ذمہ دار ٹہرانا مناسب ہوگا۔جب زندگی مشکل تر بنا دی جائے تو ردعمل کا ہونا فطری بات ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر افضل گورو جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکن تھے مگر وہ آخر تک امن کو ترجیج دیتے آئے ہیں،13دسمبر 2001کو بھارتی پارلیمنٹ پر فدائی حملے میں ان کی کوئی واضح شہادت سامنے نہیں آئی بلکہ بھارتی سپریم کورٹ کے وکیل کامنی جیسوال نے ان کی پھانسی پر جو ردعمل ظاہر کیا اس کے مطابق گورو کی سزائے موت کا پروانہ غیر انسانی سلوک روا رکھے جائے بغیر کچھ بھی نہیں تھا۔جو شخص روزگار زندگی چلانے کے لئے بینک آف امریکہ میں ملازمت کر سکتا ہو ،جو اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لئے میڈیسنز کی سپلائی کرتے ہوئے گرفتار کیا جائے تو کون احمق بھارت کے امتیازی سلوک کو درست قرار دے گا۔۔؟
بھارت کے اس بہمانہ قتل کا قرض چکانے کے لئے جہادی تنظیموں نے جس ردعمل کا اظہار کیا ہے اس سے امن کوششیں ناصرف بے نتیجہ ثابت ہونگی بلکہ اب جو خون کی ہولی کھیلنے کے خدشات ہیں اس کے تنائج بھارت کو کشمیر سے نکلنے میں آکسیجن سے کم نہیں ہو سکیں گے۔11فروری قائد حریت محمد مقبول بٹ کی پھانسی سے جو حالات پیدا ہوئے اس سے بھارت نے سبق نہیں سیکھ پایا۔اب افضل گورو کو شہید کر کے بھارت نے کشمیریوں کو جگا دیا۔عوام سوچتی ہے کہ بھارت کے سابق وزیرعظم راجیو گاندھی اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے قاتلوں کو سزائے موت نہ دینا کیا کھلا تضاد نہیں ،ایک طرف بھارت کی کوشش ہے کہ اسے پسندیدہ ملک تسلیم کیا جائے جبکہ دوسری طرف بھارت نے کنٹرول لائن کی کھلی خلاف ورزیوں کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے ،اسی طرح 8لاکھ فوج کے سہارے جموں کشمیر کے بڑے حصہ پر جابرانہ تسلط جما رکھا ہے ،کیا بھارت کو پسند کرنے کا یہی انداز کار گر ہو سکتا ہے ۔۔؟ مستقبل بین تو یہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر افضل گورو کی روح اب ہر کشمیری کے ساتھ جڑ چکی ہے ایسے حالات میں کب تک بھارت اہنے فوجیوں کے سہارے کشمیر پر قبضہ جاری رکھ سکتا ہے۔اب ہر گلی کوچہ سے یہی صدا آ رہی ہے ،انتقام ،انتقام ،انتقام ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا بھارت آمدہ حالات کا مقابلہ کر سکے گا ؟ بھارتی حکمرانوں اور منصوبہ بندوں نے خطرناک کھیل کا آغاز کر لیا ہے ۔
گورو کے قتل کے بعد بھارت نے از خود دہشگردی کی جنگ کو ناکام کر دیا ہے۔جو کام دہشتگرد نہ کر سکے وہ بھارتی حکمرانوں نے کر دکھایا۔اب بھارت کہاں کہاں اپنی صفائیاں دے گا ۔بے گناہ انسانوں کا عدالتی قتل بھارت کو بہت مہنگا پڑے گا۔چاہئے بھارت اس بارے ہزار دلائل پیش کرئے ،یہ امر حقیقت پر مبنی ہے کہ ہر ظلم کے بعد نیا سویرا طلوع ہوتا ہے ،بھارتی حکمرانوں نے اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لئے ایک بے گناہ کشمیر ی کا عدالتی قتل کیا جس سے دنیا بھر میں اس مذموم فیصلہ کے خلاف آواز بلند ہونا اور تحریک آذادی کو نئی سمت ،روح اور جذبہ ملے گا جو آذادی کی صورت میں نمودار ہو کر رہے گا۔آخر پر افضل گورو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان اشعار پر اختتام کرتا ہوں کہ
میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
اسے خبر ہی نہ تھی ،خاک کیمیا تھی مری
میں چپ ہوا تو وہ سمجھا کہ بات ختم ہوئی
پھر اس کی تو آواز جا بجا تھی مری
جو طعنہ زن تھا مری پوشش دریدہ پر
اسی کے دوش پہ رکھی ہوئی قبا تھی مری
اپنے عظیم شہداء کے نام۔۔۔۔۔۔
تنگ تھی آب و ہوا ،در پے آذاد تھے لوگ
ہم نے اس وقت بھی اس شہر سے ہجرت نہیں کی
اپنے حال دل کے نام ۔۔۔۔۔۔
ہماری دربدری کا ماجرا ہے کہ ہم
مسافروں کی طرح اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

یہ بھی پڑھیں  ورلڈ کپ فٹ بال میں آج تین میچز کھیلے جائیں گے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker