شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / آغاز اچھا ہے ۔

آغاز اچھا ہے ۔

تحریک انصاف کو 22 سالہ جدوجہد کے بعد ملنے والے مقام کے بعد پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کے بحیثیت وزیراعظم موقف اور فیصلوں سے بظاہر تو یوں لگ رہا ہے کہ ’’آغاز اچھا ہے‘‘ ۔ اس ضمن میں ان کا سب سے زیادہ متاثر کن رویہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کے خلاف ردعمل کی صورت میں دیکھنے میں آیا جس کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ ہالینڈ کے ملعونوں کو مقابلہ منسوخ کرنا پڑا ۔
عمران خان نہ صرف پاکستان کے بلکہ غالباً مسلم دنیا کے بھی واحد ریاستی سربراہ ہیں جس نے ان خاکوں کے خلاف عوام کے نمائندہ فورم سے آواز بلند کی ، اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور معاملے کو عالمی سطح پر لے جا کر اس کے حل کیلئے ممکنہ اقدامات کرنے کا اعلان کیا ۔ ان سے قبل پاکستانی تاریخ میں آج تک کسی حکمران کو یہ جرات نہ ہو سکی کہ وہ اس پر واضح موقف اپنا سکے لیکن عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم سٹینڈ لیا اور ٹھوس رائے اپنائی ۔۔۔ نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے پاکستان کو مسلم امہ کی امنگوں کا ترجمان ثابت کرکے سربراہ مملکت ہونے کا حق بھی ادا کیا ۔ وہ لوگ جو عمران خان کو یہودی لابی کا ایجنٹ کہا کرتے تھے ، اس اقدام سے عمران خان کا یہ تاثر بھی زائل ہوا اور لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ ایک پکا اور سچا مسلمان بلکہ دوسروں سے بہتر حکمران بھی ہے ۔ وگرنہ آج سے قبل تک ایسے معاملات پر اسمبلیوں میں صرف قراردادیں پاس ہوا کرتی تھیں یا پھر سڑکوں سے احتجاج ہی دکھائی دیتا تھا ، مگر حکمرانوں کی طرف سے براہ راست کوئی لفظ نہیں بولا جاتا تھا ۔۔۔ دوسری طرف آج تک ہمارے کسی وزیر خارجہ نے بھی متعلقہ ملک کے ہم منصب سے رابطہ کرکے اس ضمن میں تحفظات کا اظہار کیا اور نہ ہی پاکستانیوں کے جذبات ان تک پہنچاتے ہوئے کوئی احتجاج ریکارڈ کروایا ۔۔۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے یہ بھی کیا ۔ یعنی ہمارے بعض طبقات تحریک انصاف کی سوچ کو جس طرح لبرل اور پاکستانی معاشرے سے متصادم کہا کرتے تھے ، سربراہ پی ٹی آئی کے موجودہ رویے نے ان تمام تحفظات کی نفی کرتے ہوئے ایک تاریخی کریڈٹ لیا ہے ۔۔۔ تاہم مجھے امید ہے کہ ہمارے مذہبی طبقے کو یہ کریڈٹ ہضم نہیں ہو رہا ہوگا ۔ لیکن یہ توفیق اور خاص کرم کی بات ہے ، جس کسی کے حصے میں آ جائے ، وہی امر ہوتا ہے ۔ شاید اسی لئے کسی مذہبی یا سیاسی طبقے نے وزیراعظم عمران خان کے ایوان بالا کے فورم سے ہونے والے اس خطاب اور پالیسی بیان کو نہیں سراہا ۔ سب کی زبانیں گنگ ہیں ۔
سابقہ حکمرانوں کی دلچسپیاں اور ترجیحات ذاتی مفادات سے وابستہ تھیں ، مگر موجودہ حکومت کی سوچ قطعی مختلف اور منفرد ہے ۔ عمران خان نے بہت خوبصورت بات کہی کہ جب انہیں کسی غیر ملکی دورے میں ملک کا فائدہ نظر آئے گا تو ضرور جائیں گے وگرنہ خوامخواہ دورہ جات کرکے پیسہ اور وقت برباد نہیں کرنا چاہتے ۔ اور بلاشبہ یہ بات درست بھی ہے کہ جب آپ کچھ سمیٹ کر نہیں لا رہے تو غیر ملکی سربراہوں سے خالی خولی ملاقاتیں کرنے یا ’’فوٹو سیشن ایم او یوز‘‘ کرنے کا کیا جواز ہے؟ ۔۔۔ ہم اگر نواز شریف کا بحیثیت وزیراعظم دور دیکھیں تو انہوں نے 2013 سے 2017 کے دوران 64 غیر ملکی دورے کئے جن پر مجموعی طور پر ایک بلین سے زائد لاگت آئی ۔ ہم پہلے ہی مقروض قوم ہیں اور تیسری دنیا سے تعلق رکھتے ہیں ، یعنی غیر ترقی یافتہ ممالک میں شمار ملک کے سربراہ کا لاؤ لشکر سمیت ایک بلین سے زائد رقم محض سیر سپاٹوں یا ’’سجدہ ریزی‘‘ پر خرچ کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں تھا ، جب تک کہ اس کا براہ راست ملک اور قوم کو فائدہ نہ ہو رہا ہو ۔ اس ضمن میں عمران خان کا موقف انتہائی قابل تحسین ہے کہ وہ جب بھی دورہ کریں گے صرف اور صرف ملکی مفاد کو مقدم رکھیں گے اور انتہائی مختصر اور صرف متعلقہ ذمہ داروں پر مشتمل وفد ہمراہ لے کر جائیں گے ۔۔۔ بلاشبہ ایک پسماندہ ملک کے سربراہ کی سوچ ایسی ہی ہونی چاہئے ۔ ہمیں سابق حکمرانوں کے بادشاہانہ طرز عمل نے ہی اس دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے کہ آج ہمارا ہر پیدا ہونے والا بچہ ہزاروں روپے کا مقروض ہے ۔
مجھے عمران خان کی دور اندیشی نے اس حوالے سے بھی بہت متاثر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی رننگ ٹیم میں ان لوگوں کو بھی شامل کیا جن کے بارے میں اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ کبھی حکومت میں آ سکیں گے ۔ انہوں نے ایسے ایسے اتحادیوں کو حکومتی عہدے دئیے ہیں جن کی اپنی تو کیا ، پارٹی کی بھی کوئی ویلیو نہیں تھی ۔۔۔ اور ایسے ایسے لوگوں کو بھی ’’تکلیف دہ عمل‘‘ سے گزارا ، جنہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا گذشتہ کئی دہائیوں سے کسی نہ کسی بہانے سے حکومت کے ساتھ چمٹے رہنے کو بنا رکھا تھا ۔ مجھے اس منجھے ہوئے اور معتبر سیاستدان پر بہت ترس آتا ہے جسے ایک طویل عرصہ بعد اقتدار سے دور رہنا ہضم نہیں ہو رہا ، اور داخلِ اسمبلی ہونے کیلئے کسی زخمی شیر کی طرح دھاڑے چلے جا رہا ہے ، اس نے الیکشن نہ ماننے اور ری الیکشن کیلئے بیشتر حلیفوں اور حریفوں کو ساتھ ملانے سمیت بہت سے حربے استعمال کر کے دیکھ لئے ہیں ، لیکن مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہاں تک کہ آخری حربے کے طور پر صدارتی الیکشن بھی لڑ کر دیکھ لیا ، مگر سبکی ہوئی ۔ حالانکہ یہ اقدام اس کی شخصیت کے شایان شان نہیں تھا ، لیکن انہوں نے اپنے وقار کو بالائے طاق رکھ کر ایوان زیریں میں ’’اِن‘‘ رہنے کا یہ طریقہ بھی آزما لیا اور ناکام ہوئے ۔ موصوف کے ساتھ پہلی مرتبہ قسمت نے یہ کھیل کھیلا ہے ، لیکن حضور کچھ دن اسمبلی سے باہر رہنے کی بھی عادت ڈالئے ۔ یہ فضا بھی بہت آپ کی صحت پر بہت خوشگوار اثرات مرتب کرے گی ۔
عمران خان نے امریکہ کے خلاف بھی جو موقف اپنایا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔ ماضی میں ہمیں پتھر کے دور میں دھکیلنے کی دھمکی پر لم لیٹ ہو جانے کی مثال یاد ہے ۔۔۔ امداد بند کرنے کا ڈراوا دے کر اپنی بات منوانے کی مثالیں بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہیں ۔۔۔ دنیا سے علیحدہ ، تنہا کر دینے کی دھمکی بھی ہمیں یاد ہے اور اس پر امریکہ کے آگے جھک جانا بھی ہم نہیں بھولے ۔۔۔ لیکن نئے وزیر اعظم نے پہلے ہی رابطے پر ملک کا وقار مقدم رکھا ، مستقبل میں اس کے بلاشبہ مثبت نتائج دیکھنے کو ملیں گے ۔
نئے وزیراعظم نے بہت سے ورکرز کو پارٹی سے طویل وابستگی کا بھی انعام دیا ہے ، کسی کو وزارت ، کسی کو اسمبلی رکنیت کی صورت میں نوازا ۔۔۔ بالخصوص لمبے عرصہ سے پارٹی کے ساتھ وابستہ خواتین کو مخصوص نشستوں پر اسمبلی رکنیت دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔ جو خواتین پہلے ایم پی اے تھیں ، انہیں ایم این اے لایا گیا ، جو پہلے ہی اسمبلی میں تھیں ، انہیں دوبارہ موقع دیا ، جو کہیں نہیں تھیں انہیں بھی اسمبلیوں میں نمائندگی دی گئی ۔ ڈاکٹر یاسمین راشد ، عندلیب عباس ، ڈاکٹر سیمی بخاری ، صادقہ صاحبداد ، شمسہ علی ، فرح آغا ، شاہدہ ملکہ اور ایسے ہی کئی نام ہیں جنہیں دیرینہ وابستگی پر یوں آگے لایا گیا اور صوبائی یا قومی اسمبلی میں نشست دی گئی ۔
عمران خان ایک ویژن کے تحت حکومت میں آئے ہیں ۔ کرنے کو بہت سے کام ہیں اور ان تمام چیلنجز سے وہ خود بھی آگاہ ہیں اور ان سے نبٹنے کا نہ صرف بارہا اظہار کر چکے ہیں ، بلکہ اس مناسبت سے اقدامات شروع بھی کئے جاچکے ہیں ۔ سو آغاز بہت اچھا اور پُرعزم ہے ۔ دعا ہے کہ یہ بہتر سے بہترین کی طرف جائے ۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اب تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان کو بطور وزیراعظم تسلیم کر لیا جائے ۔ بھول جائیں دھاندلی ہوئی یا جھرلو پھرا ۔۔۔ اب وہ کچھ نہیں ہو سکتا جو آپ چاہتے ہیں ۔ نئی ٹیم ہے ، پُرعزم ہیں اور کچھ کر کے دکھانا چاہتے ہیں ۔۔۔ لہذا حکومت کے اقدامات کو سراہیں ، اس کا ساتھ دیں ، جہاں اسے منشور سے ہٹتا دیکھیں گرفت کریں ، وگرنہ برداشت کریں اور کام کا موقع دیں ۔

یہ بھی پڑھیں  قومی اسمبلی میں مفت اور لازمی تعلیم کا بل منظور