شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / اے اللہ ہمیں اس صحابیؓ جیسے حکمران عطاء فرما

اے اللہ ہمیں اس صحابیؓ جیسے حکمران عطاء فرما

خلیفتہ المسلمین سیدنا عمرفاروق رضی اللہُ عنہ کچھ دنوں سے اس فکر میں تھے کہ حمص شہر کی گورنری کے لیے کس کا انتخاب کیا جائے کیونکہ حضرت عباسؓ بن غنمؓ(گور نر حمص)کی وفات کے بعدبہت خلا پیدا ہوچکا تھا۔اچانک ایک دن حضرت سعید بن عامررضی اللہُ عنہ حضرت عمر رضی اللہُ عنہ سے ملاقات کے لیے تشریف لائے ان کو دیکھتے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا چہرہ خوشی سے چمک اٰٹھا۔ حضرت عمر رضی اللہُ عنہ صدیق اکبررضی اللہُ عنہ کی طرح حضرت سعید بن عامررضی اللہُ عنہکی بہت عزت کرتے تھےٍ اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی ﷺ نے جب رحلت فرمائی تو آپ ﷺ حضرت سعید بن عامررضی اللہُ عنہ سے بہت خوش تھے حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے آتے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چند نصیحتیں کیں۔فرمایا اے عمرؓ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے کندھوں پر اُمت کا بوجھ ڈالا ہے ان کے لیے وہی پسند کرنا جو آپؓ کو اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے پسند ہو۔اور ان کے لیے وہ نا پسند کرنا جو اپنے گھر والوں کے لیے نا پسند ہو۔لوگوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں لوگوں سے نہ ڈرنا۔ تمہارے قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے۔انسان کی بہترین بات وہی ہوتی ہے جس کی تصدیق اس کا دل کرے۔راہ حق پر مضبوطی سے جمے رہنا شدائد کا مقابلہ کرنے سے نہ گھبرانااس کے علاوہ آپؓ نے اور بھی نصیحتیں کیں ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑے غور سے سنا ۔اور آخر میں فرمایا کہ اے سعیدؓ میں آپ کو حمص کی گورنری کے لیے بھیجنا چاہتا ہو۔سیدنا عمرفاروق رضی اللہُ عنہ کا فرمان سن کر حضرت سعیدؓ تڑپ اُ ٹھے اور عرض کیا امیرالمومنین اللہ کے لیے مجھ پر رحم کیجئے مجھے اس فتنہ میں نہ ڈالیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کا جواب سنتے ہی غصے سے بولے افسوس ہے آپ لوگوں نے میری گردن پر تو خلافت کا بوجھ ڈال دیا ہے اور خود اس سے کنارہ کش رہنا چاہتے ہیں۔اللہ کی قسم میں آپ کو ہرگز نہیں چھوڑو ں گااور اس کے ساتھ ہی آپ کو (حمص ) کا گورنر مقرر کر کے وہاں جانے کا حکم دیا اور یہ بھی فرمایا اے سعیدؓ میں تمہارا کچھ وظیفہ مقررکروں گاجس پر حضرت سعیدؓ نے عرض کیا جو مجھے بیت المال سے ملتا ہے وہ میرے لیے ضروریات سے زیادہ ہے یہ فرماکرآپ(حمص)کی طرف چل دیے۔کچھ عرصہ کے بعد حضرت عمرؓان علاقوں کے دورہ پر آئے تو حمص کے لوگوں سے ملاقات کی اورفرمایا اپنے شہر کے غرباء کی ایک فہرست تیار کر کے دو تاکہ ان کا کچھ وظیفہ مقرر کرسکوں۔لوگوں نے جب فہرست تیار کی تو اس میں اپنے گورنر کا نام بھی لکھ دیا حضرت عمرؓ فہرست پڑھتے ہوئے جب سعید بن عامرؓ کے نام پر پہنچے تو پوچھا !یہ کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا یہ ہمارے امیر ہیں حضرت عمرؓ نے حیرت سے پوچھاتمہارا امیرفقیر ہے لوگوں نے عرض کیاجی ہاں!پوچھا اس کو جو وظیفہ ملتا ہے ؟عرض کیا وہ اس کو ہاتھ نہیں لگاتے بلکہ غرباء میں تقسیم کر دیتے ہیں حضرت عمرؓ نے یہ سنا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور روتے روتے آپکی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی آپ نے فوراً ایک ہزار دینار کی تھیلی دی اور فرمایا اپنے امیر کو میرا سلام کہنااور یہ تھیلی ان کو دے دینا اور یہ کہنا کہ یہ آپ کے امیر نے بھیجی ہے۔جب تھیلی حضرت سعیدؓ کو ملی تو فوراً پڑھنے لگے اناللہ وانا الیہ راجعون بیوی نے پوچھا کیا ہوا ؟ فرمایا بہت بڑا حادثہ ہو گیا ہے پوچھا کیا امیرالمومنین وفات پاگئے ہیں ۔کہا اس سے بڑا حادثہ ہوگیا ہے کسی محاذ پر مسلمانوں کو شکست ہو گئی ہے ۔فرمایا اس سے بھی بڑا حادثہ ہوگیا ہے پوچھا اس سے بڑی بات کیا ہو سکتی ہے ؟ سعیدؓ فرماتے ہیں یہ دنیا میرے گھر آ گئی ہے تاکہ میری آخرت برباد ہو جائے عرض کیا آپ اس سے چھٹکارا حاصل کر لیںآپ نے فوراً ان دیناروں کو غریب لوگوں میں تقسیم کر دیا ۔امیرالمومنین سیدنا عمر فاروقؓکی یہ عادت تھی کہ آپؓ وقتاً فوقتاً ،اپنے اعمال کا احتساب کرتے تھے
اور لوگوں سے ان کا حال دریافت کرتے رہتے تھے ۔ ایک دفعہ ( حمص) کے لوگوں نے آپؓ سے اپنے امیر حضرت سعیدؓ کی چار شکایتیں کیں۔ 1 جب تک کافی دن نہیں نکل آتا حضرت سعیدؓ گھر سے باہر نہیں نکلتے۔2 رات کو آواز دیں تو جواب نہیں دیتے۔3ؓ وقتاً فوقتاً انہیں جنوں کے دورے پڑتے ہیں۔4، مہینے میں ایک دن گھر سے باہر نہیں نکلتے۔امیرالمومنین نے تحقیق کے لیے آپ کو طلب کیا اور ساتھ یہ دعا بھی مانگی کہ الہیٰ حضرت سعیدؓ کے بارے میں میرے نیک گمان کو غلط نہ کرنا۔ حضرت سعیدؓ جب آئے تو اس حال میں تھے کہ ایک ہاتھ میں عصا زادراہ لٹکانے کے لیے اور ایک ہاتھ میں پیالہ کھانے کے لیے اور کپڑے جو آپ کے جسم پر تھے ان میں پیوند لگے ہوئے تھے ۔امیرالمومنین نے فرمایا بس تمہارے پاس کُل یہی سامان ہے عرض کیا اس سے زیادہ کی مجھے حاجت نہیں فرمایا اے سعیدؓ تمہارے بارے میں اہل حمص نے یہ شکایتیں کی ہیں تمہارے پاس ان کا کیا جواب ہے۔ حضرت سعیدؓ نے کہا کہ میں ان کا جواب دینا پسند نہیں کرتا مگر آ پؓ نے پوچھا ہے تو مجبوراًعرض کر دیتا ہو۔1 صبح میں گھر سے اس لیے نہیں نکلتا کہ میرے پاس کوئی خادم نہیں صبح اُٹھتا ہو گھر والوں کے لیے آٹاگوندتا ہوں پھر خمیر اٹھنے تک انتظار کرتا ہو ں پھر ان کے لیے روٹی پکاتا ہو ں پھر لوگوں کی خدمت کے لیے باہر نکلتا ہوں۔2 رات کوکسی کی آواز کا جواب اس لیے نہیں دیتا کہ سارا دن اللہ کی مخلوق کی خدمت کرکے گزاردیتا ہوں اپنے رب کی عبادت صحیح طرح سے نہیں کر سکتا اس لیے رات میں اپنے خالق کی عبادت کرتے گزارتا ہوں کسی کی آواز کا جواب اس لیے نہیں دیتا۔3 جو مجھے جنوں کے دورے پڑتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حضرت خبیبؓ کو پھانسی دی گئی تو میں اس مجمع میں موجود تھا حضرت خبیبؓ کی قریش کے متعلق بددعا اور میری ا سوقت موجودگی مجھے بے چین کر دیتی ہے ان کی مظلومانہ شہاد ت یاد آتی ہے تو دل دہل جاتا ہے اور میں بے ہوش ہو جاتا ہوں۔4، مہینے میں ایک دن اس لیے باہر نہیں نکلتاکہ میرے پاس کپڑوں کے زیادہ جوڑے نہیں صرف ایک ہی ہے جس کو مہینے میں دو دفعہ ضرور دھوتا ہوں پھر جب وہ خشک ہو جاتا ہے تو پہن کر باہر نکلتا ہوں اتنے میں کافی دن گزرجاتا ہے اس لیے لوگوں سے نہیں مل سکتا۔حضرت سعید بن عامرؓ کے یہ جواب سن کرا میرالمومنین سیدنا عمر فاروقؓ کا چہرہ خوشی سے چمک اُٹھااور بولے اللہ کا شکر ہے تیرے متعلق میرے نیک گمان کو اللہ تعالیٰ نے غلط نہیں ہونے دیا اب واپس جاؤ اور لوگوں کی اسی طرح خدمت کرو،حضرت سعیدؓ نے عرض کیا مجھ سے اب یہ بوجھ نہیں اُٹھایا جا تا مجھے سبکدوش کر دیجیے ا میرالمومنین نے فرمایا اللہ کی قسم میں ہرگز ایسا نہ کرو ں گا شریعت میں امیر کی اطاعت واجب ہے اس لیے آپ واپس مجبوراً(حمص) چلے گئے مگر وہاں جا کر زیادہ عرصہ زندہ نہ رہے تھوڑے ہی عرصہ بعد اپنے مالک حقیقی سے جا ملے، اناللہ وانا الیہ راجعون۔یا اللہ اپنے ان پر اسرار بندوں کی قبروں کو نور سے منور فرما ،ان پر اپنی رحمت فرما۔ اورہمیں بھی ایسے نیک حکمران عطاء فرما دے آمین ثمہ آمین۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ پولیس کا جوئے کے اڈا پر چھاپہ تین قمار باز گرفتار تین فرار

کوئی تبصرہ نہیں

  1.  پاک نیوز لائیو ڈاٹ کام ویب ٹیم
    asif ghafoor 
    Phone: 0332-4905829