پروفیسر رفعت مظہرکالم

کس آئین کی پاسداری؟۔۔۔۔

میری شدید ترین خواہش ہے کہ میں محترم زرداری صاحب کے آگے ’’زانوئے تلمذ تہ‘‘ کرتے ہوئے ان کی شاگردی بلکہ ’’مریدی‘‘ اختیار کر لوں کہ معلوم تاریخ میں تو مجھے ان جیسا کوئی فطین نظر نہیں آتا ۔ یہ الگ بات ہے کہ حاسد ین ان کی اس فطانت کو ہمیشہ منفی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ میں ان کی ’’مریدنی‘‘ تو بننا چاہتی ہوں لیکن اس میں کئی رکاوٹیں ہیں ۔ پہلی یہ کہ ہم جیسے درماندوں کی ’’آستانۂ عالیہ ‘‘ ﴿ایوانِ صدر﴾ تک رسائی کہاں لیکن اگر نا ممکن کو ممکن کر بھی لوں تو پھر یہ سوال دامن گیر کہ ’’مرشدِ مہرباں‘‘ کی خدمت میں کیا ’’نذرانہ‘‘ پیش کروں ؟۔ بھلے زمانے میں تو شاگردی اختیار کرنے کے لئے لوگ کچے چاولوں کی پلیٹ پر ’’ گُڑ کا ڈھیلا ‘‘ سجا کر نذرِ استاد کیا کرتے تھے لیکن اب وہ زمانے لد گئے ۔ ویسے بھی سنا ہے کہ ’’مرشد ‘‘ نے اپنا ریٹ 10% سے بڑھا کر سینٹ پر سینٹ کر دیا ہے ۔ ہم تو 10% دینے سے بھی کنی کتراتے تھے اب بھلا عمر بھر کی ’’جمع پونجی‘‘ نذر کرنے کا حوصلہ کہاں سے لائیں ؟۔ اپنی ایک ہمراز سے اس گھمبیر مسلٔے پر مشورہ چاہا تو وہ لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ لاتے ہوئے یہ کہہ کر چلی گئی کہ
چند تصویرِ بُتاں ، چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے میرے گھر سے یہ ساماں نکلا
پتہ نہیں وہ نا ہنجار کیا کہہ گئی ، اپنے پلے تو کچھ نہیں پڑا ۔ اگر میرے معزز قارئین کو کچھ سمجھ آئی ہو تو ضرور آگاہ کریں وگرنہ نقصان ان کا اپنا ہی ہو گا کہ میں اس گو مگو میں کچھ لکھ نہ پاؤں گی اور قارئین ایک ’’عظیم لکھاری ‘‘ کی صلاحیتوں سے مستفید ہونے سے رہ جائیں گے ۔
میرے ذہن میں ایک اور خیال بھی پک رہا ہے جو باوجودیکہ اچھی طرح ’’بھُن ‘‘ کر خوشبو تو نہیں دینے لگا پھر بھی رائے عامہ کے لئے ’’افشائے خیال‘‘ کر رہی ہوں کہ کیوں نہ جنابِ زرداری کا پیچھا چھوڑ کر محترم یونس حبیب کی شاگردی کا شرف حاصل کیا جائے کہ ایک تو ان سے ملنا دشوار نہیں ۔ محترم آج کل اکثر سپریم کورٹ کا طواف کرتے نظر آتے ہیں اور دوسرے وہ یقیناََ زرداری صاحب سے زیادہ ’’پہنچے‘‘ ہوئے ہونگے ۔ تبھی تو زرداری صاحب انہیں ’’چاچا‘‘ کہتے ہیں وگرنہ کہیں ایک ’’پیر‘‘ کبھی دوسرے ’’پیر‘‘ کی کرامات کا یوں برملا اعتراف کرتا ہے ؟۔ عوام نے ان کی بزرگی کی ایک جھلک تو دیکھ ہی لی ہو گی کہ ’’بھتیجا‘‘ تو کبھی کبھار مخصوص اداروں سے چھیڑ چھاڑ کرتا تھا لیکن ’’چاچے‘‘ نے تو پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ اب آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟۔
کبھی کبھی دل میں یہ خیال انگڑائیاں لینے لگتا ہے کہ کیوں نہ محترم گیلانی صاحب کو آزما لوں لیکن فوراََ ہی اس ’’مردود خیال‘‘ کو ذہن سے جھٹک دیتی ہوں کہ مجھے ’’قُربانی کی بکری‘‘ بننے کا ہر گز شوق نہیں جب کہ گیلانی صاحب خراماں خراماں قُربان گاہ کی جانب گامزن ہیں ۔ ﴿ ان استحصالی مردوں نے محاوروں میں بھی اپنا ہاتھ اونچا ہی رکھا ہے ۔ بھئی اگر قربانی کا بکرا ہو سکتا ہے تو بکری کیوں نہیں ۔﴾ پھر یہ بھی تو ہے کہ گیلانی صاحب کی طرح میرا کوئی بیٹا قومی یا صوبائی اسمبلی کا رُکن بھی تو نہیں جو میری گدی سنبھال کر میری تشنہ خواہشات کی تکمیل کر سکے ۔ فردوس عاشق اعوان ، بابر اعوان ، فوزیہ وہاب ، راجہ ریاض اور اس قبیل کے دیگر ’’گُرگوں‘‘ سے چونکہ میں خود زیادہ ’’پہنچی‘‘ ہوئی شے ہوں اس لئے ان کی شاگردی کا سوچ بھی نہیں سکتی کہ سمندروں کی پیاس رکھنے والا بھلا ندی نالوں سے کب سراب ہوتا ہے۔ البتہ اعتزاز احسن Under Consideration ہیں کیونکہ مجھے ان میں ’’کاملیت ‘‘ کی کچھ جھلک نظر آتی ہے ۔ یوں تو میں نے ذوالفقار مرزا کے بارے میں بھی سوچا تھا لیکن ان کا ’’ڈرامہ‘‘ بہت جلد فلاپ ہو گیا ۔انہوں نے اپنے بیٹے کو PPP کے ٹکٹ پر کامیاب کروا کر یہ ثابت کر دیا کہ
’’جتھے دی کھوتی، اوتھے آن کھلوتی‘‘
حرفِ آخر یہ کہ محترم گیلانی صاحب نے بہاولپور یونیورسٹی اور میلسی کے جلسۂ عام میں جس طرح عدالت اور سیاست کو خلط ملط کرنے کی کوشش کی ہے وہ ان کے لئے ثمر آور ہے نہ ان کے ’’مہربان‘‘ کے لئے اور نہ ہی ملک و قوم کے لئے کہ 1973 ئ کے آئین کے مطابق آئین کے کسی بھی آرٹیکل کی تشریح کا حتمی اختیار اعلیٰ عدلیہ کے پاس ہے ، پارلیمنٹ کے پاس نہیں ۔اگر سپریم کورٹ کی تشریح کے مطابق خط لکھنا ضروری ہے تو پھر دُنیا کا ہر وکیل یہ کہے گا کہ ’’ہاں ضروری ہے ‘‘۔ گویا محترم گیلانی صاحب خط نہ لکھ کر اس آئین سے منحرف ہو رہے ہیں جس کی پاسداری کا انہوں نے حلف اٹھایا ہے ۔ آئین سے انحراف کی کیا سزا ہو سکتی ہے ؟ ، یہ وہ خود اور ان کے وکلائ خوب جانتے ہیں ۔ میں سمجھتی ہوں کہ بات شاید اب ’’توہینِ عدالت‘‘ تک محدود نہ رہے ۔ میں محترم گیلانی صاحب کو یہ یاد دلانا چاہتی ہوں کہ یہ وہی آئین ہے جو PPP کے بانی بھٹو مرحوم کا عطا کردہ ہے جس پر جیالے آج بھی فخر کرتے ہیں ۔ اب فیصلہ گیلانی صاحب نے کرنا ہے کہ انہوں نے قوم کے اُس متفقہ آئین کی پاسداری کرنی ہے جس کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے یا اِس آئین کی جس کی تشریح ’’ایوانِ صدر‘‘ میں کی جاتی ہے ؟۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker