احمد رضا میاںتازہ ترینکالم

اوئے !!!۔۔۔سونامی سو گئی کیا؟؟؟

سونامی ایک چھوٹی سی پیاری سی ننھی منی گڑیاکا نام ہے۔ اس گڑیا کی عمر ابھی اتنی زیادہ تو نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ شیروں کو دھاڑتی پھر رہی ہے اور تیروں کا مقابلہ کرنے کے لیئے بھی تیار ہے۔شیر بھی اس گڑیا سے کچھ سہمے سہمے سے ہیں اور تیر چلانے والے تیر انداز وں کے ہاتھ بھی کانپ رہے ہیں۔اس پیاری سی گڑیا نے بے شمار لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔اس کی ایک آواز پر لوگ جوک در جوک اپنے گھروں سے نکل کر اس کے ساتھ آ کھڑے ہوتے ہیں۔اور لوگوں کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی وجہ سے ہی اس کا سونامی پڑ گیا ہے۔ اور اب یہ گڑیا ایک مکمل سونامی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
بے ایمان ظالم کرپٹ اور ڈاکو صفت حکمرانوں سے تنگ آئی ہوئی عوام اس سونامی پر بہت زیادہ اعتماد کر بیٹھی ہے اور اللہ کرے لوگوں کا سونامی پر یہ اعتماد قائم اور دائم رہے۔۔۔اور سونامی کے دعوے بھی عوام کو مایوس نہ کریں۔۔۔سونامی نے ہر اشو پرعوام کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے اور عوام اس کی کوششوں سے بڑی حد تک بیدار ہو بھی چکی ہے۔عوام کی یہی بیداری ملک کی سلامتی کے لیئے اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ ایک انسان کو زندہ رہنے کے لیئے آکسیجن ۔۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی سے لے کر ڈروں حملوں اور نیٹو سپلائی تک سونامی نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔لاہور کراچی کوئٹہ حیدرآباد سیالکوٹ اور ملک کے دوسرے بڑے شہروں کے لوگوں نے سونامی کا بھر پور طریقے سے ساتھ دیا ہے۔سونامی نے ملکی مفادات کے خلاف کام کرنے والے حکمرانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اور بہت سارے دوسری کرپٹ پارٹیوں کے کرپٹ اراکین لوٹ مار کرنے کے بعد اب سونامی کی بدنامی بننے کے لیئے اس کے ساتھ شامل ہو چکے ہیںجس سے سونامی کا سیاسی بیڑا وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔
مہنگائی بے روزگاری کرپشن اور حکمرانوں کی بے جا لوٹ مار کے خلاف سونامی نے بہت آوازیں اُٹھائی ہیں۔ لانگ مارچ کرنے کے دعوے کیئے ہیںہر دوسرے یا تیسرے ہفتے میں ایک خبر آتی ہے کہ سونامی آ رہی ہے۔۔۔ سونامی آ رہی ہے۔۔۔ایک شور سا مچ جاتا ہے اور لوٹ مار کے ساحلوں پر بیٹھے ہوئے لٹیرے اپنا بوریا بستر سنبھالنے لگ جاتے ہیں۔اور ان چوروں اور لٹیروں سے تنگ آئے ہوئے عوام کے چہروں پر ایک مسرت سی دکھائی دیتی ہے۔اُن کی امنگوں امیدوں اور تمنائوں کو ایک نئی زندگی ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔
اس وقت عوام جس بڑے مسئلے سے دو چار ہے وہ ہے جان لیوا لوڈ شیڈنگ۔ لوڈ شیڈنگ نے تمام بڑے بڑے مسائل کو اپنے پیروں کے تلے روند ڈالا ہے۔اور پھن پھیلا کر ایک زہریلی ناگن کی طرح پوری قوم کو ڈس رہی ہے۔بیس سے بائیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کوئی معمولی لوڈشیڈنگ نہیں ہے۔ وہ تو ایک دن میں گھنٹے ہی چوبیس ہوتے ہیں اگر اڑتالیس گھنٹے کا دن ہوتا تو لوڈ شیڈنگ بھی چالیس سے چوالیس گھنٹے کی ہوتی۔۔۔گرمی کی شدت سے لوگ مر رہے ہیں پوری قوم ایک عذاب سے گزر رہی ہے ۔ لیکن حکمرانوں کو سوائے مال بنانے کے کوئی پرواہ نہیں ہے۔کیا ہوتا اگر اپنے مال بنانے میں تھوڑی سی کمی کرکے کچھ رقم بجلی بنانے پر لگا دی جاتی تاکہ لوگوں کی نیندیں تو حرام نہ ہوتیں اور لوگ اچھے لفظوں سے نہ سہی کم از کم گالیاں تو نہ دیتے ان حکمرانوں کو ۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ ان بے ضمیروں اور بے غیرتوں کو گالیاں بھی اچھی لگتی ہیں۔
لوگ تنگ آ کر گھروں سے باہر نکل آئے ہیں اور توڑ پھوڑ کر رہے ہیں ۔ مر رہے ہیں اور مار رہے ہیں۔لیکن اس کی باوجود بھی لوڈشیڈنگ میں ایک گھنٹہ تو کیا ایک منٹ کی بھی کمی نہیں آئی۔ اس بہت بڑے مسئلے کو حل کرنے کے لیئے عوام کے ساتھ کسی لیڈرشپ کا ہونا بہت ضروری ہے ورنہ عوام اکیلی کچھ بھی نہیں کر سکتی سوائے توڑ پھوڑ کرنے اور آگ لگانے کے۔اس کے لیئے ایک عدد لانگ مارچ کی ضرورت ہے ۔ اُس لانگ مارچ کی جس لانگ مارچ نےٰ چیف جسٹس کو بحال کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔اور ایسے لانگ مارچ کے لیئے پوری قوم کی نگاہیںصرف اور صرف سونامی کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ لیکن سونامی کو نہ جانے کس بات نے روک رکھا ہے۔ شائد اُسے گرمی نہیں لگتی یا پھر اُسے لوڈشیڈنگ کی ناگن سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے سونامی کے گھر کے اے سی چوبیس گھنٹے چلتے رہتے ہیںاور سونامی ان ایئر کنڈیشنز کی ٹھنڈی ٹھنڈی اور مزے دار ہوا میں سکون اور مزے کی نیند سو رہی ہے۔۔۔اور لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ۔۔۔ اوئے ۔۔سونامی سو گئی کیا۔۔؟؟؟

یہ بھی پڑھیں  ’’ضرب عضب ‘‘بنے گا ’’ضرب غضب‘‘

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker