تازہ ترینفن فنکار

احمد فراز کو مداحوں سے بچھڑے 4 سال بیت گئے

لاہور(نامہ نگار) اردو کے معروف غزل گو شاعراحمد فراز کو ہم سے بچھڑے چارسال بیت گئے تاہم اپنی تخلیقات کے سبب وہ دنیابھرمیں اردو بولنے اور سمجھنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ احمد فراز کو موجودہ دور کا سب سے مقبول غزل گو اور رومان پرورشاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔رومان اور مزاحمت پریوں تو پہلے بھی کام ہوتا رہا مگر فراز نے اس کا استعمال جس ملائمت سے کیاوہ شاعری میں انوکھا انداز ہے۔ سن انیس سو اکتیس میں پیدا ہونیوالے فرازکا پہلا مجموعہ تنہاتنہا کے نام سے شائع ہوا۔اس وقت فراز گریجویشن کررہے تھے۔پہلے ہی مجموعے نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔دوسرے مجموعے درد آشوب ،پرانہیں پاکستان رائٹرز گلڈز کی جانب سے آدم جی ادبی ایوارڈ دیا گیا۔۔فراز کا کلام علی گڑھ یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے۔ جامعہ ملیہ، بھارت اور بہاولپور میں بھی احمد فراز کے فن اور شاعری پر پی ایچ ڈی کے مقالے تحریر کئے گئے۔ ان کی شاعری کے انگریزی ،فرانسیسی ہندی،یوگوسلاوی، روسی، جرمن اور پنجابی میں تراجم ہو چکے ہیں۔سن دوہزار چار میں پرویز مشرف کے دورِ صدارت میں انہیں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا لیکن دو برس بعد انہوں نے یہ تمغہ سرکاری پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے واپس کر دیا۔پچیس اگست دوہزار آٹھ کو آسمان غزل کا یہ ستارہ سب کو اداس چھوڑگیا۔

یہ بھی پڑھیں  آپ کا ایک روپیہ اور ہزاروں افراد کا روشن مستقبل

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker