انور عباس انورتازہ ترینکالم

احساس ندامت

نیکی کے کاموں میں رغبت کم ہوتی جا رہی ہے۔اور برائی کے کاموں میں دل چسپی بڑھتی جا رہی ہے۔پہلے زمانہ میں لوگ برائی کرکے اس فکر سے لاغر ہوتے جاتے تھے کہ کہیں انکا یہ فعل اسکے گھروالوں اور یار بیلیوں پر آشکار نہ ہو جائے۔اسی لیے اگر کسی کو انکی اس بدمعاشی کی پھنک لگ جاتی تو وہ اسے ’’ترلے منتاں ‘‘ کرتا کہ خدا کے لیے میرے گھروالوں کو نہ بتانا ورنہ میری بدنامی کے علاوہ ’’ دھلائی‘‘ بھی ہو جائیگی
پچھلے زمانے میں بہت سارے میرے جیسے گھر والوں سے چھپ کر سینما دیکھنے جایا کرتے تھے۔ پی ٹی وی پر ڈرامہ دیکھتے تو بچے خود ہی اٹھ جایا کرتے تھے۔اور ایک ماہ میں دکھائی جانے والی واحد پاکستانی فلم میں کچھ ’’ ہیرو اور ہیر وئین سین میں رنگ بھرنے لگتے تو بیوی اپنے میاں سے آنکھ چراتی اور شوہر اپنی سگی بیوی سے نظریں ملانے کی ہمت نہ کر پاتا۔
پہلے زمانے میں اگر کو مسافر کسی بس ،رکشے یا ویگن کے ڈرائیور اور کنڈیکٹر کے روئیے کے خلاف ایک دس پیسے کے کورے کاغذ پر شکایت لکھ کر بذریعہ ڈاک بھیجتا تو اگلی شام کو بس ،رکشے اور ویگن کے مالکانشکایت کندہ کے گھر دو چار سفارشیوں کے لیکر پہنچ جاتا اور معافی کا خواستگار ہوتا ۔اسکے ساتھ سب کے سامنے اپنے ڈرائیور اور کندیکٹر کی بے عزتی بھی کرتا
میرے سامنے کی بات ہے کہ لڑکے گلی محلوں ’’اخروٹ‘‘ یا’’بانٹے‘‘ یا پھر شوقیہ تاش کھیلتے اور حافظ صاحب وہاں سے گزرتے تو تمام لڑکے انہیں دیکھتے ہی ’’رفوچکر‘‘ ہوجاتے یعنی اللہ کے نیک بندوں کا خوف تھا۔یا کسی لڑکے کے باپ کے دوست نے اسے رات گے کہیں گھومتے دیکھ لیا تو اس نے اگلی ملاقات پر اپنے دوست سے اسکا ذکرکچھ اس طرح کرنا کہ اسے برا بھی نہ لگے اور وہ اپنے بچے کی اصلاح بھی کر لے۔ لیکن آجکل تو بالکل الٹ ہورہا ہے۔بچے ،بوڑھے جوان سبھی ایک ہی ڈگر پر چل پڑے ہیں۔سب کے سر پر ’’سٹار پلس ‘‘ اور دیگر انڈین چینل دیکھنے کا بھوت سوار ہے۔جسقدر ہمارے کیبل آپریٹر انڈین ٹی چینل دکھا رہے ہیں اللہ کی پناہ۔خیر اس دور میں تو اپنے نجی ٹی وی چینلبھی انڈین چینلز کو بچھاڑ نے کی دوڑ میں ہیں ۔اور لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے نہ جانے کس حد تک جا رہے ہیں۔لیکن مجال ہے بیٹی کی یا بہو کی یا بیٹوں کی کہ وہ قابل اعتراض مناظر چھوڑ کر چلے جائیں۔ نہیں بابا نہیں جانا ہے تو والدین کو چلے جانا چاہئیے لیکن وہ اتنا کلرفل منظر کیونکر نہ دیکھیں ۔۔۔کیا انکے سینے مین دل نہیں دھڑکتا؟ اس لیے والدین اور جوان اور بالغ بچے بچیاں اکٹھے بیٹھ کر انڈین فحش فلمیں دیکھ رہے ہیں
ہم دور حاضر کو جدید ،تعلیم یافتہ ۔سائنس کی ترقی کا دور قرار دینے کا دعوی کرتے ہیں۔اس دور کو روشنی کے دور سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور پچھلے تیس چالیس سالوں کو جہالت کہتے ہیں۔ لیکن آج روشنی ،تعلیم ،سائنس اور ترقی یافتہ دور میں سوائے فحاشی،بے ادبی اور من مانی کے کچھ بھی نہیں ہے۔ میڈیا کے دور میں خبریں بے اثر ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ تعلیم برائے ڈگری اور ملازمت بن کر رہ گئی ہے۔جس معاشرہ میں عریانی ،فحاشی سب سے زیادہ ہوگی وہ اتنا ہی مہذب کہلاتا ہے۔بسوں ،ویگنوں ،کوچز مین اشرف المخلوقات انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونسا جاتا ہے،من مانے کرائے وصول کیے جاتے ہیں ،اکیلا کنڈکٹر احتجاج کلرنے پر ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔وہ لکھ کر شکایت کرتا ہے کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ گلی محلوں کی نکڑ پر گلی محلے کے لڑکے ہی کھڑے ہو کر لڑکیوں کو تاڑتے ہیں ،ان پر آتے جاتے آوازیں کستے ہیں ۔بزرگ سب کچھ اپنی بے عزتی کے ڈر سے خاموشی سے گذر جاتے ہیں۔سینماگھروں میں جہاں پولیس کے ایس ایچ او کی مرضی و منشا کیخلاف پتا بھی نہیں ہلتا وہاں سرعام بلیک میں ٹکٹس فروخت ہوتے ہیں ایکسائز انسپکٹر سمیت تمام ادارے خاموش تماشائی بنے کھڑے ہوتے ہیں۔ کسی گلی محلے میں منشیات ،جوا خانے اور جسم فروشی کے اڈوں کے خلاف آواز بلند کرنے پر بھلے مانس شرفاء کو لینے کے دینے پڑتے ہیں۔رشوت خور ، لینڈ قبضہ مافیا ہو یا کسی چھوٹے موٹے سرکاری اہلکار کی شکایت پر بھی شکایت کندہ کی ہی باز پرس ہوتے ہے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟ صرف اس لیے کہ ہم میں سے برائی کو برائی کہنے کا حوصلہ مفقود ہو چکا ہے۔ہم برائی اور اچھائی کی تمیز ختم ہو چکی ہے۔
ہمارے معاشرے کا اجتمائی ضمیر مردہ ہو چکاہے۔ احساس شرمندگی اور احساس ندامت ۔۔۔ندارد جدید دور کے تعلیم یافتہ پڑھے لکھے طبقات کی موجودگی میں معاشرے کا سدھرنے کی بجائے بگاڑ کی جانب گامزن ہونا انتہائی تکلیف دہ امر ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ تعلیم کی روشنی اچھائی اور برائی میں تمیز کو فروغ دیتی لیکن تعلیم کے نام پر جہالت کو پروان چڑھا جا رہا ہے۔یہ تو سب جانتے ہیں کہ جب معاشروں سے انصاف اٹھ جائے۔ تھانوں کچہریوں میں چور اچکووں ،بستہ ب کے ملزمان کو عزت سے نوازا جائے اور شرفاء کا جینا حرام کر دیا جائے تو ایسے معاشرے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔اس جدید اور روشنی کے دور میں احساس ندامت اور احساس شرمندگی کاہمارے دلوں سے رخصت ہوجانے،اور ضمیر مردہ ہونے کو میں تو گمراہی کا دور کہوں گا کیونکہ ہم اکیسویں صدی میں بھی جاہلیت کے پیروکار دکھائی دیتے ہی نہیں ہیں۔
ہم روشنی کی طرف جانے کی بجائے تباہی اور گمراہی کے گڑوں میں گرے ہوئے ہیں،اگر ہم تعلیم ،سائنس روشنی کی روشنی سے مستفیض ہونے کا متمنی ہیں ،ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں۔مہذب کہلوانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے مردہ ضمیروں کو زندہ کرنا پڑیگا۔اپنے اندر دفن ہوئے احساس ندامت اور احساس شرمندگی کو زندہ کر ہوگا۔اگر ایسا نہیں کریں گے تو لوگ ہمیں جو مرضی کہیں مہذب اور تعلیم یافتہ اور روشن خیال ہر گز ہرگز نہیں کہیں گے کیونکہ ہم میں احساس ندامت اور احساس شرمندگی نہیں ہے۔دنیا مین بدنامی سے محفوظ رہنے کے لیے ہمیں بحثیت قوم اپنے اندر احساس ندامت اور احساس شرمندگی کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button