تازہ ترینصابرمغلکالم

احساس پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز اور ٹائیگر فورس میدان میں

بھوک انسانی زندگی میں انتہائی بنیادی اہمیت کی حامل ہے دنیا کی تاریخ ایسے درجنوں واقعات سے بھری پڑی ہے جب بھوک اور پیاس سے نڈھال اور بے بس انسانوں نے خود کو موت کے منہ میں جاتے دیکھا تو انہوں نے ساتھیوں کو ہی ذبح کر ڈالااور کھا گئے،دنیا میں مجموعی طور پر فی زمانہ بھی غربت کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے ترقی یافتہ پذیر ممالک کو ترقی یافتہ ممالک نے اپنے سودی نظام میں بری طرح جکڑ رکھا ہے،مگر آج کرونا وائرس نے کے قہر نے کرہ ارض پر پوری انسایت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سب سے متاثرہ ممالک بھی وہی ہیں جنہوں نے بظاہر انسانی حقوق کا علم بلند کررکھا ہے مگرانسانیت کے اصل دشمن بھی وہی ہیں،اندازہ کریں کہ امریکہ،برطانیہ اٹلی، فرانس،اسپین جیسے ترقی یافتہ ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد مجموعی تعداد کے نصف ہے،مجوعی طور اب پاکستان سمیت دنیا بھر میں 2لاکھ 38ہزار سے تجاوز کر چکی ہے پاکستان کا شمارترقی پذیر اورمعاشی طور پرکمزور ترین ترین ممالک میں شامل ہے یہاں کے حکمران ہی عوام کا خون چوس گئے، کورونا وائرس اپنے خون آشام پنجے پاک سرزمین پر بھی گاڑے ہوئے ہے اس سے بچنے کا بہترین علاج خود کو سماجی فاصلوں سے دور رکھنا ہے،حکومتی اقدامات کے تحت لاک ڈاؤن کیا گیاپاکستانیوں کی کثیر تعدادجو پہلے ہی خط غربت سے نیچے زندگی گذار رہی ہے روزگار بند ہوجانے پر مزید دکھوں اور مصیبتوں میں جکڑی گئی،تاہم اس دوران وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف دینے کا اعلان کیا جس سے اب تک 68خاندان مستفید ہو چکے ہیں آفت زدہ صورتحال میں کسی بھی ترقی پذیر ملک میں اتنا بڑا عوامی ریلیف نہیں دیا گیا،اب عمران خان نے اسلام آبادمیں کورونا کے باعث ملازمت سے محروم ہونے افراد کے لئے احساس کیش پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا جو انتہائی خوش آئنداور حوصلہ افزا بات ہے اس حوالے سے وفاقی دارلحکومت میں ایک سادہ سی تقریب کا انعقاد کیا،وزیر اعظم نے کورونا ریلیف فنڈ کے ویپ پورٹل کے اجراء کی تقریب سے خطاب میں کہا ہم آج ملازمت سے محروم ہونے والے افراد کے لئے ویب سائٹ کا آغاز کر دیا ہے جہاں وہ اندراج کرکے رقم حاصل کر سکتے ہیں،کرونا ریلیف فنڈ میں عطیات دینے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہامیں خود اس کام کی نگرانی کر رہا ہوں تاکہ رقم کی تقسیم شفاف طریقے سے ہو تقسیم ہونے والی رقم کا باقاعدہ آڈٹ ہو گا جس کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں گی،اس فنڈ میں ملنے والے عطیات کو حکومت چار گنا بڑھاکر عوام تک پہنچائے گی تا کہ ان فنڈز کو زیادہ سے زیادہ افرادتک پہنچایا جا سکے عمران خان نے کہا لاک ڈاؤن سے بہت زیادہ لوگ متاثر ہوئے یہی وجہ ہے کہ لاک ڈاؤن زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتا ترقی یافتہ اور امیر ممالک بھی ہر متاثرہ شخص تک نہیں پہنچ پا رہے انہیں یہ احساس ہو رہا ہے اس لئے وہ کاروبار کی بحالی کی طرف جا رہے ہیں اب ہر ملک کی کوشش ہے کہ کاروبار دوبارہ شروع ہو،نیو یارک سب سے زیادہ متاثرہ ہوا لیکن وہاں بھی صنعتیں کھولی جا رہی ہیں کیونکہ جتنی زیادہ صنعتیں کھلیں گی اتناہی زیادہ روز گار ملے گاہم تعمیراتی صنعت کو نہ صرف پوری طرح کھول بلکہ انہیں مراعات بھی دے رہے ہیں،اس وقت بر صغیر میں پٹرولیم مصنوعات کی سب سے کم قیمت پاکستان میں ہیں انڈیا میں 153جبکہ بنگلہ دیش میں پٹرول170روپے کے حساب سے اس وقت بھی عوام کو دیا جا رہا ہے، ہم نے قیمتیں برقرار رکھنے کی کی جگہ عوام کو ریلیف دیا ایک ماہ میں پٹرول30اور ڈیزل کی قیمت میں 42روپے کم کر چکے ہیں اب اس کمی کے اثرات عوام تک پہنچنے چائیں میں نے تمام صوبائی حکومتوں اور سیکرٹریز کو ہدایت کی ہے کہ پاقی چیزوں کی قیمت میں ہر صورت کمی لائی جائے،حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ لوگوں کو روزگار کیسے دیں اور؟ ان کی معاشی مشکلات کیسے دور کریں؟معلوم نہیں کورونا کب تک رہے گا؟کب تک ویکسین آئے گی؟اس لئے ہمیں حکمت عملی کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے ہمیں اگلے 6ماہ سے ایک سال تک کورونا کے ساتھ رہنا پڑ سکتا ہے اسی لئے ہمیں تیار رہنا ہو گا،عوام ڈسپلن کا مظاہرہ کریں تا کہ ہم اس کا بہتر مقابلہ کر سکیں عوام سماجی فاصلہ رکھیں ماسک کا استعمال اور ہر ممکن احتیاط کریں ہم ڈنڈے کے زور پر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے،بڑے مشکل حالات ہیں بحیثیت قوم ہم سب کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہو گا،عوام حکومت کے ساتھ چلے تاکہ اس موذہ کو شکست دی جا سکے،جن لوگوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے ان میں سے زیادہ تر میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں صرف5فیصد لوگوں کو ہسپتال جانا پڑتا ہے،مثبت ٹیسٹ آنے والوں کو اپنے گھروں میں قرنطیہ کرنا چاہئے کیونکہ لوگ قرنطیہ مراکز میں خوش نہیں ہوتے کیونکہ انہیں زبردستی وہاں لایا جاتا ہے، وزیر اعظم عمران خان کی اس حقیقت پسندانہ اور ہمدردانہ باتوں کے بعدمعاون خصوسی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس کیش پروگرام کے دوسرے مرحلے پر رجسٹریشن کا طریقہ کار بیان کرتے ہوئے کہایہ پروگرام ان افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے ہے جو کورونا وائرس کے باعث دیہاڑی دارصنعتوں دکانوں اور دیگر کاموں میں ملازمت سے محروم ہو چکے وہ حکومت کے پورٹل پر رجسٹرڈ ہو سکتے ہیں یہ رجسٹریشن صرف اسی ویب پورٹل کے ذریعے ہی رجسٹریشن کی جائے گی سب سے پہلے شناختی کارڈ اور موبائل فارم مانگا جائے گااس کے بعدکوڈ داخل کریں جس سے وائرس سے بچاؤ کی تصدیق کی جائے گی اور نادرا سے منسلک فارم کھلے گاجس میں تنخواہ اور پیشے کی تفصیلات پوچھی جائیں گی فارم میں ذاتی کاروباراور ملازمت سے متعلق کمپنی،ٹھیکیدار یا آجر کا نام پوچھا جائے گاجس کے بعدضلع یا تحصیل کا نام پر کرنا ہو گا،یہ پورٹل تین ہفتے تک درخواستوں کے لئے کھلا ہے،وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے اس موقع پر بتایا کہ ہم نے پٹرولیم مصنوعات میں کمی کی اب کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے چھوٹے کاروبار کی مد میں اقدامات کئے جا رہے ہیں،حکومت 5سے7کے وی بجلی ماہانہ استعمال کرنے والے افراد کا 3ماہ تک بل خود ادا کرے گی دیگر اقدامات میں شرح سود میں کمی تعمیراتی شعبے کے لئے غیر معمولی مراعات،اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے ئلے بلا سود قرضہ (قرضہ حسنہ)کی سکیم جلد لا رہی ہے،معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے 5اپریل کو بھی بتایا تھا کہ حکومت ایک کروڑ 70لاکھ خاندوانوں کو نقد معاونت فراہم کرے گی،تحریک انصاف کی حکومت ملک کی تاریخ میں بڑی ریلیف مہم چلا رہی ہے جس کے لئے 144ارب روپے ابتدائی طور پر مختص کئے گئے اور ایمر جنسی کیش اسٹنس کی مانگ میں اضافہ ہوا تو اضافی وسائل کا بھی استعمال ہو گایہ ریلیف تمام وفاقی یونٹس بشمول آزاد کشمیر گلگت بلستستان میں مردم شماری کے حساب سے جاری ہے،، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بتایاہے اب پنجاب حکومت اب روزانہ کورونا کے 6ہزار ٹیسٹ کرے گی اس حوالے سے ٹیسٹ کی 8لیب فعال جبکہ 6کروڑ روپے کی لاگت سے لیول تھری کی لیب تیار کی جا رہی ہیں اسمارٹ اسیمپلنگکا آغاز راولپنڈی،ملتان گوجرانوالا اور فیصل آباد سے کر دیا گیا ہے اورپنجاب حکومت نے وفاق کوکنسٹرکشن سے متعلقہ کاروبار،پاور لومز،ایکسپورٹ سیکٹر سمیت مارکیٹیں کھولنے کی سفارشات شامل ہیں،ایسے حکومتی اقدامات سے عوام کو بڑی حد تک ریلیف ملا ہے، اب آج ہی وزیر اعظم عمران خان کی ٹائیگر فورس بھی میدان عمل میں نکل رہی ہے،اس ویژن کا اعلان عمران خان نے27 مارچ کو کیا تھاجو آج پایہ تکمیل کو پہنچ گیاٹایگر فورس میں ملک بھر سے10لاکھ کے قریب اور18سال سے زائد عمر کے صحت مند نوجوان شامل ہیں جن میں سماجی ورکرز،صحافی وکلاء ڈاکٹرز غرض ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں جو ضلعی انتظامیہ اور نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ سے مل کر کام کریں گے،ڈی سی،اے سی، ٹی ایم اوز اور ارکان پالیمنٹ رضاکاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کریں گے،ٹائیگر فورس کو متعلقہ سرکاری افسران روزانہ کی بنیاد پر بریفنگ دیں گے اور انہیں ذمہ داریاں تفویض کریں گے،ٹائیگر فورس گھر گھر راشن پہنچانے،گھروں میں قرنطیہ ہونے والوں کی دیکھ بھال،ہسپتالوں اور عوامی مقامات پر لوگوں کو گائیڈ لائن کی فراہمی،بے روزگار افارد کا ڈیاٹا اکٹھا کرنا،مشتبہ مریضوں سے متعلق معلومات،لاک ڈاؤن پر یقینی عمل درآمد،انتظامیہ اور پولیس کی مدد،ذخیرہ اندوزوں اور زائد قیمتوں سے متعلق نشان دہی سمیت متعدد کاموں میں حصہ لے گی عمران خان نے ٹائیگر فورس کا قیام چین کی تقلید کرتے ہوئے کیا وہاں بھی نوجوان فورس نے شاندا رکام کیا تھااسی لئے عمران خان نے ایک موقع پر کہا تھا کہ وہ ایمان اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کو شکست دیں گے،حکومتی اقدامات پر انگلی اٹھانا انتہائی نامناسب ہے وہ بہت کچھ کر چکی اور کر رہی ہے،پاکستا ن میں تعینات چینی سفیرپاؤ جنگ نے امید ظاہرکی ہے کہ پاکستان کورونا وبائجو اس کیلئے عارضی چیلنج ہے پربہت جلد قابو پالے گا کیونکہ اس کی60فیصد آبادی 30سال سے کم عمر نوجوانوں پرمشتمل ہے،

یہ بھی پڑھیں  صدرسےایئرچیف کی ملاقات ، فضائیہ کے امورپرتبادلہ خیال

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker