آر ایس مصطفیٰتازہ ترینکالم

احساس سے عاری حکمران

rs mustafaگورنر جنرل ہاؤس کے لئے ساڑھے 38 روپے کا سامان خریدا گیا ،گورنر جنرل نے حساب منگوا یا معلوم ہوا کچھ چیزیں آپکی بہن نے اپنی ضرورت کی منگوائی تھیں اور کچھ آپ کی اپنی ذاتی استمعال کی چیزیں تھی گورنر جنرل صاحب نے حکم فرمایا کہ یہ رقم ان کے ذاتی اکاؤنٹ سے کاٹی جائے باقی چیزیں گورنر جنرل ہاؤس کیلئے تھیں آپ نے فرمایا ٹھیک ہے یہ رقم قومی خزانے سے ادا کر دی جائے اور آئندہ احتیاط برتی جائے کہ قوم کا پیسہ مجھ پر یا میرے رشتے داروں پر نہ خرچہ جائے ۔یہ گورنر جنرل بابائے قوم قائد آعظم محمد علی جناع تھے اور ان کی بہن فاطمہ جناح ۔ ایک بار قائد آعظم کیلئے موزے خریدے گئے جب قائد آعظم نے قیمت دریافت کی تو معلوم ہوا ٰصرف دو روپے جس پر قائد آعظم نے یہ کہہ کر موزے واپس کردیئے کہ ایک غریب ملک کے سربراہ کو اتنا عیاش نہیں ہونا چاہیے۔یہ سچ میں ایک غریب ملک کے سربراہ تھے جن کو یہ گوارا نہ تھا کہ وہ دو روپے کا مہنگا موزہ پہنے ۔یہ ہمارا ماضی تھا شاندار اور جاندار ماضی کہ جس میں سربراہ مملکت کو احساس تھا کہ وہ ایک غریب ملک و قوم کا سربراہ ہے ،جس میں سربراہ مملکت کو معلوم تھا کہ ان کے دو روپے کے موزے اس ملک کو مہنگے پڑسکتے ہیں ،ان کے دو روپے قوم کیلئے مہنگے ثابت ہوسکتے ہیں۔ قائد آعظم جب تک گورنر جنرل رہے کابینہ کے اجلاسوں میں نہ چائے پیش کی گئی اور نہ ہی کافی کیونکہ آپکا حکم تھا کہ جس نے پینی ہو وہ گھر سے پی کر آئے قوم کا پیسہ وزیروں اور مشیروں کے لئے نہیں۔
آج 2015 ہے پاکستان کو بنے ٰ68 سال گزر چکے،پاکستان بہت بدل چکا۔میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ قوم بہت ترقی کرگئی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اب سربراہ مملکت میں کوئی قائدآعظم نہیں،ان گزرے ٰ68 سالوں میں اس ملک کے حکمرانوں نے جرابے تو چھوڑیئے اپنے گھر کے ملازمین کی تنخواہیں بھی ملکی خزانے سے ادا کی ۔ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں ہمارے وزیرآعظم محترم میاں نوازشریف ان دنوں اقوام متحدہ میں شرکت کیلئے گئے ہوئے ہیں جہاں بلاشبہ ان کی جنرل اسمبلی کی میں تقریر شاندار اور جاندار تھی جس میں انھوں نے کشمیر ،فلسطین کیلئے بھرپورآواز اٹھائی اور دنیا کو بھارت کاا صل چہرہ دکھایا کہ کیسے کشمیر ی عوام بھارت کے ظلم و ستم جھیلے ہوئے ہیں مگر قوم کو وزیرآعظم کی جنرل اسمبلی میں کی گئی اس تقریر کا خرچہ پندرہ کروڑ میں برداشت کرنا پڑا ۔آپ اندازہ کیجیے کہ ایک رپورٹ کے مطابق وزیرآعظم نوازشریف اپنے ساتھ 73 افرادکا قافلہ لیکر گئے ہوئے ہیں جس کے جواب میں وزیرآعظم ہاؤس نے رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے 35 افراد کے معمولی قافلے کی تصدیق فرمائی۔آپ اندازہ کیجئے کہ میاں نوازشریف اس ملک کے وزیرآعظم ہیں کہ جس کے بانی قائدآعظم نے اپنے طیارے میں رائٹنگ ٹیبل لگوانے کا آرڈر دیا تو فائل جب وزارت خزانہ پہنچی تو وزیر حزانہ نے اجازت تو دے دی مگر ساتھ میں ایک نوٹ لکھ دیا کہ کہ گورنر جنرل اس قسم کے احکامات سے پہلے وزارت خزانہ سے اجازت لینے پابند ہیں،گورنر جنرل قائدآعظم کو جب معلوم ہو ا تو وزارت خزانہ سے معزرت کی اور اپنا حکم واپس لے لیا۔یہ قائدآعظم اس ملک کے بانی اور گورنر جنرل اور اپنی عوام کی ہر دلعزیز لیڈر تھے کہ رائٹنگ ٹیبل اپنے حکم سے نہ لگوا سکے کیونکہ وزارت خزانہ کی اجازت نہ تھی ۔اب ہم اپنے محترم وزیرآعظم نوازشریف کے دورے کو دیکھےً تو 35سے 73 افراد کا لشکر ،چارٹرڈ طیارہ بشمول لینڈنگ و پارکنگ چارجز ،اعلی قیام و ظعام اور شاپنگ اور بڑے بڑے بریفنگ اجلاس،اس کے مقابلے میں اوباما اور کیمرون اپنے ساتھ 10افراد نہیں لے جا سکتے ۔جن ممالک سے قرضے اور بھیک مانگتے ہیں یقیناان کو ہمارے وزیرآعظم کے ساتھ وفد کو دیکھ کر یقین نہ آتا ہوگا کہ یہ پاکستان کے وزیرآعظم کا وفدہے جو ہمارے قرضے پر چل رہا ہے۔آپ اندزہ کیجیے کہ ہم کیسے لوگ ہیں کہ ہمارے عوام کہ کھانے کو دو رقت کی روٹی نصیب نہیں ہوتی مگر وزیرآعظم کی سیکیورٹی کے لئے لاکھوں کے کتے خریدے گئے ،ارب روپرں کی مد میں گاڑیاں خریدی جاتی ہیں۔آپ اندازہ کیجیے کہ قائدآعظم جنھوں نے دو روپے کے موزے نہ خریدے کیونکہ حکمران کو اتنا عیاش نہیں ہونا چاہیے کہ وہ دو روپے کے اتنے مہنگے موزے خریدے آج اسی ملک کا صدر لاکھوں روپے غیر ملکی دوروں پر ٹپ میں دے دیتا ہے۔آج ایک ایک دورے پر عوام کا کروڑوں روپے خرچ آتا ہے ان دوروں پر اپنے من پسند لوگوں اور رشتے داروں کو لیجایا جاتا ہے ۔پچھلے کچھ برسوں میں تقریبا 500 افراد کو مختلف غیر ملکی دوروں پر لیجایا گیا ان سب لوگوں نے سرکاری خرچ اور غریب عوام کے پیسے پر عیاشی کی۔سوال یہ ہے کہ آج 2015 میں کیا ہمارے حکمران احساس سے عاری ہوچکے ہیں کیا حکمران طبقے کو اس غریب عوام کا کوئی احساس نہیں جن کے خون پسینے کی دولت کو یہ حکمران طبقہ بے رحمی سے خرچ کرتا ہے ،کیا یہ حکمران احساس سے عاری ہوتے ہیں ان کے اطوار سے تو صاف صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکمران احساس سے عاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  داؤدخیل:بصارت سے محروم ایک ہی گھر کے چار بہن بھا ئی ارباب اختیار کی توجہ کے منتظر

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker