تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

احتجاج دھاندلی کے خلاف یا عوام کی توجّہ ہٹانے کی سعی

دھاندلی کے خلاف احتجاج کرناہماراآئینی حق ہے اور اس سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا،حکومت پہلے دن سے دھاندلی کے خلاف انکوائری کرنے کی بجائے اس پر پردہ ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیراہے،جب ہمیں الیکشن کمیشن کی جانب سے انصاف نہیں ملاتواب سڑکوں پر احتجاج کرناپڑرہاہے،حکمرانوں کی اپنی پالیسیاں ہی ان کے لئے سب سے بڑاخطرہ ہے کیونکہ حکمرانوں نے قوم سے کئے جانے والے وعدے پورے کرنے کی بجائے ان سے مزید وعدے کئے ہیں اورایک سال کاعرصہ گزرنے کے باوجود حکمران ملک اور عوام سے جڑاہواکوئی بھی مسئلہ حل نہیں کرسکے یہی وجہ ہے کہ عام لوگ حکمرانوں سے سخت مایوس ہیں،یہ کہناہے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا۔گزشتہ روز میڈیاکو دیئے گئے انٹرویومیں عمران خان کا مزید کہنایہ تھاکہ ان کی جماعت نے ہمیشہ جمہوریت اور اداروں کی مضبوطی کی بات کی ہے اور گیارہ مئی سے شروع کی جانے والی احتجاجی تحریک کامقصد عام انتخابات میں دھاندلی کرکے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچاناہے ۔ان کے مطابق ان کی یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دھاندلی کرنے والوں کو ان کے انجام تک پہنچایانہیں جاتا۔عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک ملک میں انتخابات مکمل آزاد نہیں ہوں گے اس وقت تک ملک میں حقیقی جمہوریت کا تصور بھی ممکن نہیں۔اگرچہ عمران خان کی ان تمام باتوں سے کوئی اختلاف نہیں اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت جوکہ ان کی تنقید کے نشانے پر ہے اگر وفاقی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ لیاجائے تو وفاقی حکومت توانائی بحران ،امن واَمان کی صورتحال،معاشی استحکام،بے روزگاری پر قابوپانے اور روزگار کے مواقع پیداکرنے کے عمل سمیت کسی بھی شعبے میں غیرمعمولی اور قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔نادرااور پاسپورٹ کے شعبوں میں کوئی قابل ذکر بہتری آئی ہے نہ ہی ترقیاتی عمل میں بلکہ عام عوام کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کے اہلکاربھی مایوسی کے شکارہی نظرآتے ہیں لیکن سوال یہ اٹھتاہے کہ گیارہ مئی 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج ایک سال بعد کیوں کیاجارہا ہے اور یہ بھی کہ انہوں نے ایک سال کاانتظار کیوں کیا؟اگرچہ عمران خان نے گزشتہ عام انتخابات کے فوری بعد دھاندلی کے الزامات عائد کرکے تحقیقات کامطالبہ کیاتھالیکن ان کے اس مطالبے پر بھی انگلیاں اٹھی تھیں کہ وہ ان حلقوں پر تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں جہاں ان کے امیدواروں کو شکست ہوئی ہے حالانکہ دھاندلی کے الزامات تو نون لیگ اور دیگر کئی جماعتوں کی جانب سے بھی ان انتخابی حلقوں میں لگائے گئے تھے جہاں تحریک انصاف کے امیدواروں کو کامیابی ملی تھی تاہم عائد کردہ ایسے الزامات پر عمران خان اور ان کی جماعت خاموش رہنے کے سواء کوئی بھی ردعمل دینے کو تیار نہیں تھے جبکہ عمران خان نے دھاندلی کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ بھی صرف چار حلقوں میں ہی کیاتھا۔اگرچہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواپرویزخٹک کہتے ہیں کہ ملک گیر احتجاج کا فیصلہ ڈیڑھ ماہ قبل پارٹی کے کورکمیٹی اجلاس میں کیاگیاتھایہ احتجاج وفاقی حکومت کو گرانے کے لئے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے خلاف ہے آج بھی الیکشن کمیشن ایک ماہ کے اندرفیصلے کردینے کاکہہ دے تو احتجاج کی کال واپس لے لیں گے۔یہاں قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ کیاپرویزخٹک کے پاس احتجاج کی کال واپس لینے کے فیصلے کا اختیار ہے یا پارٹی کا فیصلہ ہی یہی ہے کہ ایساہواتوایساکریں گے۔بہرحال عمران خان کہتے ہیں کہ حکمرانوں کی اپنی پالیسیاں ہی ان کے لئے سب سے بڑاخطرہ ہے کیونکہ انہوں نے عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے ۔عمران خان کی اس بات سے کوئی اختلاف نہیں لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ ایک صوبے کی حکمراں جماعت تحریک انصاف بھی ہے تو سوال یہ اٹھتاہے کہ کیاان کی جماعت عوام سے کئے گئے وعدے نبھانے کے معیار پر پورااتررہی ہے جبکہ نظرآتی صورتحال تو یہ ہے کہ ان کی جماعت نے نہ صرف الیکشن سے قبل بھی اور الیکشن کے بعد بھی تبدیلی اور نظام میں اصلاحات کے وعدے کئے تھے جن کو بنیاد بناکر عوام نے عام انتخابات میں تحریک انصاف پر غیر معمولی اعتماد کا اظہارکیاتھابلکہ اب بھی ان وعدوں کاتسلسل برقرار ہے لیکن صحت کاانصاف پروگرام جو محض صوبائی دارالحکومت پشاور تک محدود تھا اور سیکورٹی خدشات کے باعث وہ پروگرام بھی زیادہ مؤثر نظرنہیں آیاکے سواء کسی بھی شعبے میں ایسا کوئی کام کرنے میں جس کا خاص طور پر ذکر کیاجاسکے خیبرپختونخواکی حکومت تاحال قاصر دکھائی دیتی ہے ایسے میں تحریک انصاف مخالف سیاسی قوتیں الزام لگارہی ہیں کہ عمران خان اور تحریک انصاف خیبر پختونخوامیں اپنی حکومت کی ناکامی کو چھپانے کے لئے ایسی سرگرمیوں پر اتر آئے ہیں جن کا عوام کے موجودہ درپیش مسائل کے حل سے کوئی تعلق نہیں۔سیاسی جماعتوں کے مطابق موجودہ حکومت کی پارلیمانی مدت کاایک سال تو گزرگیااب ایسے احتجاج کاکوئی فائدہ نہیں اگر عمران خان اور ان کی جماعت شفاف انتخابات کے لئے تحریک چلاناچاہتی ہے تو اپنی توانائیاں اگلے الیکشن میں ایسے سرگرمیوں پر ضرور خرچ کریں تاہم موجودہ حالات میں ایسے غیر ضروری ایشوزپر حرکت میں آنے کی بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیں تو زیادہ بہتر رہے گا کیونکہ الیکشن میں دھاندلی نہیں ہونی چاہئے لیکن عوام کے مسائل فقط انتخابی دھاندلی کی روک تھام نہیں بلکہ کچھ اور ہیں۔اس ضمن میں قومی وطن پارٹی کے سربراہ افتاب احمد خان شیرپاؤکاکہ
نایہ ہے کہ تحریک انصاف کا گیارہ مئی کا احتجاج حکومت اور طالبان مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے جب کہ پیپلزپارٹی کے رہنماء اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کا کہنایہ ہے کہ عمران خان گیارہ مئی کے انتخابات کے لئے ہم سے رابطہ نہیں کریں گے ان کاایجنڈاپہلے کچھ اور تھامگر اب شائد ان کا ایجنڈاتبدیل ہوچکاہے۔دوسری جانب وفاقی وزیراطلاعات سینیٹر پرویزرشید نے کہاہے کہ حکومت پر امن احتجاج میں کوئی رکاؤٹ نہیں ڈالے گی تاہم عمران خان کو شارٹ کٹ اختیار کرنے کی بجائے آئندہ انتخابات کی جانب دیکھناچاہئے۔ان کے مطابق تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا احتجاج چائے کے کپ میں طوفان سے زیادہ کچھ نہیں اور یہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے عوام کی بات کرنے والے ڈاکٹر طاہرالقادری گیارہ مئی کوکینیڈاریلی کی قیادت کریں گے۔پرویزرشید نے الزام عائد کیاہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری آئین اور جمہوری نظام کو تسلیم نہیں کرتے مگر عمران خان ان کے ساتھ کندھے سے کندھاملاکرچل رہے ہیں۔افتاب شیرپاؤ،سید خورشید شاہ اور وزیراطلاعات پرویزرشید کے الزامات اور نکتہ نظر اپنی جگہ تاہم عمران خان نے گیارہ مئی کو انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کا اعلان کیاہوا ہے اور دوسری جانب ڈاکٹر طاہرالقادری کی جماعت عوامی تحریک بھی ان کا ساتھ دے رہی ہے تو کیا نتائج برآمد ہوں گے اس احتجاج کا ۔کیایہ احتجاج نتیجہ خیزبھی ثابت ہوگایاماضی کی طرح یہ بھی ایک احتجاج ہی ہوگاجیسا کہ کہتے ہیں کہ کھایاپیاکچھ نہیں اور گلاس توڑاآٹھ اَنے کا۔۔یہ آنے والاوقت بتائے گا۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button