امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

احترام ِ انسانیت

آج معاشرے میں اصلاح کرنیوالے بہت کم ہیں اوربیگاڑپیدا کرنے والے بہت ۔آج میں مضمون کے آخر میں اپنے قارائین کو معاشرے کی اصلاح کے کچھ اسلامی اصول بتائوں گا لیکن اس پہلے اپنے ناقص ذہن میں پلنے والے ناقص خیالات آپ کے سامنے رکھوں گا۔قارائین راقم نے کچھ دن قبل ایک مضمون ﴿قانون کی حکمرانی﴾کے عنوان سے لکھا تھا۔جس میں ،میں چیف جسٹس آف پاکستان کے اس بیان کی تعریف کی تھی جس میں انہوں کہا تھا کہ اب نہ گھبرانا ہے،اور نہ جھکنا ہے جوگولی نام کی ہوگی وہی لگے گی ۔ملک میں اب قانون کے علاوہ کسی قسم کاایکشن نہیں ہوگا جس کسی کو شبہ ہے تو میں دوہراتاہوں کہ ملک میں اب قانون صرف آئین وقانون کی حکمرانی ہوگی ۔اب اگر عدلیہ ۔پالیمنٹ ،عوام کے خلاف کوئی اقدام ہوا تواس کی سب سے پہلی مخالفت عدلیہ کی طرف سے ہوگی ۔جیسے 3نمبر 2007ئ کو ہوئی تھی ۔اس مضمون کو پڑھ کر بہت سے چاہنے والوں نے بہت پسندبھی کیا اورمجھے بہت سی قیمتی اراسے بھی نوزا ۔جن دوستوں نے آج کے مصروف دور میں میرے لیے وقت نکالاکرمجھے ایس ایم ایس ‘فون کال یا ای میل کی۔آج میں ان تمام دوستوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔اور سب سے زیادہ اس دوست کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جس نے مجھے ایک تنقید بھرا ایس ایم ایس کیا۔میں اپنے دوست کو یہ بتانا چاہتا ہوں کے ہم مضمون نگار صرف تنقید کرنے کے عادی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ تنقید برداشت کرنے کے عادی ہیں۔لیکن مجھے آپ کی ایک بات سے بہت زیادہ دکھ ہوا۔ا ب وہ بات کون سی ہے یہ میں نہیں بتائوں گا۔میں اپنے دوست کا پورا ایس ایم ایس آج کے مضمون میں لکھ رہا ہو ں۔قارائین خود اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کون سی بات درست اورکون سی غلط رہی۔﴿ایس ایم ایس﴾او چیف کے چمچے کبھی باہر نکل کرعوام کو دیکھ کیا حالت ہوگئی ہے تم میڈیا والے سب صرف چیف کی چمچا گری کرتے رہنا۔چھوٹے چھوٹے گائوں میں کیا ہو رہا ہے ۔تمہیں اس سے کیا مطلب بس پورا ایک کالم چیف پہ لکھ کے خوش ہو رہے ہو،ارے سب سے بڑی مارشل لاتوخود عدالت نے لگائی ہوئی ہے ۔اور ہاںمیں نہ تو میں پی پی پی کا ووٹر ہوں نہ ہی حمایتی اور نہ ہی میں نے کبھی کسی پارٹی کو ووٹ دیا ہے بس﴾قارائین ایس ایم ایس کا کچھ حصہ زیادہ ہی زہریلا ہے اس لیے سنسر کررہا ہوں ۔اگر پڑھنے والوں کومیرے اس دوست کی اصلاح کرنے کی ضرورت محسوس ہوتو فون نمبر حاضر ہے 03003124733۔میں تو فقط اتنا ہی کہوں گا کہ اہل قلم کسی کے چمچے نہیں ہوتے ہاں میں ابھی خودکو اہل قلم نہیں طالب علم سمجھتا ہوں۔قوم کی منفی سوچ اور ردعمل کو دیکھ کریوں لگتا ہے کہ میرے پیارے پاکستان کو کسی بد ذات کی نظر لگ گئی ہے ۔خیروعافیت اور امن کی فاختائیں وطن عزیز کی منڈیروں سے ہجرت کرکے کسی اور دیس جا بسی چکی ہیں۔اور وطن عزیز کے دامن میںبے حسی ،خود غرضی اور بدحالی نے ڈھیرے ڈال رکھے ہیں ۔آج وطن عزیز میںبھوک افلاس کا راج ہے۔ گنڈہ گردی ،ناانصافی اور ملاوٹ کا ہر طرف بول بالاہے ۔کرپشن باعث شرم سے باعث فخر بن چکی ہے ۔آج صرف حکمران ہی نہیںبلکہ تقریبا ہر دوسرا فرد کرپٹ ہوچکا ہے ۔کرپشن کی بہت سی اقسام ہیں ۔جس کا جہاں تک ہاتھ پہنچتا ہے وہ وہاں تک خوب کرپشن کرتا ہے جب بات بس سے باہر چلی جائے تو خود نیک ہوجاتا ہے اور دوسروں کی کرپشن اور ظلم کی داستانیں رقم کرنے لگتا ہے ۔بدقسمتی سے آج ملک میںکوئی بھی شعبہ ایسا نہیں رہا جسے کرپشن سے پاک کہا جاسکے۔ہر طرف کرپشن ہی کرپشن نظر آتی ہے ۔کرپشن کے اصولوں پر اس قدر عملدرآمد کیا جارہا جیسے آئین کا حصہ ہوں ۔ملک کا قانون غریب عوام کوسزا دینے کے لیے فوری طور پرحرکت میں آجاتا ہے اور امیر آدمی کو ہر طرح کا استشنیٰ مل جاتا ہے ۔ایک طرف غریبوں کو بیکاری،بیروزگاری ،لاقانونیت اور مہنگائی ماررہی ہے تودوسری طرف امیر چوروں ڈاکوئوں ،لٹیروں اور بھتہ خوروں کے ہاتھوں لٹنے اور مرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔پولیس کے ناکے بھی موجود ہیں اور پولیس کی گاڑیوں کا گشت بھی جاری ہے ۔شریف شہریوں کو تو ان ناکوں پر خوب ذلیل کیا جاتا ہے ۔ناکہ بندی کے نام پر رشوت کا بازار بھی خوب گرم ہے۔صرف پولیس ہی نہیں ہر سرکاری محکمہ شریف شہریوںکو ذلیل ورسوا بھی کرتا اور رشوت بھی خوب لیتا ہے ۔دوسری طرف چور،ڈاکواور بھتہ خور دن دہاڑے عوام کو پرہجوم بازاروں میں لوٹ لیتے ہیں ۔ٹارگٹ کلینگ کے نام پر ہر روزدس سے بارہ بے گناہ انسانوں کے قتل ہونے کی رپورٹ میڈیا پر نشر ہوتی ہے ۔اور دوسری طرف حکومت سب اچھا ہے کا دعو کرتی ہے ۔ہم پچھلے چار سال سے صدر پاکستان ،وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ سندھ کی طرف سے کراچی کے امن امان کے حولے سے دیے گئے بیانات کومیڈیاپر، پڑھ بھی رہے ہیں اور سن بھی ۔سب کے سب گزشتہ چار سالوں سے ایک ہی بیان دہرا رہے ہیں ۔کراچی کا امن تباہ نہیں ہونے دیں گے۔کسی کوکراچی کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔صدر پاکستان نے کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلینگ کانوٹس لے لیا۔وغیرہ ،وٰغیرہ۔ویسے قارائین حکمرانوں کا نوٹس لینا بھی بڑی کمال شے ہے ،درجنوں بے گناہ انسان قتل ہوجاتے ۔سینکڑوں چوروں ،ڈاکوئوں کے ہاتھوں اپنی جمعہ پونجی لوٹا بیٹھتے ہیں ۔کتنے گھروں میں صف ماتم بچھ جاتی ہے اور کیاجی صدر محتر م نے واقعہ کانوٹس لے لیاجن کے پیاروں کو بے رحم ٹاگٹ کلینگ کھا جائے وہ کیاکریں گے اس نوٹس کا؟؟آخریہ نوٹس ہے کس مرض کی دعا؟؟ایک ہی مسئلے پر سینکڑوں نوٹس لیے جاتے ہیں اور مسئلہ وہیں کاو

یہ بھی پڑھیں  قانون کے محافظ... شراب کے سپلائر نکلے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker