تازہ ترینکالمندیم چوہدری

ایچ آئی وی ایڈز اور بیورو کریسی لا علاج ہیں

آج یکم دسمبرپوری دنیا میں ایڈز سے بچاؤ کا دن منایا گیا لیکن پاکستا ن میں فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے یہ دن نہ منایا جا سکا ۔ ایڈز کنٹرول پروگرام جو کہ بین القوامی امدادی اداروں کی مدد سے چل رہا ہے اسے پاکستان کی حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہیں دی گئی پاکستان کے اندر اٹھارویں ترمیم کی جو تلوار چلائی گئی اس نے سب سے زیادہ نقصان صحت کے اداروں کو پہچایا امدادی ادارے آج تک پریشان ہیں کے وہ پاکستا ن کے اندر امداد کس ادارے کو دیں بین الا قوامی امداد جو کے صحت کے شعبہ میں دی جاتی تھی وہ تقریبا بند ہو چکی ہے ہماری اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں صحت اور تعلیم کا شعبہ مرکز کے پاس ہے واحد ہمارا ملک ہے جس میں اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے یہ صوبوں کو دے دیا گیا کچھ عرصہ قبل بین القوامی صحت کی کانفرنس ہوئی تو وہاں چونکہ صرف ہر ملک کے وزیر صحت شرکت کرتے ہیں پاکستان میں وفاقی وزیر صحت نہ تھے معاملہ پیسے مانگنے کا تھا فوری طور پر بین الصوبائی رابطہ کے وزیر میر ہزار خان بجرانی کو تین دن کے لیے وفاقی وزیر صحت بنا کر اس کانفرنس میں شرکت کے لیے بھیجا گیا اٹھارویں ترمیم کے ذریعے وازاتیں تو صوبوں کو منتقل کر دی اور واویلہ مچایا گیا کہ ہم نے وزاتیں ختم کر دی ہیں پاکستان کی تاریخ میں بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے بلخصو ص رضا ربانی نے ہر ادارے کو اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے آج پاکستان 1947 کی عملی تصویر پیش کر رہا ہے کسی بھی ادارے کو نہیں پتہ کے اس کا کام کیا ہے اور اس کے اختیارات کیا ہیں کس فائل کو کس ادارے کا پا س بھیجنا ہے وزاتیں ختم کر کے بھی وزیروں کی فوج ظفر موج کو کھپانے کے لیے نئی وزارتیں بنا لی گئیں بات ہو رہی تھی نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کی جس کے ملازمین کو خود کشی تک کے لیے مجبور کر دیا گیا ہے پروگرام کے ایک ملازم کا کہنا تھا کے اگر مزید کچھ عرصہ تک تنخوائیں ادا نہ کی گئیں تو وہ پلاننگ ڈویژن کے باہر جا کر خود کشی کر لے گا جب اداروں کو اس طرح تباہ کر دیا جائے گا تو اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے ذرائع کے مطابق نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے پاس بین القوامی امدای اداروں کی گاڑیاں ہیں جو کہ پلاننگ ڈویژ ن کے افسران نے اپنے ذاتی استحمال کے لیے مانگی تھیں جو کہ ان کو نہ دیں گئیں جس کی ضد میں پلاننگ ڈویژن کے افسران نے پروگرام کے تمام فنڈز روک لیے اور کہا گیا کے اس پر وگرام کو تو صوبوں کو منتقل کر دیا گیا ہے اس لیے اس کو فنڈز جاری نہیں کیے جا سکتے اس پروگرام کے نیشنل مینجر کا چارج بھی اضافی طور پر منسٹری کے ایک آفیسر کو دیا گیا ہے جو کہ صر ف اپنے بین القوامی دوروں کے چکر میں رہتے ہیں ان کو بھی پرو گرام کی کوئی فکر نہیں چونکہ ان کو تنخواہ منسٹری کی طرف سے ملتی ہے ان کی اگر تنخواہ چھ ماہ سے روکی گئی ہوتی تو وہ ضرور اپنے ماتحت ملازمین کے لیے کچھ کرتے جس طرح وہ اپنے بین القوامی دوروں کے لیے کوشاں ہیں پاکستان کے اندر غیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی ہے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں گزشتہ چار ماہ میں رجسٹر ڈہونے واے مریضوں کی تعداد تقریبا اٹھارہ سو تک پہنچ چکی ہے ،جبکہ دوسری طرف ایڈز کنٹرول پروگرام کے ملازمین گزشتہ چھ ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں ،این اے سی پی کے ذرائع کے مطابق وقافی وزیر برائے بین الا صوبائی رابطہ میر ہزرار خان بجرانی کی عدم دلچسپی کے باعث گورننمٹ کی طرف سے ایڈز کنٹرول پروگرام کودیئے گئے 226 ملین سے زائد کی رقم پلاننگ ڈویژن نے پروگرام کو دینے سے انکار کر دیا ہے ،گزشستہ سال وزارتوں کو صوبوں کو منتقلی کے بعد صحت کے تمام پروگرام جو کہ بین الاقوامی امدادی اداروں کی مدد سے چلتے تھے ان کو بین الا صو بائی رابطہ وزارت کے ماتحت کر دیا گیا تھا ،وزیر اعظم پاکستان کے حکم کے باوجود آج تک ان پروگراموں کو فنڈز جاری نہیں کیے گئے ،ایڈز کنٹرول پروگرام ذرائع کے مطابق مریضوں کی ادویات کا کوٹہ بھی صرف جنوری تک ہے اس کے بعد ایڈز سے متاثرہ مریضوں کے مفت ادویا ت کی سہولت بھی ختم ہو جائے گی پاکستا ن کے اندر اگر بیوروکریسی اور سیاستدان چائیں تو سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  نریندرمودی کی تقریب حلف برداری میں نواز شریف میں شرکت کریں گے، ترجمان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker