احمد رضا میاںتازہ ترینکالم

ایک محبت سو سیاپے

جب نئی نئی محبت ہوتی ہے تو بڑا ہی خوشگوار احساس ہوتا ہے۔ خواہ مخواہ ہر شے اچھی لگنے لگتی ہے۔ موسم بھی بدلا بدلا سا لگتا ہے اور ماحول بھی معطر معطر سا۔ اچانک شاعری کی بھی آنا شروع ہو جاتی ہے بلکہ بندہ بذات خود شاعر شاعر سا لگنے لگتا ہے اور دوسرے شعرا کے اشعار کو توڑ مڑوڑ کر اپنے نام کے ساتھ منسوب کر کے اُن شعرا کی روح کو تڑپا رہا ہوتا ہے۔نہ صرف پھٹے ہوئے ڈھول کی آواز کانوں میں رس گھولتی ہے بلکہ اپنی بے سری آواز سے بھی طبع آزمائی کی جاتی ہے۔جس نے عید کے عید نہانا ہوتا ہے وہ بھی دن میں دو بار نہاتا ہے اور پرفیوم وغیرہ کو بھی اپنی زندگی کا جز سمجھنے لگتا ہے۔۔۔ ابھی یہ حال یک طرفہ محبت کا ہے اور ذرہ سوچیے اگر یہ آگ دونوں طرف ہو تو کیا حالات ہوں گے۔ اتفاق سے اگر کسی دن محبوب سے بات ہو جائے تو پھر تو راتوں کی نیندیں ہی اُڑ جائیں گی ۔ ایک بار بات کر لینے کے بعد بار بار بات کرنے کو دل چاہے گا کوشش ہو گی کہ کسی نہ کسی طرح اُس کا موبائل نمبر مل جائے ۔ مسلسل محنت اور کوشش سے اس کام میں بھی کامیابی مل ہی جاتی ہے ۔ پھر تو موجیں ہی لگ جاتی ہیں سارا سارا دن ایس ایم ایس اور رات بھر فون کالز۔رات کو لیٹ سونا اور صبح لیٹ اٹھنا معمول بن جانے کے بعد گھر والوں کی طرف سے پریشانی کا اظہار کالج یا دفتر لیٹ پہنچنے پر شرمندگی اور ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کچھ معنی نہیں رکھتا ۔ جیب خرچ بھی سارے کا سارا بیلنس لوڈ کروانے کی نذر ہو جاتاہے۔آہستہ آہستہ یہ عادت پکی ہوتی چلی جاتی ہے ۔ سٹوڈنٹ ہے تو پڑھائی سے کنارہ کشی اور اگر ملازم ہے تو کام سے بیزاری ۔آنکھوں میں ایک ہی خواب ہے اور دماغ میں ایک ہی خیال کہ اب بات کو آگے کیسے بڑھایا جائے ۔ اس مقصد کے لیئے لمبی لمبی چھوڑنے کے سوا کوئی چارا نہیں ہوتا ۔سوٹڈ بوٹڈ رہنے کے لیئے دوستوں یاروں سے اُدھار بھی پکڑنا پڑتا ہے ۔ ماں باپ کی جیب ڈھیلی کرنے کے لیئے کوئی نہ کوئی کتاب نوٹ بک یا کمپیوٹر کی ونڈو ری انسٹال کروانے کے بہانے بھی ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔ معشوق کی چھوٹی موٹی فرمائشیں پوری کرنے کے لیئے یہ حرکت کوئی زیادہ بری نہیں ہے۔ محبت اور جنگ میں سب جائز والی بات پر پورا پورا عمل کرنا ہی تو اصل محبت ہے۔سال دو سال تو یوں ہی گذر جاتے ہیں کہ احساس ہی نہیں ہوتا اور جب احساس ہوتا ہے تو وقت گذر چکا ہوتا ہے۔ ایک لمبے انتظار کے بعدجب پرپوز کرنے کی باری آتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ موصوفہ کی تو تین سال پہلے اُس کے چچا کے بیٹے سے منگنی ہو چکی ہے جو کہ دبئی میں ایک بہت اچھی فرم میں ملازم ہے اور اچھا خاصا پیسہ کما رہا ہے ۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو والدیں آڑے آجاتے ہیں۔ سب سے پہلے یہی پوچھا جاتا ہے کہ کون ہے ؟کس خاندان سے تعلق ہے؟ اور۔۔اور سب سے اہم بات کہ تم سے اُس کا کیا تعلق ہے؟؟؟۔ان سب سوالات کے جوابات دے دینے کے بعد پھر باری آتی ہے حیثیت کی جو کہ سب سے بڑی پل صرات ہے اور اس پل صرات سے عاشق اور معشوق دونوں کو ہی گذرنا پڑتا ہے۔ گذر گئے تو جنت میں ورنہ!۔۔۔۔۔۔ رسم و رواج اور اونچ نیچ کا فرق مٹا کر دو دل اگر مل جائیں تو کتنی خوش نصیبی کی بات ہوتی ہے۔ سارے زمانے کی خوشیاں حاصل ہو جاتی ہیں۔لیکن !۔۔۔ لیکن ان خوشیوں کی کوئی زیادہ عمر نہیں ہوتی ۔زیادہ سے زیادہ چھ مہینے یا ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ۔ اس کے بعد دن اُلٹے پھرنے شروع ہو جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ سارے رنگ پھیکے پڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔ روز ایک ہی چینل دیکھتے دیکھتے بوریت ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ایک ہی قسم کا کھانا ایک انسان آخر کب تک کھا سکتا ہے ۔انسان کی نیچر ہے کہ اُس کا دل کبھی بھی ایک جگہ نہیں ٹکتا وہ ہر وقت کچھ نئے کی تلاش میں رہتا ہے۔اور اس کی یہی تلاش اُسے پہلی منزل سے دوسری تیسری اور پھر چوتھی تک لے جاتی ہے۔ ۔۔۔ محبت شادی سے پہلے ہی محبت ہوتی ہے بعد میں تو مجبوری بن جاتی ہے ۔ کرو تو نخرے اُٹھاؤ نہ کرو تو سینڈل کھاؤ۔وہ لوگ جو معشوق سے شادی نہ ہونے پر روتے ہیں وہی لوگ شادی کے بعد بھی رو رہے ہوتے ہیں۔ پہلے محبوب کو حاصل کرنے کی تڑپ تھی بعد میں جان چھڑانے کی تراکیب۔ وہ چہرہ جسے چاند سے بھی زیادہ حسین تصور کیا جاتا ہے بعد میں کسی چڑیل سے بھی زیادہ خوف صورت لگنے لگتا ہے۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker