شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ایک معلم کی تزلیل آخر کیوں

ایک معلم کی تزلیل آخر کیوں

کہتے ہیں ماں باپ بچوں کو صرف پیدا کرتے ہیں لیکن ان کو انسان استاد بناتے ہیں۔جس نے بھی یہ بات کہی اس نے کمال بات کہی۔استاد معاشرے کا وہ فرد یا جزو ہے جس کے بغیر دنیا ادھوری ہے وہ دیا ہے جس سے آگے کئی دیوں کو جلایا جا سکتا ہے۔وہ روشنی ہے جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔وہ سایہ دار درخت ہے جس کے سایے میں لاکھوں لوگ بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔استاد وہ آلہ ہے جو لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے کر آتا ہے۔جانور اور انسان کے درمیان فرق استاد کی وجہ سے ہی ہے۔ استاد وہ لیڈر اور رہبر ہوتا ہے جس کو لوگ اپنا آئیڈیل سمجھ کر پیروی کرتے ہیں۔ سوچیں! اگر استاد اس دنیا میں نہ ہوتے تو اس دنیا کا کیسا حال ہونا تھا۔ دنیا ویران ہونی تھی ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہونا تھا۔لوگ شعور سے عاری ہوتے۔جانوروں اور انسانوں میں فرق نہ ہوتا۔الغرض انسان کا تصور ہی نہ ہوتا۔حضرت علی ؓکا قول ہے’’جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا گویا اس نے میرے استاد کا درجہ پایا چاہے تو مجھے بیچ ڈالے ” ۔
آج کی دنیا میں مختلف ممالک پر نظر دوڑائیں تو محسوس ہو گا کہ استاد کی تکریم حاکم وقت سے بھی زیادہ کی جاتی ہے اور کیوں نہ کی جائے وہ لوگ ہیں بھی اسی قابل کہ ان کی عزت کی جائے۔
بلاشبہ استاد کا مقام ایسا ہے جیسے ریڈھ کی ہڈی۔ استاد کی عظمت نہ صرف ایک مستقل قدر ہے ۔ استاد کسی قوم کا وہ معمار ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہوتا ہے وہی بتاتا ہے کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے۔اخلاقیات ،مساوات ،امن اور بھائی چارہ کا درس دیتا ہے۔کہتے ہیں کہ دنیا میں تین طرح کے باپ ہوتے ہیں۔ ’’ایک وہ جو تجھے دنیا میں لایا ، ایک وہ جو تجھے اپنی بیٹی دیتا ہیاور تیسرا وہ جو تجھے علم سیکھاتا ہے‘‘۔ ان میں سے تیسرا باپ سب سے زیادہ عظمت رکھتاہے کیونکہ دنیا میں تجھے آج جو بھی مقام حاصل ہے وہ استاد کی وجہ سے ہی ملا ہے۔علم پڑھانا یہ سنت نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم ہے۔ارشاد ہے کہ! ’’میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں‘’ ۔
استاد کی اس سے بڑھ کر اور اہمیت کیا ہو کہ ہمارے پاک پیغمبر نے اپنا تعارف ایک استاد کی حیثیت سے کرایا ۔ گویا یہ کہنا ہرگز بے جا نہ ہو گا کہ یہ ایک الہامی پیشہ اور مقدس مشن ہے ۔
استاد کی عظمت محتاج بیاں کہاں ؟
دنیا کی کسی قوم نے استاد کا احترام کیے بنا ترقی نہیں کی ۔ ہر ترقی یافتہ مہذب قوم کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے ان محسنان قوم کو عزت دیں اور وہ دیتی بھی ہیں ۔
ملتان میں ایک مدرس کی تزلیل پر بات کرنے سے پہلے بہتر معلوم کا گا کہ اشفاق احمد مرحوم کا واقعہ سن لیا جائے
اشفاق احمد لکھتے ہیں، ’’برطانیہ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر مجھ پرجرمانہ عائد کیا گیا، میں مصروفیات کی وجہ سے چالان جمع نہ کر سکا تو مجھے کورٹ میں پیش ہونا پڑا۔ کمرہ عدالت میں جج نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ نے کیوں چالان جمع نہیں کیا، تو میں نے کہا کہ میں ایک پروفیسر ہوں اکثر مصروف رہتا ہوں اس لیے میں چالان جمع نہیں کر سکا، تو جج نے بولا The teacher is in the court، اور جج سمیت سارے لوگ احتراماً کھڑے ہوگئے، اسی دن میں اس قوم کی ترقی کا راز جان گیا۔‘‘
اس بات سے ظاہر ہے کہ دوسرے ملک جو آج ترقی کر چکے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتے چلے جاتے ہیں انہوں نے یہ مقام استاد کے احترام سے پایا ہے ۔
افسوس مسلمانوں میں جہاں باقی اقدار پستی جا شکار ہیں وہیں استاد کی عزت بھی اب کتابی بات لگتی ہے
ملتان کے ایک کالج کے بد قماش بد معاش اور حرام خور نود دولتیوں نے اپنے رخ پر پڑی منافقت کی نقاب الٹی تو ان کا اصل لیکن بھیانک چہرہ کھل کر سامنے آ گیا ۔ محترم استاد نے فوراً صلح کر کے اس ملک کے نظام انصاف کے رخ پر کرارا تھپڑ مارا ہے ۔ تاہم یہ دیکھ کر دلی تسلی ہوئی کہ اب وہ محترم استاد کھل کر سامنے آ گئے ہیں
اب کورٹ اس ملک کی عدلیہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ ایک استاد کی تزلیل کرنے والے والوں کو قرار واقعی سزا دلوانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے یا

یہ بھی پڑھیں  7ستمبرعقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کاایک تاریخی اوریادگاردن

What is your opinion on this news?