تازہ ترینصفدر علی حیدریکالم

ایک نیا ناٹک

کسی نے کچھ سوچ کر ہی کہا ہوگا کہ عورت کی ناں اور سیاست دان کی ہاں پر کبھی اعتبار مت کرنا۔بات’’ صنف کرخت ‘‘ تک ہی محدود رہے توسب کے حق میں بہتر ہوگا۔ہمارے سیاست دان دن بھر اتنے سانس نہیں لیتے جتنے وعدے اور دعوے کرتے ہیں ۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ جن سے وعدہ کرتے ہیں ،انہیں خودبھی یہ یاد نہیں رہتا کہ وہ کیا کیا وعدے سن چکے ہیں ۔کبھی کبھی تو لگتا ہے ہماری قوم مطالبے کرنے اور وعدے سننے کی اتنی عادی ہو چلی ہے کہ اب تو وہ محض دل پشوری کے لئے اس طرح کی باتیں کرتی اور سنتی ہے ورنہ توانہیں کب کا یہ احساس ہو چلاہے کہ ’’ دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ‘‘۔ سیاست دان ’’پوزیشن ‘‘میں ہوںیا اپوزیشن میں ،خود انہیں بھی مطالبہ سنے اور وعدے ا ور دعوے کئے بنا سکون نہیں آتا ،سو موقع بے موقع نشہ پورے کرنے کے لئے ’’سوٹا‘‘ لگائے بغیر نہیں ٹلتے۔اگر کوئی آدمی صرف قومی سطح کے سیاست دانوں کے وعدوں پر مبنی کوئی کتاب لکھنا چاہے تو اچھی خاصی ضخیم کتاب مرتب ہوجائے۔ جس سے نہ صر ف یہ کہ عوام اور سیاست دان دونوں یکساں طور پر محظوظ ہوں گے بلکہ صاحبِ کتاب بھی دیکھتے ہی دیکھتے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جائے گا۔دیکھئے یہ سعادت کس کے حصے میں آتی ہے؟
وعدوں کا تذکرہ کچھ بے سبب بھی نہیں ۔آ ج راقم کو دوپرانے وعدے کا ذکرِ خیر کرناہے۔یہ وعدے اس نے کیا تھے جو اتفاق سے اس وقت بھی مملکتِ خداد ادکے سیاہ وسفید کا ’’مالک‘‘ ہے۔یہ تب کا ذکر ہے جب اس ملک میں ضیائی آمریت کے سیاہ دور کے بعد پہلی بار قوم کو جمہوری حکومت نصیب ہوئی تھی۔مجھے بھی پہلی باراس جمہوری عہد میں سانس لینے کا موقع ہاتھ آیا تھاجس کی بابت ایک عرصہ سے سیاست دان یہ فرماتے سنے گئے تھے کہ سارے مسائل کا حل جمہوریت میں ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک ایسی ’’ماسٹر کی‘‘ ہے کہ مسائل پڑے تمام زنگ آلود تالے جس سے باآسانی کھل جاتے ہیں ۔کہنے کو تومیاں صاحب لہور کے تخت پر متمکن تھے لیکن کروفرایسا تھا جیسا پورا ملک آپ کے زیرِ نگیں ہو۔آنجناب کسی کو خاطر میں ہی نہ لاتے تھے ۔بی بی کو بالکل بھی نہیں ،جو اتفاق سے اس وقت ملک کی وزیرِ اعظم تھیں۔ان دونوں سیاست دونوں کے درمیان سیاسی رسہ کشی جموریت کے باب میں یقیناًایک سیاہ باب سے کسی طور کم نہیں۔پنجاب میں اپنی وزارت کے شایدپہلے سال وہ میرے آبائی شہر علی پورتشریف لائے اور حسبِ دستور ایک جلسہ عام سے سرِ عام خطاب فرمایا۔کسی پسماندہ علاقے میں صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کی آمدایک غیر معمولی واقعہ تھا جو کافی دن تک اہلِ علاقہ کی گفتگو کا موضوع بنا رہا۔ اس جلسے کے حوالے سے کچھ باتیں راقم کے کانوں تک بھی پہنچیں ۔ان میں دو باتیں (دو وعدے کہنا زیادہ مناسب ہوگا)مجھے آج بھی یاد ہیں ۔ایک تو یہ کہ ریلوے لائن کے ذریعے ڈیرہ نواب اور علی پور کو مظفر گڑھ سے ملا دیا جائے گا۔اور دوسرا یہ کہ علی پور کی عوام کو گھر کی دہلیز پر روزگار کی بلاتعطل فراہمی کی لئے ایک شوگر مل لگائی جائے گی جس سے ہزاروں افراد کو باعزت روزگار مہیا ہوگا۔میرا گمان ہے کہ علی پور کی عوام یہ دونوں وعدے بھول چکی ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک انکی طرف سے اس مطالبہ کی کبھی سرگوشی تک نہیں سنی گئی۔حتی ٰ کہ مخالفین بھی بھلا بیٹھے ہیں ورنہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے ہی سہی یہ بات ان کی زبان تک ضرورآتی۔مجھے یہ وعدہ اس لئے یاد رہا کہ یہ میری زندگی کا پہلا واقعہ تھا کہ میرے صوبے کے سربراہ نے خود تشریف لا کر ہماری عزت افزائی کی تھی (صرف پہلی محبت ہی یاد نہیں رہتی پہلا وعدہ بھی کبھی نہیں بھولتا )اب صورت حال یہ ہے کہ ڈیرہ نواب سے ہیڈ پنجند تک بچھی ریلوے لائن اونے پونے داموں بک چکی ہے جبکہ ریلوے اراضی پر قابضین پنجے گاڑھ چکے ہیں۔اس لوٹ مار کے حوالے سے برقی میڈیا پر کئی ایک پروگرامز بھی پیش کئے جا چکے ہیں لیکن سٹک ہولڈرز کا بال بھی بیگا نہیں ہوا۔جہاں تک شوگر مل کا تعلق ہے تو یہ ہوائی قلعہ بھی اب تک عوام کی رسائی سے دور ہے۔گویا کسی نے ٹھیک ہی کہاہے’’ وہ وعدہ ہی کیا …… جو وفا ہو گیا‘‘
زیادہ دن نہیں گزرے کہ جب میرے ’’نشیب‘‘ میں بی جے پی کا چرچا عام تھا۔بھٹو کی نام لیوا سیاسی جماعت نے الیکشن ڈرامے کے طور پر یہ ڈرامہ رچایا تو ن لیگ بھی پیچھے نہیں رہی ۔پنجاب کی تقسیم کی مخالف جماعت نے جنوبی پنجاب میں خود کوزندہ رکھنے کے لئے ایک اور ناٹک رچایا اوردو صوبے کی قراردادمنظور کرالی۔جنوبی پنجاب میں شاندار
’’ کامیابی‘‘ کے بعد خادم اعلی ٰ نے الگ صوبے کو ناٹک کہہ کر مخالفین کے بد ترین خدشات کی تصدیق کردی۔ اب تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ’’ سب سیکرٹریٹ‘‘ کا نیا شوشہ چھوڑ دیاگیا ہے اورایک لولی پوپ تیار کیا جارہا ہے ۔اس ناٹک کی پزیرائی دیکھنے میں نہیں آئی۔سجاد جہانیہ نے اپنے حالیہ کالم میں اس کی مشروط تائید کی ہے جبکہ خضر کلاسرہ نے کھلے بندوں تنقید۔مجھے بھی اس حوالے سے ن لیگ سے کوئی حسن ظن ہرگز نہیں ۔اگر جنوبی منجاب کو اس کا حق دینا مطلوب ہوتا تو اب تک کوئی نہ کوئی مثبت اشارہ ضرور مل چکا ہوتا۔واقعہ یہ ہے کہ پیشرفت کی بجائے پس و پیش سے کام لیا جارہا ہے ۔جس کا واضح ثبوت یہ نیا ڈرامہ ہے جسے نیا ناٹک بھی کہا جاسکتا ہے۔لگتا ہے ن لیگ نے اپنی مخالف سیاسی جماعت سے سبق سیکھا نہیں سبق لیا ہے ۔اگلے الیکشن میں وہ دو صوبوں کا ایشو سیاسی ڈرامے کے طور پرپلے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔جبھی تو باقی ماندہ عرصہ اسی لولی پاپ کے سہارے گزارنا چاہتی ہے۔
وسیب کی عوام بالعموم اوربہاولپور کی عوام بالخصوص اس ’’گریٹ گیم‘‘ کا حصہ بننا نہیں چاہتی۔ہم خادم اعلیٰ سے کسی لولی پوپ کا نہیں دو صوبوں کا مطالبہ کرتے ہیں جس کا وعدہ کسی فرد واحد نے نہیں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی اسمبلی نے قر دادمنظور کر کے کیا تھا(اور یہ قرار دادکب کی ایوانِ بالا سے منظور ہو کر قانون کا درجہ پا چکی ہے) اس اسمبلی میں بیسیوں ایسے اراکین موجود ہیں جو گذشتہ اسمبلی کابھی نہ صرف حصہ رہے ہیں بلکہ انہوں نے اس قرارداد کے حق میں اپنا ووٹ بھی دے رکھا ہے۔وسیب کی تمام تر محرومیوں کا ازالہ اسی صورت ممکن ہے کہ یہاں کی عوام کو ان کا جائز حق اور مقام دیا جائے۔اگر اسلحہ اٹھا کر لڑنے والے طالبان کے مطالبات مانے جاسکتے ہیں اوربلوچی عوام کی محرومیوں کے ازالے کے لئے مذاکرات کرنے کا سوچا جاسکتا ہے تو قیام پاکستان کے وقت سے اب تک محرومیوں کا شکار وسیب کے لئے ایسے ظرف کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا جا سکتا؟۔کیا امن پسندوں کے لئے پاکستان میں اب کوئی جگہ نہیں رہی؟دہشت گردی میں جھلستے اور نفرتوں میں جلتے اس دیس میں مطالبات منوانے کیلئے ہتھیار اٹھانے اور سڑکوں پر ٹائر جلاکر اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچانے کے سواکیا کوئی تیسرا آپشن موجود نہیں؟؟؟؟

یہ بھی پڑھیں  این اے 125 کا تفصیلی فیصلہ جاری

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker