شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی فیسوں میں ہوش ربا اضافہ

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی فیسوں میں ہوش ربا اضافہ

پاکستان میں نظام تعلیم پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے کیونکہ اس مملکت خداداد کی عوام کو جہالت اور پسماندگی میں دھکیلنے میں حکمرانوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی وہ چاہتے ہیں کہ عوام جب تک جہالت کی دلدل میں پھنے رہے گی تب تک وہ جمہوریت پسند حکمرانوں کے نعروں ،دعوؤں کے نرغے میں بآسانی آتے رہیں گے،یہاں کئی کئی نظام تعلیم ہر طبقے کے لئے الگ الگ سسٹم ،شعبہ تعلیم کے حوالے سے غریب عوام کا جو حال قیام پاکستان کے وقت تھا بنیادی طور پر وہ آج بھی اسی وادی میں بھٹکتے پھر رہے ہیں یہ الگ بات کہ کسی خوش قسمت کا بچہ خداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر اعلیٰ نوکری تک پہنچ پاتا ہے ورنہ غریب کا بچہ کسی اعلیٰ مقام تک پہنچ جائے یہاں نا ممکن ہے اشرافیہ کے لئے مہنگے ترین تعلیمی ادارے غرباء اور لاچاروں کی آمدن سے 100فیصد عدم موافقت رکھتے ہیں،شرمناک بات تو یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سرکاری زمین پر حکومتی سر پرستی میں بنے کیڈٹس کالجز بھی کی فیسیں بھی اس قدرزیادہ ہیں کہ عام آدمی اپنے بچوں کا وہاں بھیجنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا بہرحال مجموعی تعلیمی نظام پر تفصیلی بات پھر ہو گی ،پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے1974میں شہر اقتدار میں پاکستان کی پہلی فاصلاتی نظام تعلیم کے حوالے سے پیپلز اوپن یونیورسٹی س قائم کی،1976میں اس کا نام قائد اعظم اور اگلے سال9نومبر کو تصور پاکستان کے خالق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے نام سے منسوب کر دیا گیا،اس یونیورسٹی میں ملک بھر سے سٹوڈنٹس سے ڈاخلہ لینا شروع کر دیا جن میں زیادتعداد ان طالب علموں کی تھی جوغربت کے باعث کسی تعلیمی ادارے نہ جا سکتے تھے یا جن کے علاقوں میں تعلیمی سہولیات کا مکمل فقدان تھا اور وہ جو کسی صورت باقاعدہ قائم تعلیمی اداروں کا بوجھ برداشت کرنے سے قطعی قاصر تھے، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی یونیورسٹی اپنے فاصلاتی نظام تعلیم کے اعتبار سے ایشیاء کی سب سے بڑی یونیورسٹی کا روپ دھار گئی ، ملک بھر کے ہر علاقے جن میں گلگت بلستان ،آزاد کشمیر،پنجاب، سندھ ،خیبر پی کے اور بلوچستان میں44ریجنل آفس قائم ہیں جبکہ طالب علموں کی تعداداس وقت 30لاکھ سے زائد ہے یہ وہ یونیورسٹی ہے جس میں 90فیصد وہ لوگ ہیں جن کا تعلق انتہائی پسنماندہ علاقے ،طبقے سے ہے جن میں وہ ملازمت پیشہ افراد بھی شامل ہیں جو ساتھ ساتھ اپنے تعلیمی اخراجات کے لئے محنت مشقت سے ادا کر رہے ہیں باقی وہ لوگ ہیں جو عمر کے لحاظ سے کسی ریگولر یونیورسٹی میں داخلہ نہ لے سکے تو انہوں نے ادھر کا رخ کر لیا مگر انہیں کم یا زیادہ فیس سے کوئی غرض نہیں، مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر خاص عرفان صدیقی (جو کسی دور میں ایسی حکومتوں کو نظام کے سب سے بڑے ناقد تھے) کے بھائی ڈاکٹر شاہد اقبال صدیقی کو اس یونیورسٹی کا مختار کل بنایا گیا،اب عوام کی امنگوں کی ترجمان تحریک انصاف کی حکومت نے انتہائی تجربہ کار شخصیت اور ہمارے سابق حکمرانوں کے دیس برطانیہ سے تعلیم یافتہ ڈاکٹر ضیا ء القیوم کو چند ماہ قبل وائس چانسلر مقرر کر دیاہے ،پی ٹی آئی کے مقرر کردہ وائس چانسلر کے ابتدائی اقدام وہ ہیں جن سے یونیورسٹی کے دورازے غریبوں پر بند کردئیے،سمجھ سے باہر ہے ایسے لوگ کس کی سفارش پر ،کس کے ایجنڈے پر حکومتی دعوؤں کے برعکس کام میں مصروف ہیں،وزیر اعظم عمران خان کو اس بات کی مکمل تحقیقات کے بعد انہیں یہاں سے گھر بھیجنا چاہئے کہ وہ اس قدر غریب عوام دشمن کیوں ہیں کیا ان سے قبل یہ یونیورسٹی کام نہیں کر رہی تھی،اس کے اخراجات کسی طور پورے نہیں ہو رہے تھے کہ انہوں نے آتے ہی سب سے پہلا یہ کام کیوں کیا جس کے باعث غریب عوام بھاری فیسوں کی ادائیگی میں آنسو بہائیں،رو پڑیں،فاقے کاٹیں یا پھر جاری تعلیم کو ہی خیر باد کہہ دیں،2015سے قبل بی ایڈ کی فی سمسٹر فیس 3ہزار اور کل12ہزار ،سابق وائس چانسلر نے اسے نہ صرف 12ہزار فی سمسٹر کر دیا بلکہ بی ایڈ کے پروگرام کو بھی چار سالہ کرنے کا فریضہ انجام دیااب صرف ایم اے پاس نوجوان ہی بی ایڈڈیڑھ سالہ پروگرام میں حصہ لے سکتے ہیں، نئے تعلیم ،غریب ،حکومتی منشور کے دوست اور ماہر تعلیم وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے بی ایڈ کی فیس میں ایک دم پچاس فیصد اٖاضافہ کرتے ہوئے اس کی فی سمسٹر فیس18ہزار سے زائد اسی طرح یونیورسٹی کے کسی بھی ماسٹر پروگرام میں کی پہلے فیس12ہزار کو بڑھا کر40ہزار روپے فی سمسٹر کر دی گئی ہے ,کیا یونیورسٹی کے اقتصادی معاملاتبہتر کرنے میں یہی ایک طریقہ تھا بچت کے دیگر کوئی ذرائع ان کی نظروں سے اوجھل ہیں؟اسے بہتری کہا جا سکتا ہے جس سے لوگ تعلیم ہی جاری نہ رکھ پائیں؟،آفرین ہے اس حکومتی چوائس پر جس نے ملک کی واحد یونیورسٹی جو مکمل طور غریب عوام کے لئے تعلیم کا آسان اور سستا ذریعہ ہے بھی ان سے چھین لیا ہے،ان لوگوں میں خدا کا کچھ خوف نہیں بتایا جائے غربت کی چکی میں پسی غریب عوام اپنے بچوں کی بھاری فیس کیسے ادا کرے؟ڈاکٹر ضیاء القیوم نے تو غریب عوام کے خواب تک چھین لئے ہیں،مجھے کل ہی ایک غریب ریڑھی بان ملا جس کی بچی بی ایڈ کے دوسرے سمسٹر میں ہے نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ آئندہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی فیسز ادا کرنے کی اسطاعت ہی نہیں رکھتا اس لئے اس نے بیٹی کہہ دیا کہ وہ مزید تعلیم کا خاب چھوڑ دے کیونکہ یہاں خوابوں کو چکنا چور کرنے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ،اس ملک میں اس ریاست میں سہانے خواب تو بہت دکھائے جاتے ہیں مگرجب ان پر انگریزوں اور دیگر یورپی ممالک کے تعلیم یافتہ لوگ ان پر مسلط کر دئیے جاتے ہیں جو ہم جیسوں کے ارمانوں کو لہولہان کرنے میں وہ کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتے ،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اس یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں کیا انہیں نہیں پتا کہ نیچے کیا ہو رہا ہے؟سب پتا ہے مگر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنا ایوان اقتدار کی راہداریوں میں بسنے والوں کا پرانا وطیرہ ہے،وزیر اعظم عمران خان قومی سطع پر ایک بہترین ویژن کا خواب آنکھوں میں بسائے ہوئے ہیں اور ساری قوم کی نظریں ان پر ہیں وہ قوم کو ایسے ماہرین چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبہ سے ہے اور جن کا ایجنڈا عمران خان کا نہیں کسی اور کا ہے سے قوم کو فوری طور نجات دلائیں،اس لمحات میں مجھے چند روز قبل نئی قائم اوکاڑہ یونیورسٹی کے پہلے وائس چانلسر ڈاکٹر زکیا ذاکر کی وہ بات بہت یاد آرہی ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ کوئی طالب میری یونیورستی کا گیٹ کراس کر آئے اور پھر وہ مالی حالات کی وجہ سے تعلیم جاری نہ رکھ پائے ،ایسا ممکن ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ:تحصیل آفیسر ریگو لیشن ملک مخدوم کاناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن