تازہ ترینرپورٹس

57 فیصد فضائی حادثات پائلٹ کی غلطی،21 فیصد تکنیکی اور16 فیصد موسم کی خرابی کے باعث پیش آئے

لاہور﴿بیورو رپورٹ﴾ طیاروں کے حادثے اور مسافروں کی جانوں کا ضیاع نئی بات نہیں ہے1950سے اب تک دنیا بھر میں کئی طیارے تباہ ہوئے جوہات کیا تھیں1950 کی دہائی سے اب تک کے حادثوں پر نظر ڈالی جائے تو اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر طیارے پائلٹ کی غلطی سے گر کر تباہ ہوئے1950 میں 57 فیصد فضائی حادثات پائلٹ کی غلطی سے ہوئے21 فیصد تکنیکی اور 16 فیصد موسم کی خرابی کے باعث پیش آئے1960 میں56 فیصد حادثوں کا ذمہ دار پائلٹ کو ہی قرار دیا گیا1970،80، 90 اور2000 کی دہائیوں میں بھی سب سے زیادہ حادثے پائلٹ کی غلطی کی وجہ سے پیش آئے۔ اب تک گرنے والے طیاروں میں 50فیصد غلطی پائلٹ کی قرار دی گئی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں زیادہ تر طیارے ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران گرے۔ ٹیک آف اور ابتدائی پرواز کے دوران30 فیصد حادثے کا شکار ہوئے جبکہ لینڈنگ اور اس سے کچھ وقت قبل گرنے والے طیاروں کی تعداد 25 فیصد بتائی گئی ہے۔طیارہ حادثے میں مسافروں کے بچنے کی امید کم ہوتی ہے۔ لیکن1950 میں خوش قسمت مسافروں کی تعداد20 فیصد رہی۔1960 میں19 فیصد، 1970 میں25 فیصد، 1980 میں34 فیصد، 1990 میں 35 فیصد جبکہ2000 میں24 فیصد رہی۔ گذشتہ کئی دہائیوں میں طیارے حادثے کی رپورٹس سامنے آئیں اس کے مطابق پرندوں کے ٹکرانے، ائیرٹریفک کنٹرول کی غلطی، کارگو سیکشن میں آگ لگنے، طیارے کے ڈیزائن میں غلطی، فیول کی کمی، ہائی جیکنگ، آسمانی بجلی گرنے اور پائلٹ کی دوران پرواز طبیعت خراب ہونا وجوہات تھیں۔پاکستان میں جمعہ کی شام پیش آنے والا بھوجا ائیر لائن کا حادثہ ملکی تاریخ کے بڑے فضائی حادثات میں سے ایک ہے جبکہ اس سے پہلے بھی کئی فضائی حادثات ہوچکے ہیں ‘جنیو ا میں قائم ’’ایر کرافٹ کریشز ریکارڈ آفس‘‘ کے، جو ایک نجی حیثیت میں کام کرنے والا ادارہ ہے ، اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی تاریخ کا پہلا ہوائی حادثہ بیرون ملک 20 مئی 1965 ئ کو پیش آیا۔ اس حادثے کا شکاوہونے والی پی آئی اے کی فلائٹ نمبر 705 بوئنگ 720 براستہ قاہرہ لندن کے افتتاحی روٹ پر تھی۔ یہ جہاز قاہرہ ائیر پورٹ پر لینڈنگ کرتے ہوئے تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں 124 افراد جاں بحق ہوئے تھے ، جن میں 22 صحافی بھی شامل تھے‘ دوسرا حادثہ فوکر طیارے F27 کا تھا جو 6 اگست 1970 کو جیسے ہی اسلام آباد ائیر پورٹ سے بلند ہوا طوفان میں گھر گیا اور راولپنڈی سے گیارہ میل دور ’’راوت‘‘ کے مقام پر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں تمام 30 افراد جاں بحق ہو گئے تھے8 ستمبر 1972 کو فوکر طیارہ F27 ﴿فلائٹ نمبر 631﴾ اسلام آباد سے اڑنے کے بعد راولپنڈی کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ جہاز میں سوار 26 مسافر جان کی بازی ہار گئے تھے‘26 نومبر 1979 کو پی آئی اے کا بوئنگ 707 فلائٹ نمبر740 جدہ ائیر پورٹ سے حاجیوں کو لے کر وطن واپس آ رہا تھا کہ طائف کے قریب اس کے کیبن میں آگ لگ گئی اور جہاز جل کر تباہ ہو گیا اور 145 مسافر اور عملے کے گیارہ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے‘23 اکتوبر 1896 کو پی آئی اے کا فوکر F27 پشاور کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ جہاز میں سوار 54 افراد میں سے 13 جاں بحق ہوئے‘25 اگست 1989 کو پی آئی اے کا فوکر طیارہ PK-404 گلگت کے قریب برف پوش پہاڑوں میں گر کر لاپتہ ہو گیا۔ 21 سال گزرنے کے باوجود جہاز کا ملبہ اور لاشیں نہیں مل سکی ہیں۔ جہاز کی تلاش میں 73 امدادی مشنز بھیجے گئے جو ناکام رہے۔ واضح رہے کہ طیاروں کے ایر کرافٹ کریشز ریکارڈ آفس اور دیگر اداروں نے لاشیں اور جہاز کا ملبہ نہ ملنے کے باعث اسے ابھی تک حادثہ تسلیم نہیں کیا ہے‘28 ستمبر 1992 کو پی آئی اے کی ائیر بس A300 فلائٹ نمبر268 نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو سے صرف چندمنٹ کی دوری پر بادلوں سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں سے ٹکراکر تباہ ہو گئی۔ عملے کے12 افراد سمیت 155 مسافر ہلاک ہو گئے۔ اس حادثے کی وجہ جہاز کی مقرر کردہ بلندی سے تقریبا 1600 فٹ نیچی پرواز تھی یہ پاکستان کی تاریخ کا بیرون ملک مسافر بردار ہوائی جہاز کا سب سے بڑا حادثہ تھا‘اس سانحے کے 14 سال بعد 10 جولائی 2006 کو پی آئی اے کا فوکر طیارہ F27 فلائٹ نمبر 688 فضا میں بلند ہونے کے دس منٹ بعد ملتان کے قریب گندم کے کھیتوں میں گر کر تباہ ہو گیا۔ لاہور جانے والی اس فلائٹ میں عملے کے چار ارکان کے علاوہ 41 مسافر جاں بحق ہوئے تھے۔ حادثے کی وجہ فنی خرابی قرار دی گئی‘28 جولائی 2010 کو نجی ائیر لائن ائیر بلو کا جہاز ائیر بس A321 اسلام آباد کے قریب شمال مشرق میں مارگلہ میں پہاڑیوں میں گر کر تباہ ہو گیا‘کراچی سے روانہ ہونے والی اس فلائٹ میں عملے کے چھ افراد سمیت تمام 152 افراد جاں بحق ہو ئے جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اب تک مسافر طیارے گرنے کے4 واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ اسلام آباد میں بھوجا ایئرلائن کے طیارے کو حادثے کے بعد اسلام آباد میں طیاروں کو پیش آنے والے حادثات میں گزشتہ دوسال میں یہ دوسرا واقعہ ہے اور مجموعی طور پر اسلام آباد میں ایسے چار واقعات پیش آچکے ہیں۔ اس سے قبل بھی نجی ائرلائن ایئربلو کا طیارہ 28 جولائی 2010 کو پیش آیا تھا جس میں 152لوگ جاں بحق ہوئے تھے۔ پاکستان میں پی آئی اے کے زیر استعمال فوکر طیارے کا پہلا حادثہ 1977میں پیش آیا جس میں 30افراد مسافر جاں بحق ہوئے۔ دوسرا 1972میں پیش آیا اور اس حادثے میں26 افراد جاں بحق ہوئے تھے یہ دونوں واقعات اسلام آباد میں رونما ہوئے۔ اب تک اسلام آباد میں طیاروں کو پیش آنے والے حادثات میں دو نجی ایئرلائن اور دو پی آئی اے کے طیارے شامل ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: منشیات فروش سمیت تین افراد سے چرس ،ناجائز اسلحہ برآمداور 3اشتہاری ملزمان گرفتار، سرکل ڈسکہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker