تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

کیا یہ ایشیا کی ترقی کی صدی ہے؟

جرمنی کے ایک اقتصادی ماہر ڈاکٹر وولف پراؤس نے حال ہی میں ایشیائی ملکوں کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے بارے میں اپنے تجزیئے پر مبنی ایک دستاویز مرتب کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ عالمی اقتصادی میدان میں ایشیائی ملکوں کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے۔اور ان کی کارکردگی کو مزید فعال اور بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ جرمنی اس علاقے کے ملکوں کے ساتھ اپنے ترقیاتی تعاون اور اشتراک عمل کا دائرہ کار بڑھائے۔اگرچہ ایشیائی ملک ثقافت ،اقتصادی اور سیاسی نظاموں کے اعتبار سے ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار کسی بھی طرح ممکن نہیں ہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم (ASEAN)کے ممبر ملکوں کے علاوہ ،جاپان،جنوبی کوریا اور تائیوان ترقی کی منزلیں طے کر چکے ہیں اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہے ہیں اور اسی تناسب سے عالمی معیشت میں ان کا کردار بڑھ رہا ہے ۔جرمنی اپنے مالی و فنی اشتراک کے ذریعے ایشیائی ملکوں سے قریبی اور موثر تعاون کر رہا ہے۔اگرچہ ایشیا کے مختلف ملکوں میں ترقی کی رفتار کی شرح ایک دوسرے سے خاصی مختلف ہے لیکن بحیثیت مجموعی ایشیائی ملک افریقی اور لاطینی امریکہ کے ملکوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ایشیائی ملکو ں نے تربیت یافتہ انتظامی اور فنی عملے اور برآمدات کی غرض سے مصنوعات کی تیاری کے میدان میں بطور خاص نمایاں ترقی کی ہے۔جرمنی نے اپنی ترقیاتی پالیسی کے تحت ان ملکوں میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمدکرنے میں اہم کردار ادا کر رہاہے۔ترقیاتی منصوبوں کے سلسلے میں جرمنی نے ان ملکوں میں صنعتی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچہ استوار کرنے یعنی بجلی،ٹرانسپورٹ اور ٹیلی مواصلات جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ اور عملی تعاون کا مظاہرہ کیا ہے ۔جرمنی کا ترقیاتی تعاون نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے اور اب یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ اگر ان ملکو ں میں غربت مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی ہے تو اس میں واضح کمی واقع ہو چکی ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جرمنی عالمی بنک کے تصور سے جن اسکیموں میں تعاون اور اشتراک عمل کر رہا ہے اس کے بارے میں یہ توقع کرنا قطعاً بے جا نہ ہو گا کہ 2012تک دنیا بھر میں 25کروڑ انتہائی غریب افراد کی حالت خاصی بہتر ہو جائے گی۔ایشیا کے کئی ملک جرمن پالیسی کے مطابق کوششوں کے نتیجے میں انفرادی طور پر اپنی پوزیشن بہتر بنا چکے ہیں ۔ملائشیا ،جنوبی کوریا،اور تھائی لینڈ جیسے ممالک ترقی پزیر ملکوں میں ممتاز مقام حاصل کر چکے ہیں اور اس طرح انہوں نے سرمائے کی منڈیوں میں رسائی حاصل کی لی ہے۔ان ملکوں کے ساتھ جرمنی کے تعاون کا دائرہ حکومتی سطح سے بڑھ کر نجی شعبے تک پھیل چکا ہے اور اس طرح وہ جرمنی کے نجی شعبے کی طرف سے سرمایہ کاری کے علاقے ،ٹیکنالوجی کی منتقلی سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ان ملکوں کی ترقی سے ان ملکوں کے عوام کے علاوہ علاقے کے دوسرے ملکوں کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس کے برعکس بنگلہ دیش،سری لنکا ،افغانستان اور فلپائن جیسے ملکوں میں جنگوں ،قدرتی آفات اور خانہ جنگیوں کی وجہ سے ان کی معیشتوں کو شدید نقصان بلکہ تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔بہر حال جرمنی ان ملکوں کی معیشت کو بھی صحیح راہ پر گامزن کرنے کے لیے ترقیاتی امداد مہیا کر رہا ہے اور جرمنی بروقت مناسب ترقیاتی امداد کی وجہ سے ان ملکوں کی معیشتوں میں بھی بہتری کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں ۔دیگر حقائق کی طرح اعداد و شمار خود بولتے ہیں ۔جرمنی کا شمار بلا شبہ ان ملکوں میں ہوتا ہے جو تیسری دنیا کے ملکوں کو امداد دینے والو ں میں سر فہرست ہیں۔1989ء سے پہلے حکومتی سطح پر ترقی پزیر ملکوں کے لیے جرمنی کی امداد کی مالیت 9ارب 21کروڑ مارک تھی۔1989ء میں وفاقی جمہوریہ جرمنی کی سرکاری امداد (ODA)میں 11فیصد اضافہ ہوا اور آنے والے برسوں میں بھی اتنے ہی اضافے کی توقع ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ جرمن کے اقتصادی ،سیاسی و عسکری ماہرین دانشور اور صحافی ایشیا کی طرف نہ صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ عملی اقدامات اٹھانے کے لیے حکمرانوں کو مجبور کر رہے ہیں۔جرمن پالیسی ساز ادارے بھی ایسی ہی پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں جو جرمن کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں۔ڈاکٹر وولف پراؤس کا ایشیائی معیشتوں کے بارے میں تجزیہ سو فیصد درست ہے اور اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ جرمن ایشیائی ملکو ں میں اپنا تجارتی اور صنعتی اثر و رسوخ بڑھائے ۔پاکستانی حکمرانوں کے پاس وقت ہی نہیں ہے کہ وہ جرمن کی طرح صرف و صرف سوچ ہی کا متحمل ہو سکے۔جرمن اور جاپان ان ممالک میں سے ہیں جو اس وقت سائنسی تحقیق میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔دو عالمی جنگوں میں بری طرح شکست و ریخت سے دوچار ہونے کے باوجود بین الاقوامی منڈی میں حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیں
جو قومیں نظم و ضبط کی پابند ہو ں،دیانتداری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہو،محب وطن ہوں،جھوٹ کو سب سے بڑی لعنت تصور کرتی ہوں۔اخوت و محبت اور بھائی چارے ایسی صفات کو فروغ دیتی ہوں۔امن و آشتی ان کا زیور ہو۔انسانی خدمت کو فرض اولین قرار دیتی ہوں۔پابندی وقت کو فرض سمجھتی ہوں وہ کبھی زوال پزیر نہیں ہوتیں۔
ذرا سوچئے! کیا ان میں سے کوئی ایک صفت بھی ہم میں ہے؟ ہم کتنے بدقسمت ہیں اور یہ بدقسمتی حکمرانوں کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ ہم سب اس حمام میں ننگے ہیں۔جھوٹ ،فریب،مکاری اور حرام خوری ایسی ظالمانہ صفات ہماری سرشت میں گر کر چکی ہیں۔ہمارا ہر ادارہ چاہے سرکاری ہے،نیم سرکاری ،خود مختار یا نجی سب کے سب کرپشن و بدعنوانی کی دلدل میں گلے گلے تک دھنسے جارہے ہیں اور حرام کی دولت کمانے کے لیے غیرت اور ملکی سلامتی بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں جہاں کے حکمران بد عنوان ،کرپٹ ہوں گے وہاں کے عوام ان سے بھی بدتر ہوں گے ۔کسی بزرگ نے سچ کہا ہے کہ جیسی روح ویسے فرشتے اور جیسے عوام ویسے حکمران۔

یہ بھی پڑھیں  حجرہ شاہ مقیم :حجرہ شاہ مقیم میں بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker