تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

ایشیاکی ترقی و خوشحالی کے دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

جرمن اقتصادی ماہرین نے 30برس قبل یہ اندازہ کرلیا تھا کہ اکیسویں صدی میں ایشیا غیر معمول ترقی کرے گا اس لئے جرمن کی حکومت نے ایشیائی ممالک سے قریبی تعلقات کو فروغ دینے اور تجارتی و اقتصادی پالیسیوں میں ردوبدل کرنا شروع کردیا تھا فرانس کے سابق صدر متراں اور جرمن کے چانسلر ہلمٹ کوہل نے ایشیائی ممالک کے ساتھ ٹھوس اور جامع تعلقات بنانے کا عزم کرلیا تھا جرمنی تمام شعبوں میں ایشیا کے ساتھ قریبی شراکت اور تعاون کا عزم رکھتا ہے جرمنی کے اس عزم کے حق میں سب سے اہم دلیل وفاقی حکومت کا ایشیائی تصور جو1993میں اپنایا گیا تھا علاوہ ازیں دیگر کئی باتوں سے بھی جرمنی کے اس عزم کی عکاسی ہوتی ہے جن میں جرمن صنعتوں کی فیڈریشن بی ڈی ایل جرمن انجمن صنعت و تجارت بی آئی ایچ ٹی اور مشرقی ایشیا ایسوسی ایشن (او اے وی) کے مشترکہ اقدام سے ہوتی ہے مزید برآں 1996میں جرمن میں صنعت کی ایشیا بحرالکاہل کمیٹی (اے پی اے) کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی مارچ 1996کی بنکاک کانفرنس میں شرکت کرنے والے جرمن وفد نے یہ بات نوٹ کی کہ اکیسویں صدی میں ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقے کے ملکوں کا مستقبل بہت شاندار اور غیر معمول ہوگا جرمن ماہرین کا اندازہ ہے کہ مستقبل قریب میں ایشیائی خطے کی اقتصادی ترقی کی شرح 7فیصد سے بڑھ کر8فیصد سالانہ ہوجائے گی اس طرح کاروباری ترقی کے لحاظ سے یہ خطہ دنیا کا فعال ترین خطہ ہوگا اس علاقے کے ممالک سے تعلقات بڑھانے کے سلسلے میں ایشیا کے متعلق متحرک پالیسی میں اس بات کا بطور خاص خیال رکھا جائے گا کہ اس علاقے کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دی جائے سابق چانسلر ہلمٹ کوہل کے بقول محفوظ مستقبل اور امن کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے 1995کے دوران کئی سرکاری حکام کے دوروں کی وجہ سے جرمنی اور ایشیائی ملکوں کے درمیان دو طرفہ مذاکرات میں کافی اضافہ ہوا یورپی یونین بھی نئے مواقع کی تلاش میں مصروف ہے (اے ایس ای ایم) ایشین یورپین اجلاس 1996کے شروع میں بنکاک میں ہوا جس کا مقصد دونوں خطوں کے تعلقات بڑھانا تھا اور جاپان کے شہر اوساکا میں 1995میں ہونے والی ایشیائی بحرالکاہل اقتصادی کانفرنس (اے پی ای سی) کے مقاصد کو آگے بڑھانا تھا بنکاک کی سربراہ کانفرنس میں یورپی یونین پندرہ ممبر ملکوں اور جنوب مشرقی ایشیا ئی ملکوں کی تنظیم آسیان کے سات رکن ملکوں کے علاوہ جاپان عوامی جمہوریہ چین اور جنوبی کوریا نے بھی شرکت کی جنوری 1996میں اٹلی کے شہر وینس میں ثقافتی اقدار اور ٹیکنالوجی کے بارے میں یورپی یونین کے بیرونی تعلقات کے معاملے میں ایشیا کو اب مرکزی حیثیت حاصل رہے گی بنکاک کی سربراہ کا نفرنس کے ایجنڈے میں جن امور کو فوری توجہ طلب قرار دیا گیا تھا ان میں تجا رت بڑھانے، سیکورٹی پالیسی ڈائیلاگ، ترقیاتی پالیسی میں تعاون غربت کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات اور تحفظ ِ ماحول کے اقدامات میں زیادہ سے زیادہ تعاون کے معاملات تھے جرمنی کے دانشوروں کا کہنا ہے کہ روس اور چین کو بھی ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے چونکہ ایشیا میں ان کے اثر و رسوخ کی زیادہ ضرورت ہے انکی ترقیاتی پالیسیوں کو بہتر انداز دینا ضرور ی ہوگا امریکہ بھی ایشیا میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی بڑھا رہاہے اسی لئے وہ افغانستان اور بھارت کے ساتھ گہرے مراسم بنانا ضروری سمجھتا ہے جرمن دانشوروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو چاہئیے کہ وہ پالیسی ساز منصفا نہ اور پائیدار ترقی کے ان عوامل کو کما حقہ اہمیت دیں پاکستان کے پالیسی ساز وں کو یہ بات ذہن نشین کرلینا چاہئیے کہ دوسرے پارٹنرز ممالک امریکہ، یورپی یونین، روس، چین، جاپان حتیٰ کہ جنوبی مشرقی ایشیائی ممالک اور بھارت اورو سط ایشیائی ممالک وسط ایشیائی اور بحیرہ عرب کے درمیان بنیادی سہولتوں کے ڈھا نچے کی عدم موجو دگی میں بھی مزید ترقی کرسکتے ہیں لیکن بنیادی سہولتوں کے فراہم ہوجانے کے بعد یہ ممالک اور زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرسکتے ہیں تاہم ان سہولتوں کی فراہمی پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے لہٰذا پاکستان کو بڑے جرات مندانہ اقدامات کرنا ہوں گے جس سے ملک کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا اگر ایسا سازگار ماحول پیدا نہ کیا گیا تو اس صورت میں کوئی ملک سرمایہ کا ری نہیں کرے گا وقت تیزی سے گذ ر رہا ہے اور عالمی ماحول تبدیل ہورہا ہے اگر پاکستان نے یہ موقع ضائع کردیا تو بد قسمتی ہوگی سی پیک منصوبے کو محفوظ بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ ممالک کو شریک کرنا ہوگا خاص طور پر بھارت، ایران اور افغانستان کو قریب لانا ہوگا ان کے تحفظات کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کرنا ہوگی اس وقت پورے یورپ اور مغرب کی نظریں ایشیا کی طرف ہیں اور وہ ایشیا سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے متمنی ہیں امریکہ کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا چہ جائکہ وہ علاقہ میں تھانیداری کا سا رویہ اختیار کر کے اسے دوستانہ اور منصفانہ کردار ادا کرنا چاہیے اسی میں ہم سب کی فلاح اور بہتری ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پتوکی:موسلا دار بارش, گلیاں اور بازار ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker