ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

’’اعتکاف‘‘ مسلمان اور اللہ کے درمیان رابطہ

اللہ تعالیٰ نے تین اقسام کی مخلوق پیدا کی ہیں۔نوری ،ناری اور خاکی یعنی فرشتے،جن اورانسان ۔ خاکی ہونے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا ۔ انسان روح اور جسم کا مجموعہ ہے اور اس کے جسم کو مٹی سے بنایا گیا جب کہ روح امر ربی ہے جو آسمان سے آیا ہے ۔ جسم کی ضروریات کاتمام سامان زمین سے لیا گیا ۔ تمام تر اناج غلّہ پھل اور پھول زمین سے اْگائے جبکہ روح کی غذا کا اہتمام آسمانوں سے ہوتاہے ۔ انسان سال کے گیارہ ماہ اپنی جسمانی ضرورتوں کو اس کائنات میں پیدا ہونے والی اشیائ سے پورا کرتے ہیں اور اپنے جسم کو تندرست و توانا رکھتے ہیں۔مگر روح کی غذائی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہمیں پورے سال میں ایک مہینہ ہی میسّر آتا ہے جو رمضان المبارک کا ہے۔جس کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کردئیے گئے جس طرح تم سے پہلی قوموں پر فرض کئے گئے تھے۔
اسی ماہِ میں قرآن کریم نازل ہوا اورجس کے ذریعے انسانیت کو ہدایت ملی اور انسان کا ہدایت یافتہ ہونا ہی دراصل روح کی تندرستی ہے۔اس مہینے کو تربیت کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ سب ایک ہی وقت پر سحری کا خاتمہ کرکے نماز پڑھنے کے ساتھ عبادات میں مشغول ہوجاتے ہیں۔اور سورج غروب ہوتے ہی ایک وقت پرروزہ افطار کرتے ہیں۔اس ماہ میں صبر کی تربیت بھی دی جاتی ہے کہ بقیہ گیارہ مہینوں میں کس طرح صبر کیا جائے۔
رمضان المبارک رحمت کا مہینہ بھی ہے ۔پورے سال میں مسلمان ارادی اور غیر ارادی طور پر گناہوں کے پہاڑبنا لیتے ہیں لیکن جب رمضان میں رحمتوں کا نزول ہوتا ہے تو پھر سارے مسلمان عشرہ رحمت سے فیض یاب ہوتے ہیں۔
ماہ رمضان کا دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے جس میںہمیںاپنے ربِ کائنات سے مغفرت مانگنی چاہیئے کہ وہ ہم سب کی مغفرت فرمائے اور گناہوں کو معاف کرے۔
تیسرا اور آخری عشرہ دوزخ سے نجات کا ہے جس میں نجات مانگنے والوں کو دوزخ کی آگ سے نجات دے دی جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا روزہ گناہ کے خلاف ایک ڈھال ہے لہذاٰ روزہ دار کو چاہیئے کہ وہ نہ تو فحش کلامی کرے اور نہ ہی جاہلوں جیسا کام ،اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ایک اور حدیث کے مطابق رمضان المبارک میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔سارا سال جنت کو سجایا جاتا ہے ۔
رمضان المبارک کے ان گنت فضائل ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ قیامت کے دن روزہ دار جنت کے ایک دروازے ریان سے داخل ہونگے جس میں کوئی دوسرا داخل نہیں ہوسکے گا۔آواز دی جائے گی کہ روزہ دار کہاں ہیں؟ وہ اْٹھ کھڑے ہوں گے اْن کے سوا کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا اور روزے داروں کے داخلے کے بعد اسے بند کردیا جائے گا۔
رمضان کے تیسرے اورآخری عشرے میں اعتکاف جیسی فضیلت بھی شامل ہے۔اس عشرے میں مسلمان اعتکاف کرتے ہیں ۔ اعتکاف کرنے والے اللہ کے مہمان ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے انتہائی قریب ہوتے ہیں۔اعتکاف کا مقصد اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ خود کو وابستہ کرنا ہے۔ اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ یعنی بیسویں روزہ کے سورج غروب ہونے سے قبل کسی ایسی مسجد میں جہاں جماعت پنجگانہ کا اہتمام ہوتا ہو، نیت کر کے عید کا چاند نظر آنے تک مسجد میں رہنے والی ایک خاص عبادت کا نام ہے۔ جسے اعتکاف کہتے ہیں۔ نئی کریم ö ان ایام میں اعتکاف فرماتے تھے۔ اس لئے ہر بستی میں کم از کم ایک آدمی کو ضرور اعتکاف میں بیٹھنا چاہئے ورنہ تما م بستی ، شہر یا گائوںگناہگار ہے ۔
حدیث پاک میں اعتکاف کی خاص فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔ نبی اکرمö کا ارشاد پاک ہے۔ معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اس کے لئے نیکیاں اتنی لکھی جاتی ہیں جتنی کرنے والے کے لئے لکھی جاتی ہیں۔ اعتکاف کا مقصداللہ تعالی کی ذات پاک کے ساتھ خود کو وابستہ کرنا ہے ۔ انسان اپنے قلب کو دنیاوی چیزوں سے علیحدہ کرے اور اپنے نفس کو اپنے مولیٰ کے سپرد کر کے اس کی چوکھٹ پر ندامت کے آنسوئوں اور بخشش کی طلب کے لئے گر پڑے۔ اعتکاف میں ہر وقت عبادت کی مشغولیت یعنی سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے عبادت شمار ہوتی ہے۔ اعتکاف سے جماعت کیساتھ نماز پڑھنے کا خوب موقع میسر آتا ہے اس لئے ہر وقت انتظار صلوۃ کا ثواب شمار ہوتا رہتا ہے۔
البتہ جو لوگ دیہات سے جمعہ پڑھنے کے لئے قصبات میں جمعہ والی بڑی مساجد میں آیا کرتے ہیں وہ اپنے گائوں میں ظہر کی نماز با جماعت ادا کریں۔ مگر وہ دوسرے شہر میں حالت اعتکاف میں نماز جمعہ ادا کے لئے نہ جائیں ضرورت طبعی اور شرعی کے بغیر مسجد اعتکاف سے تھوڑی دیر کے لئے باہر نکلنا بھی اعتکاف توڑ دیتا ہے۔ چاہے یہ نکلنا بھول کر ہی کیوں نہ ہو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اعتکاف میں بھول نہیں ۔ اعتکاف میں فضول اور غیر ضروری باتیں نہ کرے ہر وقت تلاوت اور عبادت میں اپنے آپ کو مشغول رکھیں۔ہر مسلمان کو عام دنوں میں جب بھی مسجد میں داخل ہوں تو نیت اعتکاف کر لینا چاہیے تاکہ نماز پڑھنے کے ثواب کے ساتھ ساتھ ایک اور عبادت کا مفت ثواب ملتا رہے اور مسجد کا تقدس بھی بحال رہے جو عموما بغیر نیت اعتکاف ہماری غیر ضروری باتوں سے مجروح ہوتا ہے جس سے ہم لوگ غافل ہیں اور سستی کر جاتے ہیں اور گناہگار ہوتے ہیں ۔
عورت بھی اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ گھر میں نماز کی ادائیگی کی پہلے سے مقرر شدہ جگہ نہ ہو تو ایک جگہ مقرر کر کے اعتکاف کی نیت کر کے اعتکاف میں بیٹھ جائے۔ اللہ تعالی ہمیں رمضان المبارک کی ان با برکت اور رحمت کی گھڑیوں میں عمل صالح کی توفیق عنایت فرمائے ۔روزہ، تلاوت قرآن پاک، لیلتہ القدر، تراویح اور اعتکاف کی عبادات کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی رحمت و شان کے مطابق ہم گناہگاروں کے صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف فرما کر اپنا خصوصی فضل و کرم نازل فرمائے ﴿آمین ﴾بشکریہ ﴿پریس لائن انٹرنیشنل﴾

یہ بھی پڑھیں  سردارذوالفقار کھوسہ کی نواب آف قلات کی نواسی سے شادی

 

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker