تازہ ترینصابرمغلکالم

اعتراف.

sabir mughalپشاور کے المناک سانحہ کے بعد وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے غیر ملکی میڈیا سے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ2013میں چار ماہ تک طالبان تک مذاکرات کئے گئے تھے اس وقت فوجی آپریشن کرنا چاہئے تھا لیکن ہم نے سیاسی دباؤ بہت تھا اسی وجہ سے ہمیں مذاکرات کا راستہ اختیار کیا اور ہمیں معلوم تھا کہ یہ۔مذاکرات ۔کامیاب نہیں ہوں گے لیکن ہم نے حجت تمام کی مذاکرات میں ناکامی کے بعد شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا(یہ مذاکرات چار ماہ نہیں بلکہ نو ماہ تک جاری رہے)۔اب اس اعتراف کا کیا فائدہ جب ناقابل تلافی نقصان ہو چکا،آرمی بپلک سکول میں خون کی ہولی میں درجنوں پھولوں کی شہادت نے پاکستان میں نئی ترجیحات کو ۔حکمرانوں ۔کے لئے لازم بنا کے رکھ دیا،9ستمبر2013کو سابق صدر آصف علی زرداری کی ایوان صدر کے بعد نئے صدر مملکت سید ممنون حسین کی آمد کے موقع پر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنی سرکاری رہائش گا ہ ۔وزیر اعظم ہاؤس۔میں آل پارٹیز کانفرنس بلا رکھی تھی جس میں فیصلہ کیا گیاکہ طالبان(درندوں)کے خلا ف آرمی آرپشن کی بجائے مذاکرات کئے جائیں گے،ساری قوم اس حکومتی فیصلہ پر ناخوش تھی لیکن تمام سرکاری بیانا ت میںیہ ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ ساری قوم کی آواز صرف مذاکرات ہی ہے،پاک فوج نے تحفظات کے باوجود سیاسی حکومت کے اس فیصلے پر نیم رضامندی کا اْظہا ر کیا،ابھی اس خبر کو قوم پڑھ ہی رہی تھی کہ ۔اپر دیر۔ میں بارودی دھماکہ کے نتیجے میں پاک فوج کے اعلیٰ ترین عہدیدار لیفٹیننٹ جنرل اور لیفٹیننٹ کرنل اور اہلکار شہید ہو گئے ،اسی روز بنوں کے نزدیک شدت پسندوں نے خاصہ دار فورس پر حملہ کر کے4اہلکار شہید اور 7کو شدید زخمی کر دیا، دہشت گردی کی پے در پے وارداتوں نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا مگر سیاسی حکومت پر کچھ اثر نہ ہوا،نئے سال 2015کا سورج طلوع ہو گیا مگر ستمبر میں شروع ہونے والے مذاکرات پروان نہ چڑھ سکے ،تب یہ مذاْ رات ایک چوراہے کی شکل اختیار کر گئے ایک طرف حکومت اور سیاستدان،دوسری جانب ہمارے مذہبی رہنماؤں کا ایک مخصوص ٹولہ تیسری جانب طالبان اور چارتھی طرف ہماری پاک فوج،طالبان دہشت ،وحشت اور دہشت گردی سے ہمیں کشت وخون میں نہلاتے رہے،سیاسی رہنماء مذاکرات میں تقسیم ہو گئے ہر کوئی نمبر گیم میں شامل تھا،فوج کو ہدف تنقید کا عمل بھی شروع ہو گیا،اور سب سے خطرناک بات حکومتی پالیسی اور چند مذہبی عناصر جنہیں طالبان مذاکراتی کمیٹی بھی کہا جاتا ہے،مولانا سمیع الحق اور اس کے ساتھیوں کے بیا نات ملاحظہ فرمائیں،(قارئین کرام یہ سب بیانات مارچ 2014اور اس کے بعد کے ہیں)مذاکراتی عمل میں اب بھی امریکہ اور بھارت سمیت ملک دشمنوں سے خطرہ ہے،حکومت کے ساتھ ساتھطالبان کو بھی سازشی عناصر سے ہوشیار رہنا ہوگا ۔حکومت کو طالبان سے نئی مذاکراتی کمیٹی کے قیام میں ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں کرنی چاہیے ۔قوم مایوس نہ ہو مذاکرات کامیاب ہوں گے ،گولی اور بندوق اسے امن قائم کرنے والوں کو اپنے فیصلے پر ں ظر ثانی کرنا ہو گی ۔10سال بھی کاروائی کرتے رہے امن قائم نہیں ہوگا ۔مذاکرات کی تاخیر میں دشمن فائدہ اٹھا سکتا ہے۔حکومت غیر عسکری قیدیوں کی رہائی میں پہل کرے۔بات چیت کے مخالف ملک و قوم کے دشمن ہیں۔مذاکرات میں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے ،حکومت اور فوج ایک صفحہ پر نہیں۔ حکومت بعض لوگوں کے جھانسے میں آکر فوجی آپریشن کی غلطی سے باز رہے مذاکرات کے مخالفین کو بھیانک مستقبل کا اندازہ نہیں۔قوم امن کی خواہاں ہے ،نام نہاد دینی طبقے ،سیکولر،لبرل لابیاں ،دفاعی ،سفارتی،سیاسی تجزیہ کار،اینکرز ،اکالم نگار مغرب کے اشاروں پر آپریشن اور جنگ کا طوفان برپا کئے ہوئے ہیں ان کا بریگیڈ بنا کر طالبان کے مقابلے میں بھیج دیا جائے تاکہ ان کا شوق جنگ وجدل پورا ہو۔فوجی آپریشن کے بیانات سے ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتا ہے فرمی امن زون کے بارے میں طالبان کا مطالبہ جائز ہے اور ماننا ہو گا،طالبان کمانڈر حکیم محسود کو شہید قرار دینے والے سید منور حسن کا فرمانا تھا کہ آپرشن سے امن آ سکتا ہے نہ بندوق سے۔ جمیعت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے فرمایا طالبان ہم سے اور ہم ان سے مذاق کر رہے ہیں۔ہمارے علاوہ کوئی آپریشن کی مخالفت نہیں کر رہا،اسی دوران حکومتی مؤقف بھی سنیے،وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید۔فوج پس منظر میں رہ کر حکومتی کمیٹی کی معاونت کر رہی ہے،وزیر دفاع خارجہ آصف نے کہا ۔قیام امن کی ایک فیصد امید پر بھی مذاکرات جاری رکھیں گے ۔پاک فوج نہ صرف مذاکرات کی حامی ہے بلکہ معاونت بھی کر رہی ہے۔تمام ادارے اپنا اور اپنے لوگوں کا تحفظ کرتے ہیں ہمیں بھی اپنے ارکان کا دفاع کرنا ہو گاکوئی ادارہ کسی دوسرے ادارے کا تقدس پامال نہ کرے پارلیمنٹ سب سے مقتدر ادارہ ے،یکم مارچ 2014 کو وفاقی وزیر داخلہ امور چوہدری نثار علی خان کے مطابق فوجی آپریشن کا ابھی دور دور تک امکان نہیں اگر آپریشن کرنا پڑا تو کم از کم 4ہفتے لگیں گے،طالبان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے سے باز نہ آئے تو کاروائی کریں گے۔پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے تو طالبان کو پشاور میں ۔دفتر۔قائم کرنے سمیت مزید سہولیات فراہم کرنے کی پیشکش بھی کر دی،اس طویل مذاکراتی عمل میں جب ایک طرف دہشت گردی جاری رہی تو دوسری طرف فوج کو ہدف تنقید بنانے کا عمل جاری رہا،آرمی نے محدود پیمانے پر کاروائی کا آغاز کیا تو وزیر اعظم نے آرمی چیف کو طالبان پر حملہ نہ کرنے کا پیغام دیا،حکومت نے طالبان کے خلاف فضائی کاروائی معطل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جب سے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی ہے باقاعدہ آپریشن کیا اور نہ بلاجواز کاروائی کی جبکہ عسکری قیادت نے 170ویں کور کمانڈر کنافرنس میں فیصلہ کیا کہ فضائی کاروائیاں نہیں رکنی چاہئیں،کسی مجرم کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتے،فوج نے طالبان کے ۔فری زون ۔مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا اور سیاستدانوں کی بلا جواز تنقید پاک فوج کے افسران اور جوانوں میں اضطراب کی شدید لہر دوڑنے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے کہا ۔فوج اپنے وقار کا ہر صورت تحفظ کرے گی،پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ہم اکٹھے ہیں ،اسی پارٹی کے چیر مین بلاول بھٹو زرداری نے خورشید شاہ کی بات کو رد کرت ہوئے کہا۔حکومت مذاکرات کے نام پر اندھوں سے راستہ پوچھ رہی ہے،طالبان نے تمام حکومتی مذاکراتی کاؤشوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مذموم کاروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ،دوسری جانب وزیر اعظم مذاکراتی عمل اور عارضی جنگ بندی پر خوشی کا اظہار فرما رہے تھے کہ شہر اقتدار کے سیکٹر ایف ایٹ میں قائم ڈسٹرکٹ کورٹس میں دہشت گردی کی واردات جس میں سیشن جج 4وکلاء سمیت11افراد خون سے نہلا دئیے گئے،اس المناک واقعہ کے دوسرے روز ہی وزیر اعظم کا بیان سامنے آیا کہ ۔امن ہماری ضروت ہے اور مذاکراتی عمل جاری رہنا چاہئے،طالبان نے میان نواز شریف کے اس بیان کا جواب دوسرے روز ہی دیا انہوں نے بنوں کے قریب سیکیورٹی فورسز قافلے پرریمونٹ کنٹرول بم حملہ کرتے ہوئے 6سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک اور 11کو شدید زخمی کر دیا،چند دن بعد کوئٹہ میں بم دھماکہ اور پشاور میں پولیس وین پر خود کش حملہ کے نتیجہ میں اہلکاروں سمیت21 افراد شہید اور75زخمی ہو گئے،وزیر اعظم پی ٹی آئی کے سربارہ عمران خان کے گھر انہیں قائل کرنے پہنچ گئے اوریوم پاکستان کے موقع پر کہا۔قوم دہشت گردی اور شدت پسندی سے جلد نجات کی دعا کرے،قوم کی یہ دعا بھی قبول نہ ہوئی اور دہشت گردوں نے کوئٹہ میں دھماکہ کرتے ہوئے 18افراد،سبی میں جعفر ایکسپریس میں 17اور سبزی منڈی اسلام آباد میں 26کو ہلاک جبکہ 200کے قریب افراد کو زخمی کر دیا،اس کے علاوہ بنوں کینٹ،کراچی میں پویس بس پر حملہ اور راولپنڈی صدر میں فوجی اہلکاروں پر دہشت گردی نے فوج کو کسی بھی مصلحت سے نکال کر رکھ دیا،فوج نے ان درندوں کے خلاف آپریشن کا حتمی فیصلہ کرتے ہوئے ۔ضرب عضب۔کے نام سے کاروائی کا آغاز کر دیا،سیاسی قیادت کو مجبوراً یہ فیصلہ قبول کرنا پڑا،پیپلز پارٹی اور بعد ازاں نئی جمہوری حکومت کے غلط فیصلوں کی بدولت ریاست پاکستان میں بسنے والی قوم کو ۔سانحہ پشاور۔بھی دیکھنا پڑاجس کی دنیا میں کہیں اور مثال نہیں ملتی۔کسی اور نے تو نہیں خواجہ آصف کے اس اعتراف ۔جرم ۔پر کس کا سینہ پیٹا جائے کہ آپریشن میں تاخیر جیسی ۔حجت اتمام ۔کرنا قوم کے ساتھ کیسا سنگین مذاق تھا،کیاکسی بس ڈرائیور کو اس بات پر معاف کر دیا جائے کہ وہ غلطی سے دوسرے ٹریک پر آ گیا تھا جس کی وجہ سے حادثہ رونما ہو گیا؟(کوئی دہشت گردی کا شکار ہو یا تھرپارکر میں جان سے جائے پھر بھی سیاسی مصلحتیں اور محبتیں ان لوگوں کو بہت عزیز ہیں)یہ تو حادثات نہیں بلکہ قیامتیں تھیں جو ہم پر گذر گئیں اور گذر رہیں ہیں،ان کا مداوا کون کرے گا؟قیادت سے ایسے شرمناک فیصلوں اور بدترین قومی فیصلوں کی توقع نہیں کی جا سکتی جس سے قوم ایندھن بن جائے.امید ہے اب جنرل راحیل شریف کسی لعنت زدہ سیاسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لائیں گے…

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button