پاکستانتازہ ترین

صدر کا استثنٰی اس وقت تک ہے جب تک وہ عہدے پر فائز ہیں: اعتزاز

اسلام آباد(بیوروچیف) وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت میں اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ یہ کیس صدر سے متعلق ہے اور معاملہ اقوام عالم میں پاکستان کے مرتبے کا ہے ۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ یہ چیف جسٹس کا اختیار ہے کہ وہ کسی بھی جج کو بینچ میں شامل کر سکتے ہیں ۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس بینچ کی تشکیل سپریم کورٹ رولز کے تحت کرتے ہیں، آئین کے تحت نہیں، سپریم کورٹ رولز کو آئین پر بالادستی حاصل نہیں ۔ سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے روبرو توہین عدالت کیس میں وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس صدر مملکت سے متعلق ہے۔ جنہیں اندرون و بیرون ملک استثنٰی حاصل ہے ۔ یہ عدالتی حکم کی نافرمانی نہیں بلکہ اقوام عالم میں پاکستان کے مرتبے کا معاملہ ہے ۔ صدر کو استثنٰی اس وقت تک حاصل ہے جب تک وہ منصب پر فائز ہیں۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دیئے کہ انہوں نے آرٹیکل 248 کے تحت استثنٰی کا مطالبہ ہی نہیں کیا ۔ جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ مطالبہ وزیراعظم کا وکیل نہیں کرسکتا ۔ استثنٰی صرف صدر یا گورنر ہی مانگ سکتا ہے اور عدالت میں کیس وزیراعظم کے خلاف ہے صدر کے خلاف نہیں ۔ اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ موجودہ ججوں کے سماعت نہ کرنے کا معاملہ جانبداری کی بنیاد پر نہیں اٹھایا۔۔ یہ صرف آئین کے آرٹیکل 10 اے کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے۔ نوٹس اور فرد جرم عائد کرنے والا بینچ کیس کی سماعت کرے گا تو فئیر ٹرائل کی نفی ہے ۔۔ کسی فاضل جج کی ذات کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں ۔۔
جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ فرد جرم پر اگر جج سماعت کے اختیار سے محروم ہونا شروع ہو جائیں تو اس کے دورس نتائج ہوں گے۔۔اعتزاز احسن نے کہا کہ آرٹیکل 10 اے بنیادی آئینی حق ہے، اس سے متصادم کوئی قانون برقرار نہیں رہ سکتا ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ  یہ چیف جسٹس کا اختیار ہے کہ وہ کسی بھی جج کو بینچ میں شامل کر سکتے ہیں ۔  اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس بینچ کی تشکیل سپریم کورٹ رولز کے تحت کرتے ہیں، آئین کے تحت نہیں، سپریم کورٹ رولز کو آئین پر بالادستی حاصل نہیں۔۔
جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ان کا یہ کہنا کہ وقتی طور پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا ۔۔ حکم عدولی ہے

یہ بھی پڑھیں  گورنمنٹ گرلز ہائی سکول پھول نگر کی طالبہ حافظہ منیزہ تحسین کی تحصیل پتوکی میں نمایاں پوزیشن

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker