Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / خلاف خط لکھنے کے معاملے کا درمیانی راستہ نہیں،اعتزازاحسن

خلاف خط لکھنے کے معاملے کا درمیانی راستہ نہیں،اعتزازاحسن

اسلام آباد (بیوروچیف)  پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے میں ججز نے کوئی درمیانی راستہ نہیںچھوڑا، دوسرے وزیراعظم نے بھی خط نہ لکھا تو عدالت کا فیصلہ مختلف نہیں ہوگا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ  یہ وزیراعظم بھی گیا تو نیا آ جائے گا، یہ سلسلہ مارچ 2013 تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی مثال نہیں کہ ایک ریاست نے دوسری ریاست کی عدالت کے سامنے اپنا صدر پیش کیا ہو، سپریم کورٹ کو اس معاملے میں اپنے فیصلے پر خود نظرثانی کا سوچنا چاہیے۔ اعتزاز احسن کا مزید کہنا تھا کہ اچھی بات ہے کہ راجا پرویز اشرف کو 22دن کی مہلت ملی،ایسی کشادہ دلی میری بحث کے دوران نہیں دکھائی گئی،عدالت کو بھی احساس ہوا کہ گیلانی کا فیصلہ عجلت میں کیا گیا، استثنیٰ آصف زرداری کو بطور فرد نہیں، صدر مملکت کے طور پر حاصل ہے، انہوں نے کہا کہ صدر کو حاصل استثنیٰ کو تحفظ دینا عدالت کا فرض ہے۔ وزیراعظم کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ راجا پرویز اشرف نے مجھے وکیل کرنے کے لیےرابطہ نہیں کیا، میں پہلے ہی یہ کیس ہار چکا ہوں لہٰذا وہ کوئی دوسرا وکیل کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ 5جج کوئی نیا راستہ اختیار نہیں کرسکتے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ کو کوئی خطرہ نہیں، اسےتحلیل کرنے کے لیےوزیراعظم ہی مشورہ دے سکتے ہیں، ایسا کوئی وزیراعظم نہیں آنے والا جو پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا مشورہ دے گا۔

یہ بھی پڑھیں  صولت مرزا کو کل مچھ جیل میں پھانسی دی جائے گی