پاکستانتازہ ترین

عدالت نے رستہ نہ دیاتو حکومت خط نہیں لکھے گی:اعتزاز احسن

 لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ممتاز قانون دان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے اپنے یہ موقف دہرایا ہے کہ این آر او عملدرآمد کیس میں سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے میں حکومت اور عدالت دوراہے پر کھڑی ہیں، دونوں کو کچھ نہ کچھ لچک بہرحال پیدا کرنی پڑے گی بصورت دیگر مطلوبہ خط نظر نہیں آتا۔ جیو نیوز کے پروگرام ”لیکن“ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے روبرو کرپشن جبکہ حکومت کے سامنے اقتدار اعلیٰ اور صدر مملکت کی شخصیت کا معاملہ ہے، حکومت کبھی بھی صدر کو کسی بیرون عدالت کے سامنے سرنگوں کرنے کیلئے تیار نہیں ہو سکتی جبکہ گیلانی کے کیس میں بھی میں نے واضح کیا تھا کہ عدالت یہ یقین دہانی لے لے کہ جب صدر مملکت کا عہدہ صدارت ختم ہو جائے گا تو حکومت خط لکھ دے گی اس وقت نہ تو اقتدار اعلیٰ کا مسئلہ رہے گا اور نہ ہی صدارتی استثنیٰ آڑے آئے گا مگر میری بات نہیں سنی گئی جبکہ میں اپنے موقف پر آج بھی قائم ہوں کہ سوئس حکام کو خط لکھنا حکومت کی نظر میں اقتدار اعلیٰ کا ایشو اور عدالت اسے این آر او کے لینز سے دیکھتی ہے۔ اب عدالت کیلئے کوئی راستہ نہیں ہے، وہ بند گلی میں ہے اور حکومت کیلئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ صدر مملکت کو کسی اور ادارے کے سامنے سرنگوں کرے۔ حکومت اور عدالت نے درمیانی راستے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا اللہ کرے کہ کوئی راستہ نکل آئے اور کوئی تصادم نہ ہو لیکن اس معاملے میں سپریم کورٹ ایک لحاظ سے فریق بن گئی ہے جو اپنی طرز کی ایک خاص تحریر اور عبارت چاہتی ہے۔ میرے خیال میں گیلانی کے وقت گیلانی کو یہ تاثر تھا کہ وہ ذرا دباﺅ ڈالے گی تو حکومت خط لکھنے پر مان جائے گی۔ میرے خیال میں ابھی کوئی معاملہ طے نہیں ہوا، یہ خط اسی صورت میں لکھا جائے گا جب عدالت کوئی راستہ دے گی کیونکہ حکومت کیلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ صدر مملکت کو کسی طرح بھی کسی دوسری عدالت کے سامنے کھڑا کرے۔ اعتزاز احسن نے واضح کیا کہ اگر خط لکھا گیا تو عدالت کے حکم اور منشاءکے تحت ہی ہو گا لیکن پھر بھی خط اسی صورت میں ہی لکھا جائے گا جب عدالت اپنی پوزیشن کو کچھ اکاموڈیٹو بنائے گی بصورت دیگر نہیں لکھا جائے گا۔ دوہری شہریت کے متعلق سوال پر اعتزاز احسن نے کہا کہ دوہری شہریت کا حامل کوئی شخص پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا اس ضمن میں آئین بہت واضح ہے، اس میں کوئی چیز نئی نہیں ہے اس معاملے پر پہلے کبھی نظر نہیں پڑی تھی اب اگر اس میں کوئی ترمیم کرنا چاہے گا تو اسے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں  چوہدری نثار کا درگزر کرنا بہتری کی جانب قدم: اعتزاز احسن

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker