اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

آزاد کشمیرکی خرابیاں اور الیکشن اصلاحات!

atharوزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے سیاسی امور کے حوالے سے قائم کمیٹی کے ارکان کی طرف سے گزشتہ دنوں ایک سیاسی تقریب میں کہا گیا کہ آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کشمیر کے تناظر میں بھی ”رول ماڈل ” بنانا ضروری ہے تا کہ دنیا کے سامنے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان غلامی اور آزادی کا واضح فرق نمایاں ہو سکے۔ اس بات کا مطلب یہی ہے کہ آزاد کشمیر میں حکومت کو با اختیار ،ذمہ دار اور باوقار بنایا جائے۔بدقسمتی سے عشروں سے تحریک آزادی کشمیرکے تناظر میں بھی آزاد کشمیر میں ایک” قابل مثال” حکومت کے بجائے خرابیوں اور انحطاط پذیری کے رجحان کو ہی فروغ ملا جس سے آزاد کشمیر حکومت تحریک آزادی کے لئے اچھا کردار ادا کرنے کے بجائے قبیلائی اور علاقہ پرستی پر مبنی مادی مفادات کی سیا ست میں یوں محدود ہوئی کہ کئی حوالوں سے بدنامیاں آزاد کشمیر حکومت سے وابستہ ہو گئی ہیں۔خاص طور پر پیپلز پارٹی کی حالیہ حکومت میںکرپشن،بد انتظامی اور نااہلی کے ایسے مظاہرے دیکھنے میں آئے کہ جس سے آزاد کشمیر کا سیاسی ڈھانچہ شدید طور پر متاثر ہوا ہے اور اس سے آزاد کشمیر میں معمول کی سرکاری صلاحیت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔
مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیرکے  سیکرٹری جنرل شاہ غلام قادر نے مظفر آباد میں ایک پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا ہے کہ آزادکشمیر کے آئندہ عام انتخابات کیلئے آئین میں ترمیم کرکے نگران حکومت بنائی جائے بصورت دیگر آزاد کشمیر میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے اور اس کے ساتھ ‘نادرا’ کے ذریعے  انتخابی فہرستیں بنانا بھی ضروری ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر الیکشن سے پہلے آئین کے تحت انتخابی فہرستوں کی تیار ی کرنی ضروری ہے لیکن پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی ۔ شاہ غلام قادر نے آزادکشمیر کے احتساب بیورو پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں احتساب بیورو جیالا نوازی پر مشتمل ہے لہذا  لوٹ مار کرنیوالوں کے خلاف کاروائی کے لئے پاکستان کے ادارے ‘نیب’ کا دائرہ کار آزاد کشمیر تک بڑہایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں 18ویں ترمیم کے تحت نگران حکومت بنا کر انتخابات ہوئے آزادکشمیر میں بھی نگران حکومت کے ذریعے انتخابات ہونے چاہئیں۔شاہ غلام قادر نے حکومت پاکستان ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز فراہم کر رہی ہے لیکن ان حکمرانوں کی موجودگی میں فنڈز آنے کا کوئی فائدہ عوام کو نہیں ہو رہا ،تعمیر و ترقی کرپشن کی نذر ہو رہی ہے ، جس طرح موجودہ حکومت نے اللے تللے کیئے ہیں اسکی مثال ماضی میں نہیں ملتی آزادکشمیر حکومت پربنک کا قرضہ 8ارب دے تجاوز کر چکا ہے، اس وقت حکومت کو 19ارب روپے بجٹ خسارے کا سامنا ہے آزادکشمیر حکومت دیوالیہ ہو چکی ہے اسکے باوجود مشیروں اور وزیر وں کی فوج بھرتی کی جا رہی ہے آئین کے تحت صرف تین مشیر لگائے جا سکتے ہیں اس وقت مشیروں کی تعداد 15تک پہنچ چکی ہے۔آزاد کشمیر اسمبلی الیکشن کے انہی امور سے متعلق گزشتہ دنوں پاکستان مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری شاہ غلام قادر اورجماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی کے درمیان ایک خصوصی ملاقات میں انتخابی فہرستوں کو از سر نو مرتب کرنے اور دیگر انتخابی اصلاحات کی ضرورت پر اتفاق رائے کیاگیا ۔ ملاقات میں مہاجرین مقیم پاکستان کے حلقوں میں انتخابی فہرستوں کے بنانے کے طریقہ کار اور جعلی سٹیٹ سبجیکٹ منسوخ کرنے کے طریقہ کار پر بھی گفتگو ہوئی اور ووٹر اور سٹیٹ سبجیکٹ کی تصدیق کے لیے تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل حلقے کی سطح پر کمیٹیاں بنانے کی تجویز پر بھی اتفاق کیاگیا۔وزیر امور کشمیر چودھری برجیس طاہر نے گزشتہ دنوں یہ بات کہی تھی کہ آزاد کشمیر کے آئین میں اس وقت الیکشن سے پہلے نگران حکومت کی گنجائش نہیں ہے لہذا .ا لیکشن سے پہلے نگران حکومت کے قیام کے لئے آزاد کشمیر اسمبلی میں آئینی ترمیم لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی کے بھی حق میں ہے کہ آزاد کشمیر میں بھی الیکشن سے پہلے نگران حکومت کا قیام عمل میں آئے۔گزشتہ دنو ںہی آزاد کشمیر اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر طارق فاروق چودھری نے ایک قرار داد پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر میں الیکشن سے پہلے نگران حکومت قائم کی جائے۔
آزاد کشمیر اسمبلی کے آئندہ سال کے الیکشن کو منصفانہ اور شفاف بنانے کے لئے مطالبات اور تجاوزیز تو کئی سامنے آ رہی ہیں لیکن آزاد کشمیر کی پیپلز پارٹی حکومت یا وفاقی وزارت امور کشمیر کی طرف سے اس سلسلے میں بہتری اور اصلاح کے اقدامات اب تک نہیں اٹھائے گئے ہیں۔آزاد کشمیر اسمبلی کے الیکشن کو منصفانہ بنانے کے لئے گلگت بلتستان اور پاکستان کی طرح آزاد کشمیر میں الیکشن سے پہلے نگران حکومت کا قیام بھی نہایت اہم ہے۔آزاد کشمیر میں خرابیاں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ محض وفاقی وزراء کی نیک خواہشات سے معاملا ت میں بہتری ممکن نہیں ہے۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ آزاد کشمیر کے امور کی بہتری پر توجہ دیتے ہوئے اس متعلق فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔آزاد کشمیر میں کئی شعبے کے سرکاری ملازمین ہڑتالیں کر رہیں ہیں، اداروں میں اکثر ملازمین کے کام کرنے کی صلاحیتیں ”زنگ آلود” ہو چکی ہیں اور ساتھ ہی یہ صورتحال درپیش ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کا اخلاقی، انتظامی لحاظ سے ہی نہیں بلکہ مالیاتی طور پر بھی دیوالیہ ہو گیا ہے۔حکومت مالیاتی دیوالیہ پن کا اعلان نہیں کر رہی لیکن یہ کہنا مناسب ہے کہ آزاد کشمیر حکومت مالیاتی لحاظ سے حقیقی طور پر دیوالیہ ہو گئی ہے ۔حکومت نے بجٹ کے وقت سے تنخواہوں کے علاوہ تمام دیگر سرکاری ادائیگیوں پر پابندی عائید کر رکھی ہے ۔سرکاری تنخواہوں کے لئے بھی ترقیاتی فنڈز سے رقم استعمال کی جارہی ہے۔آزاد کشمیر حکومت بنک کی اربوں روپے کی قرض دار ہے جس میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ آزاد کشمیر کی موجودہ پیپلز پارٹی حکومت نے آزاد کشمیر کے سرکاری ڈھانچے کو ہی تباہ نہیں کیابلکہ اپنی شاہ خرچیوں اور بد انتظامی سے آزاد کشمیر حکومت کو حقیقی طور پر دیوالیہ کر دیا ہے۔یوکئی ماہ سے سرکاری ادائیگیوں پر پابندی کی وجہ سے آزادکشمیر میں مختلف شعبوں کے ہزاروں،لاکھوں افراد شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں آزاد کشمیر کے امور میں بہتری کے اقدامات وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کا دائرہ کار،مقام اور عبوری آئین وفاقی حکومت کا ہی طے کردہ ہے۔آزاد کشمیر میں حکومتی ،سرکاری اور سیاسی انحطاط پزیری میں وفاق کی سابق حکومتوں کا کلیدی عمل دخل ہے۔مختصر یہ کہ آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کشمیر کے لئے ”رول ماڈل” بنانے کے علاوہ آزاد کشمیر میں پائے جانے والے منفی رجحانات،انتشار سے پیدا ہونے خطرات کے پیش نظر، آزاد کشمیر میں جامع اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔آزاد کشمیر میں خرابیاں اس قدر مستحکم ہو چلی ہیں کہ اسے معمول کی کاروائی سے بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔آزاد کشمیر حکومت کوذمہ دار، با اختیار اور باوقار بنانے کے لئے آزاد کشمیر کے لئے بنیادی نوعیت کے فیصلوں اور اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں  جاہلیت،بے عمل پیر جادو گر بابے اور بابیاں

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker