شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / آخری امید جو ٹوٹ گئی

آخری امید جو ٹوٹ گئی

انسان کے ہر کام مین اسے تقویت دینے اور اس کے حوصلے بلند کرنے کے لئے ایک ہی سہارا ہوتا ہے جسے ہم سب امید کے نام سے جانتے ہیں ہم میں سے ہر ایک اس کا محتاج ہے اور ہر کام مین اس ضرورت ہمیں سب سے زیادہ پڑتی ہے ،
انسان کے سارے کام ادھورے رہیں اور انسان کا ہر چیز سے واسطہ ٹوٹ جائے تب بھی امید ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے سہا رے انسان بڑی سے بڑی مشکل سے نکل سکتا ہے ،پہاڑ جیسی آزمائشوں سے نبرد آزما ہو سکتا ہے اور شیر جیسے جھنگاڑنے والوں کو تہہ بالا کر کی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے امید ہی ایک آس ہے جس کا سہارا لے کر انسان آخری سانس تک پہنچتا ہے اور یہی امید یہ ہے کہ جس کے بل بوتے پر انسان اپنے آپ کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے ۔
لیکن جب انسان کی امیدیں ہی دم توڑ جائیں ،اس کے ارمانوں کا ون کر دیا جائے اس کے دل کی آسوں کو سرعام ننگا کر دیا جئے تو اس انسان پے کیا گزرے گی کیا وہ انسان اپنے مجرم کو کبھی معاف کرے گا یا کیا ایسا مجرم معافی کے قابل ہے ؟
کبھی نہیں ایسے انسان کے لئے نا ہی ہمارے مذہب میں کوئی معافی ہے اور معاشرے کی تو بات ہی الگ ہے نا کیوں کہ اس کے تیور وہاں درست ہوتے ہیں جہاں دولت کے انبار نظر آئیں جہاں جھوٹی من گھڑت شہرت نے ڈیرے جمائے ہوں اور جہاں پر کسی بھی رشتے ناطے کی اہمیت ظاغوس و رباب کی بنیاد پر ہو۔
ایسے معاشرے میں ہر روز لاکھوں امیدوں کا خون کیا جاتا ہے ،لاکھوں ارمانوں اور آسوں کو سر عام ننگا کر دیا جاتا ہے ،
اس معاشرے میں غریب کی کوئی جگہ نہیں ،یہاں کیوں کہ یہاں انصاف ملتا نہیں بکتا ہے ،یہاں قانوں کی زد میں گریب آتا ہے اور قانون بنتے بھی غریب کے لئے ہیں ،باقی وزیر ہو یا مشیر ،صدر ہو یا وزیر اعظم اس معاشرے کا قانون ان کو تحفظ فراہم کرتا ہے چہ جائے کہ یہ ڈاکو ہوں ،لوٹیرے ہوں یا ملک دشمن یا ملک دشمنوں کے ساتھی ۔
اس ملک کی سیاست سئاست نہیں وراثت ہے ،یہاں ملک کو سنوارنے کے بجائے اپنے اور اہل خانہ کو سنوارا ور نوازا جا تا ہے ،یہاں ایک طرف تو ایک خاندان بھوکا سو جا ہے ،اس خاندان کے افراد کے پاس پہننے کے لئے کپرے ،رہنے کے لئے گھر ،اور علاج کے لئے پیسے نہیں ہوتے تو دوسری طرف ایسے خاندان بھی ہیں کہ ان کے ایک وقت کے کھانے کی قیمت کسی غریب کے دو ماہ کے اخراجات کے برابر ہوتی ہے ، ان کے ایک جوڑے کی قیمت کسی غریب کی بیٹی کے جہیز کے سامان کے برابر ہوتی ہے ،ان کے کتے اتنے قیمتی ہوتے ہیں کہ اس قیمت سے ایک غریب اپنا کچا گھر بنا سکتا ہے ،اور جہاں ان کے کتون کا علاج ہوتا ہے اس قیمت میں ایک غریب کے پورے سال کے میڈیکل کے اخراجات کافی ہوتے ہیں ،
مگر سوال یہ ہے کہ انصاف ملے گا کہاں ۔۔َ ؟ علاج ہو گا کہاں ۔۔۔۔۔؟
یہاں پر انصاف فراہم کرنے والوں پر آئے دن پا بندیاں لگانے کا سوچا جاتا ہے ان کو قید کرنے اور تختہ دار پے لٹکانے کا سوچا جاتا ہے تو انساف ملے گا کہاں ۔۔۔۔۔؟
اور اگر کوئی بیمار ہے تو اس کا علاج کہاں ہو گا اور کون کرے گا ،،؟
ہسپتال میں ہو گا ۔۔۔۔۔؟ شاید نہیں کیوں کہ وہ تو مقتل بنا دئیے گئے ہیں ،،،؟ اور کرے گا کون علاج ۔۔۔؟ ڈاکٹر ،،،؟ یہ تو دولت کے حصول کی کاطر قاتل بن چکے ہیں ۔۔
انصاف کا حصول ہماری قوم کے لئے آخری امید سپریم کورٹ تھی جسے ہر ایک فیصلے کو کالعدم کرنے اور سپریم کورٹ کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔۔اور ہروہ قانون بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ہمارے بڑے کے کالے کرتوتوں کو عوام کے سامنے لا رہا ہے ۔
اور اس عوام کی ایک امید ہسپتال تھے ،ہر طرف کی پریشانیوں سے الجھے ہوئے لوگ جب تھک جاتے اور بیمار پڑ جاتے تو ہسپتالوں کا رخ کرتے اور اس امید کے ساتھ ہسپتالوں کی طرف آتے کہ شاید وہاں بیٹھے لوگوں کے دلوں میں احساس ہو ان کے سینے میں کوئی نرم گوشہ ہو کہ وہ زندگی کی امید دلا دیں مگر ان لوگوں کو کیا خبر تھی کہ ہسپتالوں میں بیٹھے لوگ قاتلل بن چکے ہیں جو غریبوں کی آخری امیدوں کو بھی قتل کرنے پر تلے ہوئے ہیں

یہ بھی پڑھیں  جاوید لطیف اور مراد سعید میں صلح ہوگئی