ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

اخبا ر فروش ایک مظلو م طبقہ

ہو رسائی ایک ایسے فرد تک               جو پہنچ پا ئے ہما رے درد تک
طلو ع سحر ہو نے سے پہلے نما ز فجر کے بعد تلا ش رزق میں خدا ئے بزرگ و بر تر کا ایک عا جز بندہ محو سفر ہو تا ہے ۔ جبکہ سار ا زمانہ نرم مخملی بستر و ں پر آرام کی کروٹیں بدلتا ہو تا ہے اور یہ رب کا ایک انمول اور خو دار بندہ اپنے بچو ں کا پیٹ بھرنے اور ان کی آسائش و آرا ئش کا اہتمام کرنے کیلیے سینکڑوں نہیں ہزاروں نہیں بلکہ بے شما ر مشقتو ں اور رنج و علم میں ڈوبے ہو ئے رزق حلال کی تلا ش شروع کردیتا ہے وہ انفا رمشین جو ایک قلم کا ر اپنے علم و فن کے زریعہ سے ترتیب دیکر اخبا ر یا جرائد کی صورت میں پر نٹ کرتا ہے اس دلچسپ معلو ما ت کو ایک کا ری اور لکھا ری کے مابین باہم ربط قائم کرنے کا با عث بنتا ہے ۔ جہا ں اخبار مالکا ن اپنی محنت اور کا وش سے ایک اخبار تیا ر کر کے اسے کا رئین تک پہنچا نے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کو شش اور کا وش کو پا ئیہ تکمیل تک پہنچا نے والی ذات اخبار فروش کی ہے جو معلوما ت اور علم و حکمت کا خزینہ نگر نگر ، قریہ قریہ اور گلی گلی بکھیرتا ہوا چلا جا تا ہے اس با ہمت اور با حکمت انسان کی زندگی میں بھی کبھی کسی نے جھا نکنے کی کوشش کی ہے کہ کیسے اپنی زندگی کے شب و روز گزارتا ہے ؟اور اس انتہا ئی محنت اور مشقت کے بعد اسے حاصل کیا ہوتا ہے؟ اوراس کی زندگی کے لمحا ت کیسے گزرتے ہیں؟
کیا پو چھتے ہو حال دل زار اے ادا آوارگی میں ہم نے زمانے کی سیر کی
اخبا ر فروشو ں کی اپنی جگہ کوئی ایسی نہیں ہو تی کہ جہا ں وہ اپنا اخبا ر رکھتے ہیں اور اس کیلیے بھی انہیں خاصی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے موسم کی تبدیلی ہو کڑی دھو پ پڑے یا سرد صبح با رش چلے یا آندھی آئے عید ہو یا شب بارات اس طبقہ کی تمام خوشیا ں تمام آسائشیں سر راہ ہی بسر ہوجا تی ہیں اخبا ر فرو ش بھی ہما رے جیسے جیتے جا گتے انسان ہیں اور عام انسانوں سے زیادہ محنت والی زندگی گزارتے ہیں جیسے ایک فو جی با رڈر پر رہتے ہو ئے اپنے گھر والو ں سے دور رہتا ہے اسی طرح اخبار فروش بھی گھر رہنے کے با وجود اپنو ں کی خو شیو ں کا سامان سمیٹنے اور ان کیلیے سکون آرام پیدا کرنے میں پوری زند گی بسر کردیتا ہے اخبار مالکان خود تو کڑوڑو ں کی آمدن اکھٹی کرتے ہیں اور اپنی اور اپنی آل و اولا د کی خو شیو ں اور سہولتوں کا پورا پورا خیال بھی رکھتے ہیں لیکن انہیں لمحہ بھر بھی یہ خیال نہیں رہتا ہے کہ ان کے قیمتی اخبار کو جو شخص عام آدمی تک اور منزل مقصود تک پہنچا نے کا عث بنتا ہے اس کا خیال بھی رکھنا چا ہیے اگر دو تین سو ایک دن میں کما نے والا خدا نخواستہ بیما ر ہو جائے تو اس کی ساری کما ئی تو ڈاکٹروں کی نذرہوجا تی ہے اور پھر وہ معیا ری صحت اور معیا ری تعلیم یا بنیا دی سہولتو ں سے مستفید کیسے ہو سکتا ہے جس طرح سے معا شرے میں صحا فت کے مرہون منت صحافی برادری کا ایک اہم کردار اور اہمیت ہے اسی طرح سے صحافی برادری اور اخبا ر فروشوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے انہیں مساوی حقوق نہ تو اخبار مالکان مہیا کر پا تے ہیں اور نہ ہی حکومتی لیول پر کبھی اس با ت پر تو جہ دی گئی ہے شاید حکومتی نما ئندے ایک اخبا ر فروش کی زندگی کے مسائل اور مصا ئب سے ہی بے خبر ہیں اور انہیں اس طرف خیال بھی نہیں آتا ہے کہ ایک انسان جو اپنی ساری زندگی دوسروں کی خوشی اور ان کے اطمینان اور انکو علم کا خزانہ پہنچا نے میں صرف کردیتا ہے اس کی بھی کچھ خواہشات ہیں اس کا بھی کچھ نہ کچھ حق بنتا ہے کہ معا شرے میں اسے اچھا مقام دیا جائے اس کے بچوں کو بھی اچھی اور معیا ری تعلیم مہیا کی جا ئے صحت کی سہولیا ت مہیا کی جائیں اور کیا کبھی کسی نے یہ گمان کیا کہ جو شخص اپنے گھر میں جنا زہ رکھ کر پہلے اپنی ذمہ داری کو نبھا نا اہم سمجھتا ہے تو کیا کوئی دوسرا شعبہ یا فرد اس کا مقا بلہ کر سکتا ہے لہذا صحا فیو ں کو سہولیا ت مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ اخبا ر فروشو ں کے مسائل اور معاملا ت کو بھی ملحو ظ خا طر رکھا جا ئے جس طرح سے صحا فیو ں کیلیے رہائشی کالونیاں تعمیر کیجاتی ہیں اسی طرح سے اخبار فرو شوں کی فیملی کو بھی رہا ئشو ں کے لیے پلا ٹ الا ٹ کیے جائیں اور ان کو بھی سوشل سیکیو رٹی کی سہولت مہیا کی جا ئے اور حکومت ان کے بنیا دی مسائل با الخصوص ان کے بچو ں کی صحت اور تعلیم کے مسائل کو تر جیحی بنیا دوں پر حل کرے تا کہ ایک اخبار فروش کا بچہ بھی میدان عمل میں ڈا کٹر ، وکیل ، آرمی آفیسر ، پولیس آفیسر اور انتظا میہ میں شامل ہو کر ملک و قوم کیلیے خدما ت پیش کرسکے نہ کہ وہ بھی اپنے والد یا عزیز کی طرح اخبار فر وشی میں ہی محض زندگی بسر کردے اخبا ر فرو شوں کی بچیوں کی شادی کیلیے جہیز فنڈز کی بھی سہولت مہیا کی جا نی چا ہیے ۔ ا س مظلوم و محروم طبقے کو ایسی تمام بنیا دی سہولیا ت مہیا کی جا ئیں جو انکی اور ان کی اولا د کی زندگیو ں بھی خو شحالی اور ترقی کا با عث بن سکتی ہیں ۔ جو انسان کسی دوسرے کا احساس نہیں کرتا تو رب بھی اس کے احسا س سے منہ پھیر لیتا ہے ۔
منزل کی جستجو ہے تو آگے نکل کے دیکھ رستہ نہیں ہے ٹھیک تو رستہ بدل کے دیکھ

یہ بھی پڑھیں  علاقہ غیرکابدنام زمانہ بین الصوبائی منشیات فروش بھائی پھیروصدر پولیس نے گاڑی اور چرس سمیت پکڑلیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker