تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

آخری پتہ

sher muhammad awan30نومبر کو تحریک انصاف ایک بار پھر سے بھر پور مظاہرہ کرنے اور اپنے پرانے خواب کو تعبیر کا لبادہ پہنانے کے لیے پر تول چکی ہے14اگست سے شروع ہونے والے دھرنے میں موجود پندرہ بیس لوگوں کو آٹھ دس لاکھ کرنے کے لیے بڑے شہروں میں بڑے بڑے جلسے کیے گئے اس ہوم ورک کا نتیجہ تو تیس نومبر کو نکلے گا بہت سے لوگ کہتے ہیں دوسرا دھکا خطر ناک ثابت ہوگا وہاں ایسے تجزیے بھی ہیں جو ایک سیاسی موت کی پییشن گوئی کرتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو خاموش تماشائی بن کر تماشہ دیکھنے کے خواہاں ہیں کیونکہ انکے نزدیک یہ وہ گنگا ہے جس میں ہاتھ دھونا اور نہ دھونا ایک جیسا ہی ہے بحرحال یہ کہنا مشکل نہیں ہو گا کہ تحریک انصاف اپنا ٹرمپ کارڈ شو کرنے لگی ہے حالانکہآخری حد تک شو نہیں کیا جاتا کیونکہ اس کے بعد آپکے پاس سوائے شکست کے کچھ نہیں بچتاخیر اپنی زندگی تک کو داؤ پہ لگانے والے بد نام جواری کی طرح سب کچھ داؤ پہ لگا دیتے ہیں تو پھر آپکے پاس آخری لمحہ تک ہاتھ پاؤں مارنے کے علاوہ کوئی لائحہ عمل باقی نہیں رہتا۔
خان صاحب نے ایک طویل جدوجہد کی میرے نزدیک اگر چہ ا نہوں نے اپنے سارے سیاسی پتے استمعال کر لیے لیکن شائد انکے نزدیک پکچر ابھی باقی ہے یا شائد انکے دائیں بائیں کھڑے نوجوان انکو یہ دکھا رہے ہیں کہ اصل کہانی اب شروع ہو گی۔14 اگست سے اب تک انہوں نے بت کچھ حاصل کیا گو نواز گو کا نعرہ عام ہوا شہری آبادی میں با ووٹ اور بے ووٹ لوگوں کا ساتھ حاصل ہوا حکومت کی ناْقص پالیسیوں اورکرپشن کے بارے میں کچھ سچ کچھ جھوٹ لوگوں تک پہنچا اور 30 نومبر کیلئے پہلے سے زیادہ لوگوں کا خو اب جو یقیناسچ ہو گا تعداد کچھ زیادہ ہوگی لیکن اتنی نہیں جتنا انکے آجو باجو والے یقین دلا رہے ہیں لیکن دوسری طرف پارٹی صدر کی بے وفائی ،پی ٹی وی پر محاذآرائی ، پولیس والوں کی دھلائی اور ملک کی جگ ہنسائی بھی انہی کے دامن کشاد ہ کی زینت بنی۔ انہوں نے یہ بہت اچھا کیا ک مختلف شہروں میں جلسے کیے اور دوبارہ تو انا ہو کر آخری حملہ کرنے دوبارہ کمر بستہ ہوئے لیکن اگر یہ بھی ناکام رہا تو پھر؟اسکا جواب انکے پاس نہیں ہے۔
اور اس دفعہ بڑی تعداد برقرار رکھنا مشکل ہو گا اور ساتھ ہی بڑے مطالبات بھی کیونکہ آگے سردی کی ناگن بھی اپنا پھن پھیلائے بیٹھی ہے بحر حال اب خان صاحب کو کوئی عقلمندانہ فیصلہ کرنا ہو گا وہ بھی جلد ۔بہتر یہ ہے کہ نظام کو ختم کرنے کی بجائے نظام کی بہتری کی تدبیر کی جائے فی الحال جو وہ کر رہے ہیں وہ صرف محاذ آرائی کہی جا سکتی ہے حکومت کڑوڑوں روپے دھرنوں کو روکنے اور سکیورٹی کیلے خرچ کر رہی ہے اور خان صاحب اس سے دوگنا جلسوں اور دھرنوں پر ۔ دونوں پارٹیاں اگر یہ رقم عوام کی فلاح پر لگاتی تو عوام کے کچھ دکھ کم ہوتے ،تھر پر لگاتے تو شائد وہاں موت کا رقص کچھ کم ہو جاتا۔فائدہ ہو ا تو فقط میڈیا کا ہر چینل ہر خبر سب سے پہلے دینے کا دعوی کرتا نظر آیا عوام کام کاج چھوڑے ٹی وی چینل بدلنے میں مصروف رہی میڈیا کو ٹھنڈا کرنے کے لیے حکومت اشتہار دیتی رہی جب کہ خان صاحب اسے گرم بلکہ سر گرم کرنے کے لیے فنڈنگ کرتے رہے کیونکہ دونوں کو پتہ تھا کہ میڈیا ایسا دیمک ہے جو کسی کو کب چاٹ کر کھوکھلا کر دے کچھ پتہ نہیں چلتا۔
بحثیت پاکستانی خان صاحب سے گزارش ہے کہ اگر اب بھی وہ اپنے مطلوبہ مقاصد پورے نہیں کر پاتے تو خیبر میں جائیں ،الیکشن سے پہلے کیے گئے وعدے جو وہ ڈیڑھ سال گزارنے کے بعد پھر دہرا رہے ہیں وہ پورے کریں پہلے حکمرانوں اور آپ میں کچھ تو فرق نظر آنا چاہیے مساوی تعلیم کا وعدہ تو سب سے پہلے پورا کریں کیونکہ عوام میں شعور دھرنوں اور نعروں سے نہیں آئے گا شعور صرف تعلیم سے آے گا۔ اگر بالفرض آپکی حکومت آ بھی جاتی ہے تو آپ کچھ بھی نہیں کر سکیں گے چوری ڈکیتی نا انصافی کرپشن رشوت اور سفارش کا ذہر جو پورے ملک کی رگوں میں گھس چکا ہے یہ حکومت بدلنے سے نہیں خود کو بدلنے سے آئے گا ۔نیا لباس پہننے سے اندر کا میل ختم نہیں ہوتا فقط کچھ دیر کے لیے چھپ جاتا ہے اگر کے پی کے کی حالت بہتر ہوجاتی ہے (جو کہ نعروں میں بہتر نظر آتی ہے حقیقت میں نہیں) تو ملک کا ایک حصہ تو بہتر ہو گا۔پرویز خٹک صاحب کو بھی سٹیج پر ٹھمکہ زنی کی بجائے صوبے میں کام تیز کرنے پر توجہ دینی چاہیے ۔
جہاں تک حکومت کی بات ہے تو یہ سبھی جانتے ہیں کہ جب یہ گرفت میں آتے ہیں تو انکی گردن کا سریہ ایک دم موم ہو جاتا ہے اور جیسے ہی گرفت کمزور پڑتی ہے یہ سریہ ایک گارڈر کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور حکومتی عہدیداروں کے بیان ایک بار پھر گارڈر کی نشاندہی کر رہے ہیں حکومت کے لیے دو ہی صورتیں خطرناک ہو سکتی ہیں ایک تو یہ کہ خان صاحب دس لاکھ لوگوں کو لیکر آ دھمکیں تو پھر حکومت کااونٹ پہاڑ کے نیچے آسکتا ہے لیکن اتنی بڑی تعداد تو دور آدھی بھی فی الحال ناممکن ہے دوسری صورت یہ کہ حکومت بے صبری ہو کر طاقت کا استمعال کرے تو اس سے بھی حالات بدتر ہو سکتے ہیں خان صاحب اچھے انسان ہیں لیکن انکے ساتھ کھڑے شیخ رشید صاحب جوہن جیمز کا کردار ادا کر رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے بڑی اجتماعی خود کشی کی لعنت اپنے سر لی۔ اگرچہ اب وہ اپنے پینترے بدل رہے ہیں لیکن لوگوں کو پیغام دے چکے ہیں انکی باتوں سے یہی لگتا ہے کو قادری صاحب کی طرح انکو بھی لاشوں کی سیڑھی چاہیے جس سے وہ انقلاب کے چاند کو چھو سکیں ۔خان صاحب کو خود بھی اور اپنے ہمنواؤں کو بھی اشتعال انگیزی سے باز رکھنا چاہیے اورپرامن دھرنے کا جو نعرہ ہے اسے حقیقی رنگ دیں پچھلے دھرنے جیسا پر امن نہ ہو کیونکہ وہ پر امن مظاہرہ پوری دنیا نے دیکھا۔عوام کو بھی خود سوچنا ہو گا کہ سیاسی سانڈوں کی لڑائی میں خود کو ذلیل نہ کریں اپنی پارٹی سے مخلص رہیں اسکے احتجاج کا حصہ بنیں لیکن اشتعال انگیز کھوکھلے نعروں کی بھینٹ نہ چڑیں اپنی ملکی عمارتوں پر حملہ نہ کریں اپنی فورسسز کا بھرکس نکالنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور ویسے بھی ایسے جلسوں پر احتجاج میں مرنے والوں کا نام کسی کو نہ تو یاد رہا ہے اور نہ ہی ان سپوتوں کو آئندہ یہ یاد رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں  شاہدآفریدی، عمراکمل،احمد شہزاد فٹنس کیمپ کے لئے طلب

 

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker