شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / الگ صوبوں کامطالبہ اور سیاسی ہلچل

الگ صوبوں کامطالبہ اور سیاسی ہلچل

zafar ali shahصوبہ ہزارہ اورصوبہ جنوبی پنجاب کامطالبہ توتھاہی اب ایم کیوایم کی جانب سے سندھ میں نئے صوبے کی تشکیل یعنی مہاجرصوبے کے قیام کا مطالبہ اور30 اکتوبرکوگجرقومی موومنٹ کامطالبہ کہ مالاکنڈڈویژن کوصوبہ بنایاجائے کی نظرآتی صورتحال بتاتی ہے کہ ملک میں کہیں انتظامی تو کہیں لسانی بنیادوں پر الگ صوبوں کے قیام کا مطالبہ زورپکڑنے لگاہے اورآئے روزملک کے مختلف حصوں سے ایسی آوازیں اٹھتی سنائی دے رہی ہے ۔متحدہ قومی موومنٹ نے کچھ روز قبل پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوکی ایم کیوایم کے قائدتحریک الطاف حسین کے خلاف لتضحیک آمیزلب کشائی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشیدشاہ کی جانب سے لفظ مہاجرکوگالی قراردینے کی بنیادپرسندھ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی سندھ میں نیا صوبہ بنانے کابھی مطالبہ کردیاہے۔ایم کیوایم کے رہنماء خالد مقبول صدیقی نے پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھاکہ لفظ مہاجرکوگالی دینے کاانجام اب اُن کے نئے صوبے کاقیام ہوگا۔اس کے اگلے ہی دن ایم کیوایم نے ملک بھر میں احتجاج کرتے ہوئے یوم سیاہ بھی منایا۔ اگرچہ بلاول بھٹوزرداری اور سید خورشیدشاہ کے بیانات پرایم کیوایم کی جانب سے شدید احتجاج پرمبنی اندازسیاست کو دیکھتے ہوئے محسوس تویہی ہوتاہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کوکافی عرصے سے انتظارتھا پیپلز پارٹی کی کوئی کمزوری ہاتھ لگنے کی ورنہ اگرحقیقت نظری سے دیکھا جائے توبلاول بھٹو ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اوراگروہ سیاسی جلسوں میں دوران خطاب سیاسی جماعتوں کے قائدین کو للکارتے ہیں اور ہدف تنقید بناتے ہیں تویہ کوئی اتنی معیوب بات بھی نہیں اوریہ جمہوری نظام کاحسن بھی مانا جاتاہے جبکہ قطع نظراس کے کہ خورشید شاہ نے لفظ مہاجر کوگالی کیوں قراردی تھی مگربعدمیں انہوں نے اپنے بیان پرمعذرت بھی کرلی تھی جس کے بعدایم کیوایم کی جانب سے اتناسخت رد عمل سامنے آناحیراں کن بھی ہے تاہم دوسری جانب انتظامی بنیادوں پر ایک یاایک سے زائد صوبوں کامطالبہ کسی بھی سیاسی جماعت کا سیاسی اور جمہوری حق ہوتاہے ۔اگراپنے سابق دورحکومت میں پیپلزپارٹی نے پنجاب کوتقسیم کرنے کی غرض سے صوبہ جنوبی پنجاب اورصوبہ بہاولپور کے قیام کی آوازبلند کی تھی جوکہ درحقیقت مسلم لیگ نون کی پنجاب میں سیاسی قوت کم کرنے اوربہاولپو ر سمیت جنوبی پنجاب میں عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش تھی اگرچہ پیپلزپارٹی کی جانب سے صوبے کی تشکیل کی کوششیں توبارآور ثابت نہ ہوسکیں البتہ مسلم لیگ نون کو اس قدر پریشانی کا سامنا کرنا پڑاکہ پیپلزپارٹی کے اس اعلان کے بعدشدید عوامی دباؤکے پیش نظرنہ صرف لیگی قیادت انتظامی بنیادوں پرالگ یونٹس کی حمایت کرنے پر مجبور دکھائی دی بلکہ جنوبی پنجاب کوالگ صوبہ بنانے کے لئے پنجاب اسمبلی سے قراردادبھی منظورکرالی گئی تھی جس پر تاحال کوئی عملدر آمد نظر نہیں آیا۔ بہرحال اگرپیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں ایساکیاتھا تو متحدہ قومی موومنٹ بھی اس طرح کے مطالبے کاحق رکھتی ہے ۔ انتظامی یونٹس بنانے کامقصداگر عوام کوزیادہ فائدہ پہنچانامقصودہو اور پنجاب کی تقسیم کی خواہاں پیپلزپارٹی کی اگرسندھ میں گورننس پرسوالیہ نشان ہو تووہاں نئے انتظامی یونٹ بنانے میں کوئی حرج نہیں البتہ ایساکوئی بھی اقدام اور مطالبہ آئین وقانون سے ماوراء نہ ہو نہ ہی اس کا مقصدیہ ہوکہ اس سے عوام کوکوئی فائدہ ہو نہ ہومگرایم کیوایم کوسیاسی فائدہ ہوایسا کسی بھی صورت نہیں ہوناچاہیے۔اطلاعات یہ بھی ہیں کہ 28اکتوبر کوڈاکٹر فا روق ستار کی قیادت میں رشید گوڈیل،بابرغوری اور خالد مقبول صدیقی پر مشتمل ایم کیوایم کے وفد نے وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کے دوران مہاجرصوبے کے قیام کے لئے مسلم لیگ نون سے حمایت کامطالبہ کیاہے اور بتایاجاتاہے کہ وزیراعظم نے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعدہی ایم کیوایم کو جواب دینے کاکہہ دیاہے جس پر سیاسی امورکے ماہرین کاکہنایہ ہے کہ حکومت اور لیگی قیادت ایم کیوایم کے مہاجر صوبے کے حق میں ہونہ ہولیکن سیاسی جواب دینے کی غرض سے پیپلزپارٹی کوٹف ٹائم ضروردے گی۔ ذکرہورہاہے نئے صوبوں یاانتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے کاتوباباحیدر زمان کی قیادت میں ہزارہ صوبے کے قیام کی تحریک چلی تھی جس کی ایم کیوایم نے بھرپورتائید وحمایت کی تھی اگرچہ بعدمیں صوبہ ہزارہ تحریک قدرے ماند ضرورپڑگئی لیکن ختم نہیں ہوئی اورصوبہ ہزارہ کامطالبہ اب بھی کیاجارہاہے جبکہ سیاسی اتارچڑھاؤ کے ماہرین کاکہناہے کہ ایم کیوایم کاالگ صوبہ یعنی صوبہ مہاجرکاارادہ پہلے سے تھااسی لئے صوبہ ہزارہ تحریک کی حمایت کررہی تھی ورنہ صوبہ ہزارہ بنے نہ بنے ایم کیوایم کونفع نقصان اورلینادینا کوئی نہیں۔ادھراگرچہ زرین خان گجرکی قیادت میں گجرقومی موومنٹ صوبہ مالاکنڈکے قیام کامطالبہ کافی عرصے سے کرتی آرہی ہے تاہم 30اکتوبرپریس کلب چکدرہ میں تحریک کے کارکنان کی موجودگی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے زرین خان گجرنے ایک بارپھر وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت سے مالاکنڈڈویژن کوالگ صوبہ بنانے کامطالبہ کردیاان کے مطابق مالاکنڈڈویژن قدرتی وسائل سے مالامال علاقہ ہے مگریہ علاقہ اور یہاں کے عوام ہردورمیں حکومتی توجہ سے محروم رہ جانے کے باعث پسماندگی کے شکارہیں جبکہ صوبے کادرجہ ملنے کے بعد علاقہ ترقی کرے گا،روزگارکے ذرائع میسرآئیں گے اور وسائل کے مقامی سطح پراستعمال سے عوام میں خوشحالی آئے گی۔گوکہ گجر قومی موومنٹ کوصوبہ خیبر پختونخواکے نام پربھی تحفظات ہیں اورزرین خان گجرکاکہنایہ بھی ہے کہ اختیارواقتدارمیں آکروہ اس صوبے کانام بھی تبدیل کردیں گے بہرحال ذکرہورہاتھانئے صوبوں یاانتظامی یونٹس کے قیام کا توایم کیوایم کی پی پی پی سے ناراضگی کے بعد مہاجر کے نا م سے الگ صوبے کے قیام کا مطالبہ رنگ لاتاہے کہ نہیں ،کیاوفاقی حکومت اورسندھ میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت متحدہ قومی موومنٹ کے مطالبے کے سامنے گھٹنے ٹیک دی گی، کیا نون لیگ اور دیگرسیاسی جماعتیں سندھ کی تقسیم میں ایم کیوایم کاساتھ دے گی اور یہ بھی کہ مطالبہ تسلیم نہ کرانے کی صورت میں ایم کیوایم کااگلالائحہ عمل کیاہوگا ،کیاایم کیوایم کی تحریک سے ان تحاریک کوتقویت ملے گی جو الگ صوبوں کے قیام کے لئے چلائی جارہی ہیںیہ توحتمی طورپرنہیں کہاجاسکتاالبتہ نظرآتی صورتحال بتاتی ہے کہ ایم کیوایم کاالگ صوبے کے قیام کامطالبہ ہویامطالبہ ہو دیگرعلاقوں کا۔اب الگ صوبوں کے قیام کے مطالبے سامنے آناشروع ہوگئے ہیں۔یہاں یہ کہنابھی قابل ذکرہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کسی بھی حال میں سندھ کی یقسیم اور مہاجرصوبے کے قیام کے لئے راضی نہیں ہوگی اورپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری تواکثرکہتے سنائی دیتے ہیں کہ مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں۔

یہ بھی پڑھیں  میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نشان حیدر ملک کے بہادر سپوت تھے،شمائل احمد خواجہ کمشنر گوجرانوالہ

note