تازہ ترینکالممحمد ناصر اقبال خان

عالم دین اورعلم دین

سرورکونین حضرت محمدرسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم کافرمان ہے،”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ، بچوں اورتمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں "۔ کیوں نہ اس فرمان مصطفی ﷺ کی روشنی میں اپنے اپنے گریبان میں جھانک اورضمیر کوجھنجوڑلیا جائے کیونکہ ہم” مومن "کے مقام ومرتبہ سے ابھی بہت دور اورہمارے ایمان کی آنکھیں بے نور ہیں۔جو بدبخت لوگ اس نیت اورسوچ کے تحت اپنا نام نہاد فلسفہ پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سارے جہانوں کیلئے رحمت ہیں اسلئے ناموس رسالت پرحملے کرنیوالے معاشروں اور کرداروں کوکچھ نہ کہا جائے،ملی حمیت سے محروم مسلم حکمرانوں کامحاسبہ نہ کیاجائے،”فرانس کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات نہ رہے توخدانخواستہ ہم زندہ نہیں رہیں گے”۔ تومیرے نزدیک اس منافقانہ سوچ کے حامی عناصرکو تجدیدایمان کی ضرورت ہے،کیونکہ گستاخ عناصر کی ناپاک جسارت پرخاموش رہنا بھی مجرمانہ گستاخی ہے لہٰذاء اگر عشاق رسولﷺ نے ایک ایک ملعون کو قرارواقعی سزا نہ دی توان کی محبت وعقیدت ایک بڑا سوالیہ نشان بن جائے گی،ناموس رسالتؐ کسی مصلحت یامفاہمت کی متحمل نہیں ہوسکتی۔پاکستان سمیت کوئی اسلامی ریاست نامو س رسالتؐ سے مقدم نہیں ہوسکتی۔گستاخ کیخلاف آپریشن اوراس کی موت تک مزاحمت اس معاملے کاواحد آپشن ہے۔دیکھتے ہیں ریاست مدینہ کے داعی حکمرانوں کا فرانس سے عشق اور تحریک لبیک کے قائدین کا”یوٹرن "انہیں کہاں لے جاتا ہے۔اگر تحریک لبیک کاپرتشدد احتجاج محض اپنے اسیر امیرسعد رضوی کی رہائی اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت کیلئے تھا تو پھر اس کی قیادت قدرت کی گرفت کیلئے تیار رہے۔مفتی منیب کاکہنا ہے،ہم نے فرانس کے سفیر کوملک بدر اوریورپی یونین کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کامطالبہ نہیں کیاتوپھر ملک میں دومختلف واقعات کے دوران ہونیوالے کشت وخو ن،سکیورٹی اہلکاروں اورشہریوں کی حالیہ شہادتوں کاحساب کون دے گا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا اگردریائے فرات کے کنارے کتا پیاسا مرگیا توروزمحشر مجھ سے پوچھاجائے گا،لیکن ہمارے ملک میں توناانصافی،ہوشربا مہنگائی،بے حیائی،بدانتظامی اورانتقامی سیاست کے نتیجہ میں بیگناہ انسان ناحق مارے جارہے ہیں جبکہ وفاق سے پنجاب تک کوئی” بزدار” اپنے فرض منصبی کی بجاآوری کیلئے” بیدار” ہونے کیلئے تیار نہیں۔میں سمجھتاہوں ہر سیاسی وانتظامی معاملے میں پولیس کوعوام کے ساتھ تصادم کی آگ میں جھونک دینا دانائی نہیں،تحریک لبیک کے ساتھ” مکالمے” کی ضرورت تھی لیکن بدقسمتی سے تبدیلی سرکار ڈیلیور اورڈائیلاگ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی لہٰذاء "مداخلت” کے بعد مذکرات شروع ہوئے۔
لاہور تودرکنار چاروں صوبوں کی پولیس تحریک لبیک کاراستہ نہیں روک سکتی تھی کیونکہ یہ مہنگائی یادھاندلی کیخلاف مٹھی بھر شہریوں کا مظاہرہ نہیں تھابلکہ یہ کئی ملین لوگ ناموس رسالت پرہونیوالے حملے کوبنیادبناتے ہوئے شاہراہوں پرآئے تھے،اس کے باوجود لاہور کے سی سی پی او غلام محمودڈوگر،ڈی آئی جی سہیل چوہدری اورایس ایس پی اسماعیل کھاڑک انتہائی متحرک اورفرنٹ لائن پرنظرآئے۔غلام محمودڈوگر ایک طرف مختلف شاہراہوں پر اپنے آفیسرز اوراہلکاروں کامورال بلندجبکہ دوسری طرف ہسپتالوں میں اپنے زخمی جوانوں کی تیمارداری کرتے دیکھے گئے۔انتھک غلام محمودڈوگر اپنے موثر انتظامات کے سبب لاہور کوبڑے نقصان سے بچانے میں کامیاب رہے۔تحریک لبیک کی پیش قدمی لاہورپولیس نہیں بلکہ پنجاب حکومت کی ناکامی اوربدانتظامی کانتیجہ ہے۔اناڑی حکمرانوں نے اس وقت بھی تحریک لبیک کی افرادی قوت،استقامت اورمزاحمت کوانڈراسٹیمیٹ کیا جس وقت حافظ سعد رضوی کوشاہراہ عام سے گرفتار اوراس واقعہ کی ویڈیوکووائرل کیا گیا۔عدالتی احکامات کے باوجودحافظ سعد رضوی کی” عدم رہائی” سے تبدیلی سرکار کی "رسوائی”اور”پسپائی” کاراستہ ہموار ہوا۔حکومت نے تحریک لبیک کے ساتھ جومذاکرات اب کئے اگریہ حافظ سعدرضوی کی گرفتاری کے وقت ہوئے ہوتے توکئی قیمتی انسانی جانوں کاضیاع ہوتا اورنہ قومی املاک کوشدیدمالی نقصان پہنچتا۔حکومت اورتحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کاکریڈٹ پاک فوج کے زیرک سپہ سالار جنرل قمرجاویدباجوہ کوجاتا ہے۔اگراس حساس معاملے کوبے حس اوراناکے اسیر حکمرانوں پرچھوڑدیاجاتا توخدانخواستہ کوئی بڑاسانحہ رونماہوسکتا تھا۔
جوکوئی ناموس رسالتؐ پرسیاست اوراس معاملے پرمنافقت کرے گا تو لعنت اس کامقدربن جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کوحاضر وناظر جان کرکہتا ہوں،ہرعہدمیں بیسیوں مسلم حکمران اور ہزاروں ” عالم دین” ہوتے ہیں لیکن "علم دین” صرف ایک ہوتا ہے۔بیشک ایک مسلمان عالم کی موت پورے عالم کی موت ہے لیکن ہزاروں "عالم دین” گمنامی کی موت مرجاتے ہیں لیکن ایک” علم دین” زندہ جبکہ اس کے نام اورکام کاڈنکا بجتا رہتا ہے۔1929ء سے اب تک ہزاروں عالم دین دنیا میں آئے اور چلے گئے ان میں سے ہمیں شاید ایک دو کے سوا کسی کا نام تک یادنہیں لیکن غازی” علم دین” شہید کانام اورکام بچے بچے کو ازبر ہے۔ ایک فرض شناس سپاہی غازی ممتاز قادری شہید اورنام نہاد گورنرپنجاب سلمان تاثیر کے جنازوں کافرق کوئی فراموش نہیں کر سکتا، غازی ممتاز قادری شہید کے مقام نے بتادیابیشک انسان کی عزت” اقتدار” نہیں "کردار” کی مرہون منت ہوتی ہے۔عشق رسول اللہ ﷺ کے اسیر وعلمبردار غازی علم دین نے31اکتوبر1929ء کی صبح جام شہادت نوش کرتے ہوئے اہل اسلام کو عفت اورعافیت کارازبتادیا۔غازی علم دین شہید اورغازی ممتازقادری شہید کا”راستہ "کامیابی وکامرانی اورنیک نامی سے "آراستہ "ہے۔راقم نے شاندار "کوٹھی” میں کئی قیدی دیکھے ہیں لیکن غازی علم دین شہید اورغازی ممتازقادری شہیداپنی اپنی کال” کوٹھڑی” میں بھی آزاد تھے اورآج اپنے اپنے مزارمیں بھی زندہ ہیں۔حقیقت میں رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی میں اللہ رب العزت کی خوشنودی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اتباع مصطفی ﷺ اورذات مصطفیﷺ سے غیر مشروط وفاداری کاحکم دیا ہے۔صحابہ کرام اطاعت رسول اللہ ﷺ اورحب رسول اللہ ﷺمیں اپنی مثال آپ تھے۔
کی محمدؐ سے وفا تونے توہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیالوح وقلم تیرے ہیں
جومسلمان اپنے رحمن،رحیم اورکریم اللہ رب العزت کے حبیب سیّدنا محمدرسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم کے ساتھ” دل وجاں ” سے محبت اور وفاکرے گااس کیلئے” جہاں ” توکیا لوح وقلم اورجس نے بیوفائی کامظاہرہ کیااس کیلئے دونوں جہانوں میں ناکامیاں،رسوائیاں اوربدترین رنج والم ہیں۔کسی بھی ریاست میں عوا م کے مزاج کودیکھتے ہوئے وہاں کے حکمران کی کامیابی اورناکامی یابدنامی کااندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ عمران خان کوعزت کی قیمت پرحکومت ملی، اقتدارمیں آنے کے فوری بعد ان کی ذاتی اورسیاسی ساکھ پوری طرح راکھ کاڈھیر بن گئی۔سوشل میڈیا پرعمران خان کیلئے شدیدنفرت سے بھرپور کلمات اورتوہین آمیز القابات دیکھتے ہوئے سرشرم سے جھک جاتا ہے۔عمران خان کاہریوٹرن اسے عوام سے مزید دور لے گیا۔داناؤں کاکہنا ہے اگردشمن کے ساتھ تصادم ناگزیر ہوجائے تواس پرحملے کے وقت اسے فرارہونے کا را ستہ ضرور دیں ورنہ وہ اپنے بچاؤاوراپنی بقاء کیلئے انتہائی شدت سے آپ پردفاعی وارکرے گا۔جومیدان میں اترتے ہوئے اپنے دشمن کی استقامت اورمزاحمت کادرست اندازہ نہیں لگاتا وہ خفت اوربدترین شکست کا بوجھ اٹھاتا ہے،تحریک لبیک کے معاملے میں حکومت کی نام نہاد منصوبہ بندی ہرگز درست نہیں تھی، پولیس کو اپنے شہیدوں کاجنازہ جبکہ بزدار حکومت کی ناکامی کابوجھ اٹھانا پڑا۔ آپ تحریک لبیک یارسول اللہ کے طرز سیاست سے متفق ہوں نہ ہوں لیکن اسلامی معاشرے میں ان کے نظریات اوراس کے اثرات سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ کوئی سچامسلمان "اسلام” دشمن فرانس کے سفیر کو”اسلام آباد” میں نہیں دیکھنا چاہتا۔پاکستان کے حکمرانوں،سیاستدانوں اورمذہبی رہنماؤں کو”اسلام "سے زیادہ "اسلام آباد” سے محبت ہے،انہیں "اسلام "پرہونیوالے کسی حملے سے کوئی سروکار نہیں لیکن وہ” اسلام آباد” کیلئے سردھڑ کی بازی لگا سکتے ہیں۔ پاکستان میں سیاست کیلئے دھونس دھرنا جائز لیکن ناموس رسالت ﷺ کیلئے احتجاجی مارچ ناجائز ہے۔دھرنا برانڈ حکمران جماعت کے حالیہ آمرانہ اورانتہاپسندانہ اقدامات سے نام نہاد جمہوریت بھی شرماگئی۔ کپتان بتائے وہ کس ریاست مدینہ کی بات کرتا ہے جہاں ناموس رسالت ﷺ کے حق میں آوازاٹھانے کی آزادی نہیں۔کپتان کس منہ سے ریاست مدینہ میں ننگے پاؤں جاتا ہے۔جووزیراعظم فرانس کے سفیرکواسلام آباد سے نہیں نکال سکتا تواسے تخت اسلام آباد پربیٹھنے کاکوئی حق نہیں پہنچتا۔جس حکمران کواللہ تعالیٰ سے زیادہ فرانس،پوپ یایورپ کے ناراض ہونے کاڈر ہے وہ پاکستان کوریاست مدینہ نہیں بناسکتا۔کپتان کے پاس حکومت ضرور ہے لیکن اب اس کے دونوں ہاتھ عزت سے خالی ہیں۔ میں توسمجھتا ہوں پاکستان کاحکمران بننا کپتان کیلئے انعام نہیں بلکہ سخت امتحان اورایک طرح سے سزاہے کیونکہ اس کی نیت اورصلاحیت دونوں ایکسپوز ہوگئی ہیں۔فرانس اوریورپ تودرکنار پوری دنیا کے ساتھ تجارت کیلئے ناموس رسالت ؐ پرسمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button