تازہ ترینصابرمغلکالم

آلو مال روڈ پر

sabir mughalپاکستان کسان اتحاد کونسل کے ارکان کئی بار کے احتجاج کے بعد بالآ خرشہر لاہور کی سب سے بڑی شاہراہ مال روڈ (The Mall)جسے شاہراہ قائد اعظم بھی کہتے ہیں پر پہنچ گئے،مال روڈ لاہور کا مصروف ترین روڈ ہے،اسے لاہور کا دل بھی کہا جائے تو غلط نہ ہو گایہ روڈ جہاں لاہور کی تاریخی او رثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے وہیں یہ ۔پاکستانی شہنشاہوں ۔کی گذر گاہ اور اقتداری راہ داری ہے،اس روڈ پر واقع عمارات مغل طرز تعمیر کا بہترین نمونہ ہیں،یہاں اشرافیہ کے بچوں کے لئے مخصوص تدریسی ادارہ ۔ایچی سن کالج۔پنجاب اسمبلی،عجائب گھر،چڑیا گھر،نیشنل کالج آف آرٹس،باغ جناح (لارنس گارڈن)،زمزمہ،وزیر اعلیٰ ہاؤس،جی پی او،واپڈا ہاؤس،جامعہ پنجاب،ایوان اقبال ،گورنمنٹ کالج،لاہور سٹاک ایکسچینچ،گورنر ہاؤس،بینکوں کی مین برانچز،فائیو سٹار ہوٹلز سمیت اہم ترین کاروباری مراکز بھی یہیں ہیں،کسان اتحاد کونسل کے شرکاء نے یہاں زبردست احتجاج کیا، انہوں نے اس تاریخی شاہراہ پر جو تاریخی کام کیا وہ ۔آلو جلانا تھا۔لاہور کی اسی وادی میں سیاسی آلوؤں کی بھی بہتات ہے ،روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک رکوا کو عوام کو ذلیل کرنے کا کام یہی آلو کرتے ہیں،آلو شاید دنیا کی وہ واحد اور منفرد ۔سبزی۔ہے جو گوشت سمیت ہر دوسری سبزی میں ڈالی جا سکتی ہے،آلو کی ساخت اور بناوٹ ہی لڑھکنے کی طرز پر ہے،اس کا کوئی پتا نہیں ہوتا ،کچھ اندازہ نہیں کیا جا سکتا کہ ۔آلو۔ کب ، کیسے اور کس جانب لڑھک جائے،گذشتہ تین سال سے آلوؤں کی فصل کا وہ حال ہوا ہے جو بیان سے باہر ہے انہیں تو کولڈ سٹوریج والے بھی رکھنے پر تیار نہیں تھے،اس کے باوجود عام مارکیٹ میں سیاستدانوں کی طرح اس کی قیمت میں کچھ کمی نہ آئی ،کسان مر گیا اور تاجر ۔جی ۔گئے،کسی انوکھی اور اچھوتی بات ہے کہ آلو کی بوری کی قیمت 800روپے مگر مارکیٹ میں آلو 100روپے فی کلو۔احتجاج ،دھرنے ،روڈ بند کرنے،مقدمات کا اندراج اور اربوں روپے کے مالی نقصان کے بعد وزیر اعلیٰ اورخادم اعلیٰ نے کسانوں کو بتایا کہ۔میں کسان دوست ہوں اور ان کی بہتری کے لئے ہر حد تک جاؤں گا،ان کے نزدیک وہ۔ حد۔ شاید ملک کو زراعت سے ہٹا کر انڈسٹریلسٹ بنانا ہے تا کہ ہم دور جدید میں ۔جدید بندے ۔بن جائیں،ہماری عورتوں کو کھیتوں میں کام نہ کرنا پڑے،وہ ہر وقت مٹی اور گوبر میں لپٹی نظر نہ آئیں،زراعت پیشہ لوگ زمانہ جاہلیت سے نکلیں اور ۔بابو۔نظر آئیں، کچھ شک نہیں کہ پاکستان بنیادی طور پر دنیا بھر میں ایک زرعی مملکت کے طور جانا جاتا ہے،پاکستان کی معاشی ترقی میں اس کا نہ صرف اہم ترین کرداربلکہ اسے پاکستان کی معاشی و اقتصادی حالت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے مگر ناقص اور گھٹیا ترین حکومتی پالیسیوں کی بدولت آج یہ شعبہ سب سے زیادہ زوال پزیر ہے،عوام کا 43فیصد روز گار زراعت سے وابستہ ہے،اس کی قابل زراعت اراضی کا 73فیصد پنجاب اور باقی27فیصد صوبہ سندھ ،خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ہے،صوبہ پی کے میں کل رقبہ کا صرف 5فیصد اور بلوچستان میں یہ تناسب 7فیصد ہے،2005میں پاکستان گندم پیدا کرنے میں ٹاپ پوزیشن پر آ گیا تھا،پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے صرف 3ذرائع ہیں،بیراج16،ہیڈ ورکس3،انٹر لنک کینال 12۔کینال سسٹم44جن کی لمبائی 56073کلومیٹرہے جو تقریباً تین ملین ایکڑ اراضی کو سیراب کرتی ہیں،آلو ۔گندم،مکئی ،گنا،کپاس، چاول اور چنا پاکستان کی اہم ترین فصلیں ہیں،گندم ،گنا اور چاول پاکستان کی کل فصلوں کا 75فیصد تھیں مگر اب ان میں بتدریج کمی آتی جا رہی ہے،پاکستانی چنا پیداوار کے لحاظ سے دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے، آلو اپنی افادیت اور ٹائمنگ کی وجہ سے کسانوں کے نزدیک اہم ترین فصل ہے مکئی کی طرح یہ بھی تیار ہونے میں بہت کم وقت لیتی ہے اس وقت پاکستان میں یہ چوتھی بڑی فصل ہے آلو کی کاشت کا 86فیصد رقبہ خادم اعلیٰ کے صوبہ پنجاب میں ہے اوکاڑہ،سائیوال،قصور،سیالکوٹ،شیخوپورہ،جھنگ،نارووال،پاکپتن،گوجرانوالا،ٹوبہ ٹیک سنگھ اور لاہور کے اضلاع میں اس کی کاشت سب سے زیادہ ہے،چاول کی فصل کے حوالے سے پاکستان کادنیا میں 11واں نمبر ہے،چائنا،انڈیا،انڈونیشیا،بنگلہ دیش،ویتنام،تھائی لینڈ،برما،فلپائن ،برازیل اور جاپان کے بعد پاکستان کا ہی نمبر ہے،پاکستانی چاول دنیا کے بہترین چاولوں میں شامل ہے یہ زیادہ تر سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،کینیا اور افغانستان کو برآمد کیا جاتا ہے،پاکستانی چاول کو انڈیا دوبئی منگوا کر درجنوں ممالک کو آگے سپلائی کرتا ہے، گذشتہ چند سال سے بالخصوص موجودہ حکومت نے زراعت کا جنازہ نکال دیا ہے،ان کے جاگیردار ساتھیوں کو تو کسی بات کی پرواہ نہیں مگر عام کسان ،عام کاشتکار جیتے جی مر گیا ہے،آسمان سے باتیں کرتی ہوئی جعلی ادویات ،جعلی بیج ،پٹرولیم مصنوعات اوربجلی کے نرخوں نے سب کچھ بد حال کر دیا ہے،پاکستان کے کونے کونے میں جعلی زرعی ادویات کا وسیع و عریض نیٹ ورک ہے ان کے منافع کی شرح دیکھیں تو بندہ سکتہ میں آ جاتا ہے ان کے عام سے ملازم کے پاس قیمتی گاڑیاں،پر کشش تنخواہیں،اربوں روپے کی ایڈووٹائزمنٹ ۔یہ سارا پیسہ کدھر سے آتا ہے؟کیاحکومت یا حکمران اندھے ہیں؟ہر ضلع کے زراعت کے آفیسر ان کے ڈیلرز سے منتھلیاں لیتے ہیں،گندم پک جائے تو کسان رل جاتا ہے اور سرکاری باردانہ انتہائی سائنٹیفک طریقے سے بذریعہ پٹواری بیوپاریوں کو مل جاتا ہے،میرے ایک دوست نے صرف اس وجہ سے دھان کی فصل جلدی لگائی کہ شاید وہ بہتر نرخوں پر فروخت ہو جائے مگر ہوا کیا؟8ایکڑ کی اس فصل پر اسے 40ہزار اپنے پاس سے ادا کرنا پڑے حالانکہ زمین اس کی ذاتی ،اگر اس نے زمین کا یہ ٹکڑا کسی سے ٹھیکہ پر لیا ہوتا تو پھر اس کی حالت کیا ہوتی؟اس کی محنت ،اس کا انتظار ،فصل کی نگرانی سب بھاڑ میں گیا،ہر فصل میں نقصان ہی نقصان ،حکومت کی جانب سے کسی ایک فصل پر بھی سبسڈی نہیں سب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی شرائط کے مطابق کیا اور کسانوں کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے۔اس زرعی ملک کا کسان اگر خوشحال نہیں ہو گا تو ملک ترقی کیسے کرے گا؟ان کی تیار فصلیں کوڑیوں کے بھاؤ بک رہی ہیں،کسانوں کو برباد کرنا کسی طور بہتر نہیں بلکہ خطرناک ہے ملک کی مجموعی آبادی کا معاشی قتل عام کہاں کا انصاف ہے اگر زراعت جیسے اہم ترین شعبہ پر حکومتی توجہ نہیں تو پھر یہ توجہ ہے کس پر؟زراعت کی یوں زبوں اور بدحالی نہ صرف شرمناک بلکہ انتہائی تشویشناک بھی ہے۔ آلو کی یہ نسل لگتا ہے ہماری زراعت کا سوا ستیاناس کر کے ہی چھوڑے گی۔

یہ بھی پڑھیں  سبی:سڑکوں،گلیوں،نالیوں کی حالت درست کرنے کے علاوہ پبلک پارک میں سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایاجائیگا، کمشنر

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker