شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / الحمرا ور ایل ایل ایف!

الحمرا ور ایل ایل ایف!

چمکتی دھوپ،ٹھنڈی ہوا،اطراف میں پھیلے رنگ ،پھولوں میں لہراتے انچل، فروری کا یہ خوبصورت دن بہار کی نوید کے ساتھ ادبی میلہ بھی لایا ہے،دوپہر2:00بجے کا وقت ہے ،دنیا کے کونے کونے سے چہرے پھولوں کی طرح ہر سو کھلے ہیں،لوگ ٹولیوں بن بن الحمراء میں داخل ہورہے تھے،الحمراء آرٹس کونسل میں تین روزصبح سے رات تک مسلسل ایسا ادبی فیسٹیول ہوا جو لاہور کی تاریخ میں تو یاد گار ہوگاہی ، ادب،مصوری ،موسیقی تھیٹر، سیاست ،سماج ،میڈیا،دنیا کو درپیش چیلنجز،آپسی تعلقات اور ممالک کو ایک دوسرے سے اچھے اور بہترین انداز میں ملانے والوں کی کوشش کرنے والوں کیلئے بھی معتبر حوالہ ثابت ہوگا، لاہورلٹریری فیسٹیول میں پاکستان سمیت دنیابھر سے آئے ہوئے دانشوروں کو ایک جگہ جمع کیا گیا،جو کسی ایک جگہ پر کم ہی اکٹھے ہوتے ہیں،اگر ہم کانفرنس میں شرکت کرنے والے مندوبین پر نظر ڈالیں تو بخوبی انداز ہو جائے گا کہ اس میں کس نوع کی متنوع نمائندگی تھی یعنی یہ ادبی میلہ علم و فن کو ایک چراغ ثابت ہوا۔ہمارے ملک کی مٹی ادب وثقافت او سیاست و سماج کے حوالے سے بڑی زرخیز ہے۔الحمراء کا پلیٹ فارم ویسے بھی ہمیشہ سے علم وفن کا گہوارہ رہا ،عالمی شہرت کا یہ ادبی و ثقافتی ادارہ اپنے ماحول ،فضاء اور خوبصورتی میں ا پنا کوئی ثالثی نہیں رکھتا،ادبی میلے کے تینوں زور ہشاش بشاش چہرے الحمراء میں داخل ہوتے اور پھر خوبصورت گارڈن میں کھڑے باہم گفتگوو شنید اور خوش گپیوں می مہو نظر آتے،ہالز کے اندر ہونے والی نشستوں میں سامعین نے مقررین کوبہت غور سے سنا ،بہترین مکالمے ہوئے، سوالات اور جوابات کی خصوصی نشستوں کا اہتمام بھی ساتھ ساتھ ہی تھا،پہلے زور لاہور لٹریری فیسٹیول کا آغاز سہ پہر3:00بجے ہوا،افتتاح نشست الحمراء ہال نمبر Iمیں منعقد ہوئی،منتظمین نے مہمانوں کو خوش آمدید کیا اور بھرپور شکریہ اداکیا۔ زہرہ نگاہ کی زندگی پر ڈاکومنٹری فلم دیکھائی گئی،سلیمہ ہاشمی نے فیض احمد فیض کے فن و شخصیت پر روشنی ڈالی،دوسرے نشست میں2018ء میں ہم سے بچھڑ جانے والی ادبی شخصیات جن میں فہمیدہ ریاض،الطاف فاطمہ اور خالدہ حسین شامل ،کی خدمات کو یاد کیا گیا،ادبی میلہ میں سیکیورٹی و صفائی بہت عمدہ تھی ۔ملکی و غیر ملکی مہمانان اور بطور شرکاء ادبی میلہ میں شامل ہونے والوں کیلئے نوجوان بچے اور بچیاں جگہ جگہ کھڑے، ان کی راہنمائی کا فریضہ ادا کرتے رہے ۔لاہور لٹریری فیسٹیول کے دوسرے روز20سے زائد مباحثے ہوئے،خوب گہماگہمی رہی،سیا سی وسماجی موضوعات لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے، خصوصی سیشن میں معروف تجزیہ نگار نسیم زہرا کی مدلل گفتگو ہوئی، لاہور کی تاریخ اور ثقافت کے حوالے سے ہونے والے مباحثوں میں لاہور کے ساتھ ساتھ باہر سے آنے والوں لوگوں نے بھی بھرپور حصہ لیا۔مختلف سیشن میں سماجی شخصیات، اداکار، فنکار اور مختلف ممالک کے سفیروں نے بھی شرکت کی۔برٹش ممبر پارلیمنٹ نازشاہ،پاکستان میں تعینات اطالوی سفیر مسٹر سٹیفانو پور ٹیکو روو،سپین کے سفیر مینیول ڈورین،برٹش ہائی کمشنر تھامس ڈریو،آسٹریلوی ہائی کمشنر مار گریٹ ایڈمن اور دیگر غیرملکی مندوبین نے شرکت کی۔اداکار عتیقہ اوڈھو اور اقراء عزیز نے ڈرامہ اور عورت کے موضوع پر ٹاکنگ سیشن میں حصہ لیا۔ایگزیکٹوڈائریکٹرلاہورآرٹس کونسل اطہر علی خان نے ادبی میلہ کے حوالے سے بتایا کہ الحمراء کے پلیٹ فارم سے ایل ایل ایف کو کامیاب بنانے کیلئے تمام تروسائل برؤے کار لائے گئے ہیں۔یہ فیسٹیول دنیا میں پاکستانی قوم کے پرامن ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ایل ایل ایف میں ہونے والے مکالمے معاشرتی ترقی کا باعث ہونگے۔اطہرعلی خان نے مزید بتایا کہ ایل ایل ایف کو کامیاب بنانے کیلئے فراہم کردہ سہولیات کے پیش نظر الحمراء کے پلیٹ فارم کی اہمیت کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے،جوہماری ادبی وثقافتی کامیابی ہے،اطہرعلی خان نے کہا مجھے امید ہے کہ اس فیسٹیول میں پوری دنیامیں آئے ہوئے مہمان پاکستان سے نہایت اچھا تاثر لے کر جائیں گے،ملکی وغیر سطح پر یہ فیسٹیول پاکستان سے متعلق مثبت بیاینے کو تشکیل دینے میں مدد فراہم کرئے گا۔لاہولٹریری فیسٹیول کے دوسرے زور یوناٹینڈ ڈویلپمنٹ پروگرام کے زیر اہتمام مساوات اورخوشی کے موضوع پر منعقد ہ سیشن میں ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ ایوب خان، ضیاء الحق ادوارکی آمریتوں نے پاکستان کے سوشل کنٹریکٹ کو تہس نہس کردیا،مشرف دور میں معاشی اشارے اگرچہ بہتر دکھائی دے رہے تھے لیکن سماجی تحفظ کا فقدان تھا۔وزیر خزانہ خیبر پختونخواہ تیمور جھگڑا نے کہا کہ سیاستدانوں کو حقیقی طورپر رہنمائی کا مظاہرہ کرنا ہوگا،ورکرزویلفیئر فنڈز موجود ہونے کے باوجودکارکنان کو جائز تنخواہوں کانہ ملنا موجودہ قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے،امجد ثاقب نے کہا کہ اخوت پروگرام کو متعارف کرنے کا مقصد نظر انداز شدہ طبقہ کی فلاح ہے،یہ پروگرام شروع کرنا آسان نہ تھاتاہم عزم کیا تھا کہ یہ کام کرکے رہنا ہے۔ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء اطہرعلی خان نے حکومت پنجاب کے بھرپور تعاون پر اسکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ، وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایات پر دن رات ملک و قوم کی ترقی ،خوشحالی اور بہتری کیلئے کوشاں ہے۔اطہرعلی خان نے کہا سردار عثمان بزدار نے صوبہ پنجاب میں ادبی وثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی ہے۔انھوں نے کہا حکومت پنجاب میں اپنی ثقافتی اقدار،رسم ورواج کوفروغ دینے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھارہی ہے۔جن پر ہم حکومت پنجاب کے مشکور ہیں۔انھوں نے کہا کہ لاہورلٹریری فیسٹیول کی کامیابی میں بھی حکومت پنجاب اور ضلعی حکومت کا اہم کردار ہے۔لاہورلٹریری فیسٹیول کے دوسرے روز میموریل سٹون آف تھرپارکر، کہانی ایک شہرکی،اردو ادب میں تاریخی اور سیاسی شعور ،واررائٹینگ،پنجابی لوک گیت ،آویمن لاٹک ہر، آلائن ان دی دیور کے علاوہ بیسوں نشستوں کا انعقاد کیا گیا۔فاطمہ بھٹو،آئی اے رحمن،گل رخ،سیماافتخار،نداعلی ،اصغرندیم سید،مسعوداشعر کے علاوہ یہ فیسٹیول درجنوں غیر ملکی دانشوروں کے ساتھ ساتھ چلتا رہاہے۔لاہورلٹریری فیسٹیول کے تیسرے اور آخری زورمجموعی طور پر تعلیم ،ادب،افسانہ،موسیقی برصغیرپاک وہند،کشمیر،عرب دنیا،معاشرہ اور جنگ کے موضوعات پر سترہ سیشن پیش ہوئے۔اس کے ساتھ ساتھ گیارہ کتب کی تقریب رونمائی ہوئی جن میں یوکین ناٹ گوہوم ٹونائیٹ،غزل کوسموپولیٹن،میوزنگرآف نومیڈ ،بیانڈدی فیلڈ،پیپر جیولز پوسٹ کارڈزفرام دی راج،ویمن مومونٹ ان پاکستان ،مسٹربھٹو اور دوسری کہانیاں ،نوفارچونز ٹوئیل، بیلا فیگورا،دوریش کے لباس میں سفراور بیگم شامل ہیں ،شام کو شیماکرمانی نے کلاسیکل ڈانس کرکے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ترانہ راگ درباری بھی پیش کیا گیا اورآخر میں دھمال ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں  علی باقر نجفی لاہور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات