تازہ ترینفن فنکار

علی اعجاز کو مداحوں سے بچھڑے ایک سال کا عرصہ بیت گیا

کراچی (نمائندہ شوبز) بے ساختہ اور برجستہ اداکاری دکھانے والے علی اعجاز کو مداحوں سے بچھڑے ایک سال کا عرصہ بیت گیا۔خواجہ اینڈ سننز سے شہرت کی بلندیوں کا سفر طے کرنے والے علی اعجاز کا فنی سفر ہر کسی کے لیے مثال رہا۔خواجہ اینڈ سنز ان کے کیرئیر کا ایسا ڈراما ہے جس کی یادیں چاہنے والوں کے ذہنوں سے کوئی مٹا نہیں سکا۔ ساٹھ کی دہائی میں فلم انسانیت سے اداکاری کے میدان میں قدم رکھا۔ تھیٹر اور فلموں میں کام کرنے کے بعد ٹی وی ڈراما دبئی چلو میں آئے تو اس نے مقبولیت کے نئے موڑ پر لاکھڑا کیا۔اسی دوران پاکستانی فلمی صنعت میں کامیڈی فلموں کا دور شروع ہوا۔حیدر چودھری نے ’’دوبئی چلو‘‘ کے نام سے ایک مزاحیہ پنجابی فلم کا آغاز کیا جس کی کاسٹ میں علی اعجاز کے ساتھ رفیع خاور عرف ننھا بھی شامل تھے۔ اگرچہ یہ دونوں فن کار فلموں میں چھوٹے موٹے رول ادا کر رہے تھے تاہم بحیثیت ہیرو ’’دوبئی چلو‘‘ اُن کی پہلی فلم تھی۔ جیسے ہی یہ فلم ریلیز ہوئی، فلم بینوں کی توجہ کا خصوصی مرکز بن گئی اور باکس آفس پر سپر ہٹ ہو کر علی اعجاز اور ننھا کے لئے کامیابیوں کے کئی دروازے کھول گئی۔ دونوں دھڑا دھڑ فلموں میں کاسٹ ہونے لگے۔ سالا صاحب اور نوکر تے مالک اس دور میں اُن کی سپرہٹ فلمیں تھیں۔اٹھارہ نومبر دو ہزار اٹھارہ کو دل کا جان لیوا دورہ پڑا تو ستتر برس کا یہ ہسنتا مسکراتا اداکار چاہنے والوں کے دل اداس کر کے نئی منزل کی طرف چل پڑا۔ علی اعجاز کی پہلی برسی الحمراء ہال 4میں منائی گئی ۔ برسی کی تقریب میں شوبز سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ایصال ثواب پہنچانے کیلئے خصوصی دعا اورفاتحہ خوانی کی گئی ۔

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker