تازہ ترینکالم

عالمی ثالثی عدالت میں کشن گنگا بھارت کا قرار

atharگزشتہ روز میڈیامیں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی ۔’’کشن گنگا کیس کا بھارت کے حق میں فیصلہ‘‘ کے عنوان سے اس خبر میں بتا یا گیا ہے کہ ’’عالمی ثالثی عدالت نے پیر کو مقبوضہ کشمیر میں کشن گنگا ہائیڈرو لیکٹرک پراجیکٹ پر پاک بھارت تنازعہ پر ہندوستان کے حق میں فیصلہ دے دیا اور اس کا یہ حق تسلیم کر لیا کہ وہ اس پراجیکٹ سے پانی کا رخ موڑ سکتا ہے۔نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہیگ میں عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے میں کشن گنگا ہائیڈرو لیکٹرک پراجیکٹ بھارتی موقف کو درست اور جائز قرار دے دیا اور وہاں سے پانی اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کی اجازت دے دی۔ترجمان نے مزید کہا کہ اس سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ انڈیا سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹر ٹریٹی)کی تمام شقوں پر عملدر آمد کر رہا ہے ۔‘‘
بھارت مقبوضہ کشمیر کے ضلع بانڈی پو ر کے گریز علاقہ میں کشن گنگا دریا پر بجلی پیدا کرنے کے ایک بڑے منصوبے پر کام کر رہا ہے جس میں کشن گنگا کے پانی کا رخ موڑ کر دریائے جہلم میں ملا دیا جائے گا۔ پاکستان نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے اسے انڈس واٹر ٹریٹی کی خلاف ورزی قرار دیا ۔پاکستان نے غیر جانبدار ماہرین پر مشتمل اقوام متحدہ کی عالمی ثالثی عدالت کی تجویز دی تھی۔(عالمی عدالت انصاف میں دونوں فریق ملکوں کی رضامندی سے ہی معاملہ پیش ہو سکتا ہے)کشن گنگا دریا آزاد کشمیر کے علاقے وادی نیلم کے بالائی علاقے سے آزاد کشمیر داخل ہوتا ہے اور اسی دریا پر پاکستان نہایت تاخیر سے دریائے نیلم پر بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر چین کی مدد سے کام کر رہا ہے اور عالمی ثالثی عدالت کے اس فیصلے سے کثیر مالیت کا یہ منصوبہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔آج واضح طور پہ انڈس واٹر ٹریٹی کا پاکستان کے خلاف ہونا ثابت ہو گیا ہے لیکن پاکستانی حکام اپنی غلطی ،کوتاہی پر مبنی ملک و قوم کے خلاف اس سازش کو چھپانے کے لئے یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ بھارت اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
بھارت کے معروف سیاستدان اور راجیہ سبھا کے رکن مانی شنکرائیارنے کچھ عرصہ قبل پاکستان کے دورے کے موقع پر ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’’نومبر 1978ء میں مجھے کراچی میں بھارتی حکومت نے پہلے قونصل جنرل کے طور پر تعینات کیا۔ایک مرتبہ جی ایم سید نے ملنے کی خواہش ظاہر کی میں نے ملنے کے بجائے اپنے آدمی کو بھیج دیا جس نے جی ایم سید سے ملاقات کی او رہمارے آدمی نے ان سے پوچھا کہ جئے سندھ بنتا ہے تو آپ کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی۔ جس پر جی ایم سید نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی کا پہلا نکتہ یہ ہوگا کہ ہم آتے ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے سندھ طاس معاہدے کو ختم کریں گے جس پر ہمارا نمائندہ کافی پریشان ہوا کیونکہ ہمارے پنجاب کی ہریالی اسی معاہدے کی وجہ سے ہوئی۔ ہمارے نمائندے نے کہا کہ جناب ہمارے لئے تو یہ مشکل ہوجائے گا۔‘‘
پاکستان اور بھارت کے درمیان ’’انڈس واٹر ٹریٹی‘‘ در اصل جواہر لعل نہرو کے ذہن کی پیداوار ہے ۔نہرو نے1951ء میں بجلی پیدا اور سپلائی کرنے والی ایک بڑی امریکی کمپنی ’’ٹینیسی ریور اتھارٹی‘‘ کے ایک سابق چیئر مین ڈیوڈ لینئنتھال( جو اس وقت کے ورلڈ بنک کے صدر ڈیوڈ بلیک کا دوست بھی تھا) کو خصوصی طور پر بھارت بلایا اور اسے بھارت کے حق میں دور رس معاشی ، سیاسی و جغر افیائی اثرات پر مبنی پاکستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے ایک معاہدے کا منصوبہ پیش کیا۔ نہرو کے اس منصوبے میں ریاست کشمیر کی تقسیم کو عالمی سطح پر’ جوں کا توں‘ کی بنیاد پر حل کرنے کا اقدام بھی پوشیدہ تھا جو اب واضح ہو رہا ہے ۔ڈیوڈ لینئنتھال نے واپس امریکہ جانے سے پہلے پاکستان کا دورہ بھی کیا اور امریکہ پہنچ کر ورلڈ بنک کے صدر کو نہرو کے تصورات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے ایک مخصوص معاہدے کا محرک بننے پر رضامند کر لیا ۔
یہ حقیقت اب بے نقاب ہو چکی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے ذریعے مملکت پاکستان کی تباہی و بربادی کی ایک عالمی سازش کی گئی اور اس سازش کو پائیہ تکمیل پہنچانے تک اس کے ثمرات سے پاکستان کو محروم رکھنے کے لئے آزاد کشمیر،گلگت بلتستان اور پاکستان میں معینہ مدت تک ڈیم تعمیر نہ ہونے دیئے گئے۔آٹھ نو سال کے مزاکرات کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر دستخط ہوئے۔اس معاہدے کی رو سے (اس عرصہ میں کی جانے والی توسیع کے بعد )2008ء تک پاکستان کو وقت دیا گیا کہ وہ اپنی ضروریات کے لئے مطلوبہ ڈیم تعمیر کر لے ،اس کے بعد بھارت کشمیر کے ان دریاؤں پر ڈیم بنا سکے گا۔آج کی مہذب دنیا تو کیا انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ کسی قوم ،ملک نے پیسوں کے عوض دریا بیچ دیئے ہوں۔اس معاہدے کے لئے عالمی بنک کی نگرانی میں مئی1952ء سے مزاکرات شروع ہوئے۔پاکستان اور بھارت نے معاہدے کے لئے دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ورلڈ بنک نے اپنی تجاویز بھی دیں لیکن 1958ء تک پاکستان کے رضامند نہ ہونے کی وجہ سے معاہدہ نہ ہو سکا۔ پھر1958ء میں جنرل ایوب کا مارشل لاء لگنے کے بعد1960ء میں پاکستان کی طرف سے ورلڈ بنک کی تجاویز کو ’من و عن‘ قبول کرتے ہوئے یہ معاہدہ طے پا گیا۔مرحوم ذوالفقار علی بھٹو(مرحوم) نے اس معاہدے میں جنرل ایوب کی بھرپور معاونت کی۔
جنگ کے بعد دو ملکوں کے درمیان تمام معاہدے ختم ہو جاتے ہیں ،1965ء کی جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان نیا معاہدہ ہو ا لیکن سندہ طاس معاہدہ برقرار رہا،1971ء کی جنگ اور پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد بھی سندھ طاس معاہدہ کسی بری تقدیر کی طرح قائم و دائم رہا۔بھارت اور پاکستان کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو بھی اس حقیقت کا ادارک کرنا ہو گا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا کوئی بھی حقیقی اور منصفانہ معاہدہ مسئلہ کشمیر کے پرامن ،منصفانہ حل سے ہی منسلک ہے اور ان امور کو الگ الگ ڈیل نہیں کیا جا سکتا۔اس معاہدے کے ذریعے پاکستان کے وسیع تر مفادات اورمسئلہ کشمیر کو کو نظر انداز بلکہ کشمیر پر قبضے کی صورتحال کو ’جوں کا توں‘ رکھتے ہوئے پاکستان کو ’واٹر بم ‘ سے تباہ کرنے کی بنیاد رکھی گئی اور آج ہم اس کی بھیانک صورت کے تباہ کن اثرات کو مستقبل قریب میں محسوس کر سکتے ہیں۔
’ انڈس واٹر ٹریٹی‘ کے ذریعے جہاں پاکستان کے خلاف تباہ کن اور سنگین سازش رچی گئی وہاں اس کے ساتھ ساتھ یہ پاکستان کے ارباب اختیار کی طرف سے بالواسطہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے دستبرداری کا اعلان بھی تھا۔یہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور منشور کی خلاف ورزی بھی ہے کہ ایک ایسی متنازعہ ریاست کے آبی وسائل دو ملک آپس میں بانٹ لیں جس کے مستقبل کا فیصلہ عوامی رائے شماری کے ذریعے ہونا ابھی باقی ہے ۔ دوسری طرف سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے پندرہ سال پہلے تک بھارتی زیر انتظام کشمیر کو سالانہ چھ ارب سے زائد کا نقصان ہو رہا تھا۔کشمیری کشمیر کے دریاؤں سے دونوں ملکوں کو روشن اور سرسبز کرنے کے مخالف نہیں لیکن یہ بڑی زیادتی ہے کہ کشمیر ،کشمیریوں کے دیرینہ،سنگین مسئلے کو لٹکائے رکھتے ہوئے دونوں ملک کشمیر کے وسائل سے مستفید ہوتے رہیں اور مقامی ریاستی حقوق کو بری طرح پامال کیا جاتا رہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق آئندہ پانچ سے دس سال کے دوران بھارت مقبوضہ کشمیر میں اتنے ڈیم تعمیر کر لے گا کہ اسے پاکستان جانے والے دریاؤں پر مکمل کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔یوں زرعی ضروریات کے وقت کشمیر سے آنے والے دریاؤں میں پانی نہیں ہو گا اور بارشوں میں سیلابی کیفیت کا سامنا ہو سکتا ہے۔کشمیر سے متعلق ایک اجلاس میں سندھ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے مسئلہ کشمیر کے موضوع کے حوالے سے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر پنجاب اور صوبہ سرحد میں دلچسپی ہو سکتی ہے لیکن سندھ میں کشمیر کے مسئلے سے دلچسپی کم ہے،سندھ کا مسئلہ پانی ہے۔اس پر میں نے عرض کیا کہ اگر بھارت کشمیر میں درجنوں ڈیم بنا کر دریاؤں پر کنٹرول حاصل کر لے تو سندھ کا پانی بند ہونے پر سندھ سب سے پہلے مسئلہ کشمیر کو اپنا مسئلہ قرار دے گا۔
پاکستان کے خلاف اس سنگین واٹر سیکنڈل میں صرف انڈس واٹر کمیشن ہی نہیں بلکہ ہمارے ملک کے کئی ’’کرتا دھرتا‘‘ بھی شامل ہیں اور اس سیکنڈل میں کہیں بھی ان کا نام نہیں۔ان کے نام سامنے کیسے آ سکتے ہیں،وہاں تو ہمارے’ قانون کے بھی پر جلتے ہیں‘۔کیا پاکستان کی سلامتی اور بقاء سے منسلک اس ’’واٹر سیکنڈل‘‘ کا اس لئے کوئی نوٹس نہیں لیا جائے گا کہ ذمہ دار ہمارے ہی ارباب اختیار ہیں۔اقتدار کی لڑائی تو عدلیاتی موضوع بنتا ہے لیکن پاکستان کے اس ’واٹر سیکنڈل‘ کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا جس سے پاکستان کو بنجر،فاقہ زدہ اور پانی و توانائی سے محروم کیا جا سکتا ہے۔یوں سندھ طاس معاہدہ نہرو کی اس سوچ کا عکاس ثابت ہورہا ہے کہ پاکستان لڑائی کے بغیر ہی بھارت کی گودمیں گر جائےnote

یہ بھی پڑھیں  سنجھورو:سنجھورو تھانہ کی حدود میں راہزنی کی وارداتیں بڑھ گئیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker