تازہ ترینفیصل اظفر علویکالم

المیہ در المیہ

faisalصحرائے تھر پاکستان کے جنوب مشرقی اور بھرت کی شمال مغربی سرحد پر واقع ہے ، صحرائے تھر کا رقبہ 200,000 مربع کلومیٹر یا 77,000 مربع میل ہے، صحرائے تھر کا شمار دنیا کے نویں بڑے صحرا کے طور پر کیا جاتا ہے، تھر کے مکینوں کے بڑے پیشوں میں زراعت اور گلہ بانی سر فہرست ہیں، بد قسمتی سے سندھ میں خاص مقام کا حامل یہ صحرائی خطہ ان دنوں شدید قحط سالی کا شکار ہے، اس سے بھی زیادہ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت نے تھر کی موجودہ قحط سالی سے صرف چند دن قبل ہی سندھ کی ثقافت کو ’’بچانے‘‘ کیلئے ’’سندھ فیسٹول‘‘ کا انعقاد کیا تھا جس میں کروڑوں روپے خرچ کئے گئے اور ’’ثقافت سندھ‘‘ کو ’’بچا لیا‘‘ گیا، سندھ فیسٹول پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کی ایک ’’خصوصی‘‘ کاوش تھی جس کو اگر غور سے دیکھا جائے تو وہ سندھی ثقافت کے بچاؤ کیلئے کم اور مغربی ثقافت کی یلغار کیلئے زیادہ راہ ہموار کر گئی، برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور تقریباََ اپنی پوری عمر اپنے ملک سے باہر گزارنے والے ’’بھٹو جونیئر‘‘ نے سندھ فیسٹول کی کامیابی اور اس کے انعقاد کیلئے ملک سے باہر اور اندر بیٹھ کر ایسی ایسی دلیلیں پیش کیں کہ پاکستانی قوم انگشت بدنداں رہ گئے، سندھ فیسٹول میں ثقافت کو بچانے کیلئے جو پہلا قدم اٹھایا گیا اس میں ہالی ووڈ کی معروف فلمی سیریز ’’سپر مین‘‘ کا لوگو چوری کرکے سندھ فیسٹول کا لوگو بنایا گیا، گویا سندھی ثقافت کو بچانے والوں کو سندھی ثقافت کو پروموٹ کرنے کیلئے کوئی بھی ایسا تخلیقی لوگو نہیں ملا جس میں سندھ کی ثقافت کی جھلک نظر آتی، گویا مغربی لباس پہن کر، پاپ میوزک لگا کر، سندھی ثقافت کا جنازہ نکالا گیا، ثقافت ضرور بچائیں مگر خدارا ثقافت والوں کو تو بچانے کیلئے تدابیر اختیار کریں۔
سندھی ثقافت کو بچانے کے فوری بعد سندھ کی حقیقی ثقافت کے امین تھر کے کئی رہائشی اپنی زندگیوں کو بچانے کیلئے یکے بعد دیگرے بازی ہارتے گئے، ’’جدید سندھی ثقافت‘‘ تو بچ گئی مگر قدیم سندھی ثقافت کے جنازے اٹھنے لگے، ظاہر ہے جدید تعلیم یافتہ لیڈر جو باہر ملکوں میں ساری زندگی پڑھتے رہے ہوں انہوں نے پرانی سندھی ثقافت کو ختم کرکے جدید سندھی ثقافت کو اس کی جگہ لانا تھا، بلاول بھٹو زرداری یا ان کی حکومت کو صوبہ سندھ میں مستقبل قریب یا بعید میں آنے والی آفتوں یا مسائل کا ادراک کرنے کی فرصت ہی نہیں، کیا خوب ہوتا کہ اگر بلاول بھٹو زرداری اور ان کی حکومت سندھ کے موجودہ اور آنے والے مسائل پر سر جوڑ کربیٹھ جاتی اور ماہرین کی مدد سے ان مسائل کو حل کرنے کیلئے دعووں کی بجائے عملی اقدامات کرتی، سندھ فیسٹول کی طرح ’’ہر دلعزیز‘‘ پنجاب حکومت بھی ’’سپورٹس فیسٹول‘‘ کا انعقاد کرکے عالمی ریکارڈ بنانے میں مصروف عمل رہی، پنجاب کی شیر دل حکومت اور سندھ کی غریب نواز حکومت اگر دونوں مل کر ان فیسٹیولز پر خرچ کی جانے والی خطیر رقم اپنے اپنے صوبوں کی عوام کی فلاح و بہبود کیلئے خرچ کرتی تو اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہونے تھے، سندھ فیسٹول اور سپورٹس فیسٹول کا انعقاد مکمل طور پر غلط نہیں لیکن ان فیسٹیولز کا انعقاد اگر اس وقت کیا جاتا جب دوسرے مسائل کے خاتمے کیلئے کوئی کوشش کی جاتی اور اس کے نتائج سامنے آنے لگتے تو ان فیسٹولز کے انعقاد پر عوام کو دلی خوشی محسوس ہوتی، فی الوقت پورے پاکستان کی عوام کو در پیش مسائل کا خاتمہ کرنا ہی تمام حکومتوں کا اولین فریضہ ہے جن میں بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی اور جرائم کی شرح سر فہرست ہے۔
سیاسی مصلحتوں اور سیاسی ریشہ دوانیوں نے جس قدر نقصان ملک و قوم کو پہنچایا ہے ہم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے، پاکستان کے تمام موجودہ سیاستدانوں بشمول شیر، تیر اور بلّے کے کسی سے بھی عوامی فلاح و بہبود کی کوئی بعید نہیں، ان سیاسی جماعتوں سے بہتر بحریہ ٹاؤن کے چیف ایگزیکٹو ملک ریاض ہیں جنہوں نے تھر کے قحط زدہ لوگوں کے کیلئے 20 کروڑ روپے کی امدا روانہ کرکے اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھا، جبکہ پاکستانی حکومتیں دعووں م وعدوں، وعیدوں پر عوام کو ٹرخا رہی ہے، پاکستان کے نام نہاد شرعی ٹھیکیداروں کو شریعت کا یہ حکم اس وقت نظر نہیں آ رہا کہ وہ بھوک اور افلاس میں جکڑے ہوئے قحط زدہ لوگوں کی مدد کو آگے بڑھیں، شریعت کا نفاذ حکومت حاصل کر لینے سے نہیں بلکہ خود کو تبدیل کرنے اور اچھائی پھیلانے سے شروع ہوتا ہے، اس وقت شریعت کے نفاذ کی رٹ اقتدار کے حصول کے سوا کچھ بھی نہیں، یہ وہی ملک ہے جہاں منصف اعلیٰ ایک شخصیت کو سزا دینے کیلئے قانونی کتابوں کی ورق گردانی میں مصروف اور جس ملک کے لیڈر سپورٹس فیسٹول، سندھ فیسٹول اور نوجوانوں کو قرضے میں ڈبونے کیلئے تندہی سے مصروف عمل ہیں اور عوام کا تو خدا ہی حافظ ہے جو اپنی سابقہ روش پر چلتے ہوئے محو تماشہ ہے، ہر فرد خود غرضی کے لبادے میں یہ سوچ رہا ہے کہ یہ میرا فرض نہیں، خدا کی لاٹھی بے آواز ہے یہ بھی ہو سکتا ہے تھر سے شروع ہونے والا یہ قحط پورے پاکستان میں پھیل جائے مگر تمام ہی صورتوں میں ہم ایک دوسرے کو قصور وار ٹہراتے رہیں گے، جیسی عوام ویسے حکمران، ملک میں چاروں طرف مسائل کے انبار ہی انبار ہیں، بیرونی قوتیں، بھارت کا پاکستان کے پانی پر قبضہ، ملک میں دہشت گردی کی لہر، بڑھتی ہوئی مہنگائی، شریعت کے نفاذ کی رٹ، سیاسی مصلحتیں، خود غرضی، خود فریبی، دھوکہ دہی ہمیں بالکل کانہ جنگی کے دروازے پر لے آئی ہے، آج تھر کے مکینوں کی باری ہے تو کل پورے پاکستان کی باری ہے، جس طرح ہم تھر کی ’’ثقافتی اموات‘‘ کے ذمہ دار ہیں اسی طرح آنے والی آفتوں کے ذمہ دار بھی ہم خود ہی ہوں گے، قیام پاکستان کے بعد سے لیکر اب تک جس طرح ہم ایک قوم سے ایک ہجوم میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں یہ المیہ در المیہ خود پیدا کرنے والی بات ہے، ہم ایک کرکٹ میچ پر اگر اکٹھے ہو سکتے ہیں تو ملک و قوم کے مسائل کے حل کیلئے کیوں اکٹھے نہیں ہو سکتے، شاید ہم اس انتظار میں ہیں کہ شاید کوئی ’’معجزہ‘‘ ہو جائے۔۔

یہ بھی پڑھیں  تحفظ حقوق نسواں بل خاندانی نظام توڑنے کے خلاف سازش ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker