تازہ ترینکالممیرافسر امان

الپیال منج راجپوت

جماعت اسلامی اسلام آباد کے شعبہ علم و ادب کلم کاروان کا علمی وادبی پروگرام ہر ہفتہ بروز منگل بعد نماز مغرب مکان نمبر 1: گلی نمبر38 سیکٹر جی نائین 2متصل ملیوڈی فوڈ پارک کئی سالوں سے جاری و ساری ہے۔اس کے روئے رواں پروفیسر ڈاکٹر ساجد خان خاکوانی ہیں۔ سیکرٹیری کے فرائض راقم کو ادا کرنے پڑتے ہیں۔اس علمی وادبی پروگرام میں اہل علم کی آمد ہوتی رہتی ہے۔کچھ ہفتے پہلے پروفیسر تنویر اختر الپیال اور ان کے ساتھ ناصرخان الپیال اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے۔نیایت مہربانی سے انہوں نے اپنے تازہ کتاب”الپیال منج راجپوت“ دوسرے رفقاء کے ساتھ راقم کو بھی پیش کی۔ آج ہم نے حسب عادت اس کتاب کی ابلاغ کے لیے تبصرہ تحریر کیا ہے۔ یہ تبصرہ قارئین کے مطالعہ کے لیے اخبارات و ای میل کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی سورۃ الجرات آیت13)) میں فرماتا ہے۔”لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمھاری قومیں اور برادریاں بنا دیں، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہنچانو۔ درحقیقت اللہ کے نذیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سے سے زیادہ پر ہیزگار ہے۔ یقینا اللہ سب کچھ ھ جاننے والا اور باخبر ہے“۔حدیث میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے۔”اللہ قیامت کے روزحسب نسب نہیں پوچھے گا۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پر ہیز گار ہے(ابن جریر)۔
کسی بھی کتاب پر تبصرہ کرتے وقت قرآن شریف کی ان ہی تعلیمات اور حدیث کی تشریع کو سامنے رکھ کر مطالعہ اور تبصرہ کرنا چاہیے۔ اگر مصنف کی طرف سے سے کچھ کمی پیشہ ہے تو اس پر متوجہ کرنا چاہیے۔ کتاب ”الپیال منج راجپوت“ کو ہم نے اسی فارمولے کو سامنے رکھتے ہوئے بغور مطالعہ کیا اور قارئین کے خدمت میں تبصرہ پیش کر رہے ہیں۔یہ کتاب پروفیسر تنویر اختر الپیال اور ناصر خان الپیال کی مشترکہ کاوش ہے۔اس کتاب کے مصنف پروفیسر تنویر الپیال نے فلپائن سے مقامی حکومتوں میں عوامی شمولیت میں ماسٹرر کیا۔معلم اور تربیت کار ہیں۔تنویراختر الپیال منج ہسٹری کونسل کے چیئرمین ہیں۔تاریخ،سیاست، دعوت دین، ریاست اسلامی کی تشکیل میں خصوصی دلچسپی کے ساتھ،مستقبل قریب میں وادی سواں پتھر کی تہذیب پر کام کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس کتاب کے شریک مصنف ناصر خان الپیال نے پنجاب یونیورسٹی سے ہسٹری میں ماسٹر کیا۔ناصر خان الپیال منج ہسٹری کونسل کے وائس چیئر مین ہیں۔ مستقبل قریب میں وادی سواں کی دیگر اقوام پر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ کتاب رائے جلال خان باباپیر الپاء کے ارد گرد گھومتی ہے۔کتاب کا آغاز ہند، راجپوتانہ اور پنجاب سے ہوتا ہے۔ باب دوم میں رائے جلال خان کے خاندانی پس پر گفتگو کی گئی ہے۔ باب سوم میں رائے جلال خان کی شخصیت بات ہوئی ہے۔باب چہارم میں رائے جلال خان کی مغلوں کی مخالفت کا ذکر ہے۔ باب پنجم میں رائے جلال خان کی وادی سواں آمد پر رشنی ڈالی گئی ہے۔باب ششم میں رائے جلال خان کے عدم تشد د کی تفصیل ہے۔باب ہفتم میں رائے جلال خان کی اولاد کی وادی سواں میں آبادکاری کو لیا گیا ہے۔
باب اول میں لکھتے ہیں کہ زمانہ قبل از تاریخ ہی سے ہندوستان کی شمال مشرق اور شمال مغرب سرحدیں پار کر کے مختلف قوموں اور نسلوں کے لوگ یہاں آکرر ہتے رہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق وسط ایشیا اور مغربی ایشیا کے علاقوں سے تھا۔ ان کے میل جول سے دراوڑی نسل وجود میں آئی۔اس کے بعد آریا،یونانی،ایرانی، عرب، ازبک، ترک، اور منگول آئے۔لکھتے ہیں کہ دنیا کہ پہلی مذہبی کتاب”رگ وید“ہے جس میں آریاؤں اور داسیوں کی جنگوں اور دیوتاؤ کی تعریف ہے۔اس باب میں سری کرشن سے لے کرمغل بادشاہ محی الدین ارونگ زیب عالمگیر کی تاریخ پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔باب دوم میں رائے جلال خان کے آ باؤ اجدان کی تفصیل ہے۔مختلف راجوں کا ذکر کرتے ہوئے آخر میں کہتے ہیں کہ اصل راجہ منج تھا جو منج راجپوتوں کا مورث اعلیٰ ہے۔راجہ منج کی پانچویں پشت میں راجہ تلسی رام پیدا ہوئے۔راجہ تلسی رام نے جلال الدین جہانیاں جہاں گشت اوچ شریف کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔ ان کا اسلامی نام سراج الدین المعروف شیخ چاچا رکھا گیا۔ان کی ساتویں پشت سے رائے جلال خان، رائے کلہ اوّل حاکم ریاست ہٹھور،تلونڈی رائے بمقام چکرا گاؤں کے گھر 1480ء میں پیدا ہوئے۔ رائے جلال خان ایک نڈر، جری، دلیر،رستباز، شجاعت،شرافت اور فیاضی کے ساتھ ماہر شمشیر گھوڑ سواری، ریاست نیتی کے ماہر تھا۔ مغل بادشاہ اکبر سے اختلافات کی وجہ سے ہتھوڑ کے گاؤں موضع چکر کوچھوڑ کر اوچ شریف لے گئے۔سجادہ نشین علیم الدین بخاری نے انہیں ترکی زبان کے لفظ الپاء(اعلیٰ)

سے نوازہ۔ بعد میں خطہ پٹھوار کے علاقے وادی سواں آباد ہو گئے۔
ماہرین آثارقدیمہ نے تاریخی دریائے سواں کے آس پاس کے علاقوں کی کھدائی کر کے جو آثار دریافت ہیں وہ دنیا کی قدیم ترین آثار قدیمہ میں شمار ہوتے ہیں۔لکھتے ہیں کہ ان کااندازہ 33 لاکھ پرانا لگایا گیا ہے۔ اس کو پتھر کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ لکھتے ہیں رائے جلال خان تلونڈی رائے سے سینکڑوں کلو میٹر کا طویل سفے طے کر کے عالم بے سروسامانی میں علاقہ سواں پہنچے یہاں قابض ایم مضبوط قبیلے کو اپنی بہاری طاقت اور فراست کے بل بوتے پر نکال کر علاقہ سواں اپنی دسترس میں کیا جہاں آج قریب پانچ سو سال گزرنے کے باوجود ان کی اولاد شان شوکت سے آباد ہے۔
2019ء میں نعمان ارشد ”الپیال نے منج راجپوت الپیال قبیلہ“ کے نام ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا۔پہلی سالانہ پیر الپاء کانفرنس2019ء منعقد ہوئی۔اس دفتر جدہ ٹاور سکیم تھری راولپنڈی میں قائم ہے۔منج راجپوت الپیال قبیلہ کے مرکزی دفتر واقع مزار مبارک رائے جلال خان کی بنیاد اپریل2021ء میں رکھی گئی۔الپیال ویلفیئر ٹرسٹ 2012ء میں قائم ہوا۔یہ ٹرسٹ نو سال سے عوام کی خدمت کر رہا ہے۔کتاب کے آخر میں حضرت آدم ؑسے لے کر موجودہ دور تک، شجرہ نسب الپیال منج راجپوت و رائے جلال خان المعروف با با پیر الپاء منسلک کیا گیا ہے۔رائے جلال خان کی ککھڑوں سے شورش کا تین صدی پرانی تحریر کا عکس، راجپوتوں کے قلعوں کی تصاویر، رائے جلال خان بابا پیر الپاء کے مزار کی تصویر،فاطمہ الزہرہ ہسپتال الپیال ولفیئر ٹرسٹ،منفرد الپیال راجپوت بزرگوں کی تصاویر، ٹرسٹ کے عہدہ داروں اور قبیلہ کے مختلف حضرات کی تصاویر اور آخر میں وادی سواں کے دلکش مناظر کی تصاویر اورکتابیات کی فہرست دی گئی ہے۔ کتاب معلومات کا خزانہ ہے۔ کتاب کے مصنفین پروفیسر تنویر اختر الپیال اور ناصر خان الپیال مبارک باد کے مستحق ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button