پاکستانتازہ ترین

کارکنان رائے دیں کہ کیا قیادت اور سیاست چھوڑ دوں؟ الطاف حسین

altafلندن(ڈیسک رپورٹر)  متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطا ف حسین نے کہاہے کہ توہین عدالت کے نوٹس سے متعلق اپنے قانونی ماہرین سے مشورہ کررہا ہوں تاہم میں اپنی ذات کے حوالے سے کسی بات سے آج تک خوفزدہ نہیں ہوا، میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے غیض و غضب سے ڈرتا ہوں اس کے علاوہ کسی بھی زمینی طاقت رکھنے والے سے نہیں ڈرتا، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ میرے ڈٹ جانے سے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں تو کارکنان رائے دیں کہ کیا قیادت اور سیاست چھوڑ دوں؟۔ یہ بات انہوں نے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی لندن اور پاکستان، تنظیمی شعبہ جات اور آئینی و قانونی ماہرین سے گفتگوکرتے ہوئے کہی۔ الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ہمدردوں نے میرے خلاف توہین عدالت کے نوٹس پر مجھ سے جس طرح اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کیا اور پرامن مظاہروں اور احتجاج کے ذریعے جس طرح اپنے جذبات کا اظہار کیا اس پر میں کارکنوں اور عوام کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں اور انہیں دل کی گہرائیوں سے زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ الطا ف حسین نے کہاکہ مجھے اپنے کارکنوں اور عوام پر ناز ہے، جنہوں نے ہرکڑے وقت میں ہمت و حوصلے کا مظاہرہ کیا اور اپنے الطاف بھائی کاڈٹ کر ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے کارکنوں، ماوٴں، بہنوں، بزرگوں اور بچوں کے جذبات کا بخوبی اندازہ ہے میں اللہ تعالیٰ کے انصاف پر یقین رکھتے ہوئے آج بھی کڑی آزمائشوں اور کٹھن صورتحال میں ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کررہا ہوں اس پر اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس طرح میرے ڈٹ جانے سے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں تو میں ایم کیو ایم کے کارکنان، ووٹروں، ہمدردوں اور چاہنے والوں سے یہ اپیل کرتاہوں کہ وہ اس سلسلے میں مجھے رائے دیں کہ کیا مجھے تحریک کی قیادت اور سیاست چھوڑ دینی چاہیے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکنان، ووٹرز اور ہمدرد عوام کی رائے اور مشوروں کو رابطہ کمیٹی کے سامنے رکھ کر اور ان کی روشنی میں اپنے مستقبل کا صحیح فیصلہ کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں  راحت فتح علی خان کا جدید ترین میوزک اکیڈمی قائم کرنے کا فیصلہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker