تازہ ترینکالم

امن کیلئے سیاسی اختلافات ختم کرنا پڑینگے

ghulam murtazaبتایا جارہاہے کہ دہشت گردی کی بحث میں زیادہ جگہ نعروں اور الزامات نے لے لی ہے۔ اسی لئے امن کے حامی اس ایک گروہ کے مقابلے میں دوسرا گروہ بھی اتنی ہی قوت اور شدت سے مذاکرات کی تجویز کو مسترد کر رہا ہے۔ اس گروہ کا کہنا ہے کہ جو لوگ مسلسل دہشت گردی میں ملوث ہیں اور کسی طرح پاکستان کے آئین اور اس کی حکومت کی اتھارٹی کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور مذاکرات کی پیشکش کے باوجود اسے مسترد کر رہے ہیں۔ ان عناصر سے کیوں کر بات چیت کی جا سکتی ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ نظریاتی شدت پسند محض طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور حکومت کو ان کا سر کچلنے کے لئے اپنی پوری قوت استعمال کرنا چاہئے۔اس ساری بحث کے دوران طالبان کی طرف سے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔ مذکورہ بالا دو حملوں کے بارے میں پاکستان کے سیاست دانوں اور مبصرین نے تو وضاحتیں کرنے کی کوشش کی ہے لیکن طالبان کی طرف سے ایسی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ نہ ہی ان کے کسی ترجمان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ بلکہ طالبان اس قسم کے ہر رابطہ کی تردید کرتے رہے ہیں۔حکومت کی طرف سے بھی مذاکرات کی پیشکش اور اس کے بعد طالبان کی خوں ریزی کے حوالے سے کوئی دو ٹوک بات سامنے نہیں آئی۔ اب سرکاری ترجمان یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف جب اگلے ہفتے اقوام متحدہ کے دورے سے واپس آئیں گے تب ہی اس سلسلہ میں پیش رفت ہو سکے گی۔
بعض عناصر اس حوالے سے یہ دور کی کوڑی بھی لاتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ خفیہ طور پر امن مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ مذاکراتی ٹیموں کے ناموں کا اعلان اس لئے نہیں کیا جا رہا کیونکہ اس صورت میں مذاکرات مخالف قوتیں ان لوگوں کو ٹارگٹ کر کے مار دیں گی اور امن قائم کرنے کا خواب پورا نہیں ہو سکے گا۔ اس رائے کا اظہار کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عام طور سے اس قسم کے مذاکرات خفیہ رکھے جاتے ہیں۔ اس طرح بات چیت بامقصد ثابت ہوتی ہے۔اس قسم کی تھیوری کو مان لینے کی کوئی خاص وجوہات بہرحال موجود نہیں ہیں۔ اس میں سب سے پہلے تو یہی بات قابل غور ہے کہ اگر طالبان کے اندر ہی بعض گروہ اس قدر طاقتور ہیں جو مذاکرات کے خلاف ہیں اور انہیں ناکام بنانے کے لئے دہشت گرد حملے بھی کر رہے ہیں اور مذاکرات کاروں کو مار بھی سکتے ہیں تو پھر ایسے مذاکرات کا کیا فائدہ ہو گا؟ جب طالبان کی قیادت اپنے ہی گروہوں پر کنٹرول نہیں کر سکتی تو وہ امن کی ضمانت کیوں کر دے گی اور اگر باغی گروہ اس قدر طاقتور ہیں کہ طالبان قیادت کی خواہش کے باوجود حملے کر رہے ہیں تو امن کس کے ساتھ کیا جائے گا۔
عالمی میڈیا پر یہ معاملہ زیر بحث ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی روک تھام کے حوالے سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن یہ اتفاق رائے بس یہیں ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اختلافات کا جو سلسلہ شروع ہوتا ہے اس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ ملک میں انتہا پسندی کے خاتمہ اور امن بحال کرنے کے حوالے سے یہی رویہ اہل پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔کہا جاتا ہے کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ لیکن یہ فقرہ تعمیری اختلاف اور بامقصد طریقے سے کسی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے دوسری رائے کے اظہار کے بارے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بدنصیبی سے پاکستان کی نوآموز جمہوریت میں اس حق اختلاف کو دل کھول کر مخالفین پر کیچڑ اچھالنے اور دشنام طرازی کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کھیل میں صرف دنیا دار سیاست دان ہی ملوث نہیں ہیں وہ ’’ صاحبان عمل ‘‘ سیاست دان بھی اس قسم کی بیان بازی میں پیش پیش ہوتے ہیں جو خود اپنے بقول صرف اسلام کے اعلیٰ اصولوں کو نافذ کروانے کے لئے سیاست کر رہے ہیں۔ اس دہنگا مشتی کا بہت واضح مظاہرہ آج کل دہشت گردی کے حوالے سے ہونے والی بحث کے دوران دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دو ہفتے قبل حکومت پاکستان نے ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی تھی۔ ایک دن کے بھی قلیل حصے پر مشتمل اس اے پی سی میں ملک بھر کے سیاست دانوں نے ایک قرارداد منظور کی اور حکومت وقت کو ان گروہوں سے مذاکرات کا اختیار دے دیا جو اس وقت پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں۔ بظاہر تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے اس پیشکش کا خیر مقدم کیا گیا اور محسوس ہوا کہ شاید مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے مناسب ہوم ورک کے بعد اے پی سی کا انعقاد کیا تھا۔ اب انتہا پسندوں سے باقاعدہ بات چیت کا آغاز ہو جائے گا اور اس طرح پاکستان کے 18 کروڑ باشندوں کو امن و سکون کا سانس لینا نصیب ہو گا۔تاہم یہ امید زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی۔ چند ہی دنوں میں اپر دیر میں ایک فوجی ٹرانسپورٹ پر حملہ کیا گیا جس میں دیگر فوجی افسروں کے علاوہ میجر جنرل ثناء اللہ بھی شہید ہو گئے۔ اس پر مستزاد یہ کہ طالبان نے فوری طور پر اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اعلان کیا کہ افواج پاکستان سے ان کی جنگ جاری رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ مطالبات بھی سامنے آئے کہ فوج کو تمام قبائلی علاقوں سے واپس بلایا جائے اور طالبان و دیگر انتہا پسند تنظیموں کے 5 ہزار کے لگ بھگ دہشت گردوں کو پاکستانی جیلوں سے رہا کیا جائے۔ طالبان نے مذاکرات کے حوالے سے غیر سنجیدہ رویہ واضح کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ جنگ پاک فوج نے شروع کی ہے۔ وہی اسے بند کرے۔ پھر مذاکرات کی بات ہو گی۔اس قسم کی صورتحال میں عام طور سے فریقین جب مذاکرات پر متفق ہوتے ہیں تو بات چیت کے ذریعے سیز فائر اور پھر قیدیوں کی رہائی کی بات سامنے آتی ہے۔ یعنی دہشت گردی میں ملوث گروہ پہلے حکومت کو یہ یقین دہانی کرواتے ہیں کہ وہ معاملات کو ملک کے آئین و قانون کے تحت حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پھر فوجی کارروائی بند کرنے اور صورتحال کو نارملائز کرنے کے لئے دیگر اقدامات پر اتفاق رائے ہوتا ہے۔ابھی ملک میں اسی بات پر کھینچا تانی ہو رہی تھی کہ ایک فوجی جرنیل کو شہید کرنے اور جنگ جاری رکھنے کا اعلان کرنے والے گروہوں کے ساتھ کیوں کر امن کی بات کی جا سکتی ہے اور حکومت اس پر کیا ردعمل ظاہر کرے گی اور کون سے حکمت عملی اختیار کرے گی ۔مبصر اور صحافی اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس قسم کے خونی حملے کے بعد حکومت اور اہل پاکستان شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کیا رویہ اختیار کریں گے۔ اس دوران طالبان نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول بھی کر لی ہے۔ تاہم پاکستانی سیاست اور صحافت میں طالبان کے بعض ترجمان اور ہمدرد اسے غلط قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ حملہ طالبان نے نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بلکہ یہ حملہ ان طاقتوں نے کروایا ہے جو امن مذاکرات کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔اس طرز دلیل میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ طالبان درحقیقت درجنوں مختلف گروہوں کا مجموعہ ہیں اور ان میں سے بعض گروہ مذاکرات کے لئے آمادہ نہیں ہے۔ اس لئے اگرچہ اپر دیر اور پشاور کے واقعات میں طالبان ملوث نہیں لیکن بعض عناصر نے ان کی طرف سے یہ اعلان کروا دیا ہے کہ یہ حملے انہوں نے کروائے ہیں۔
مبصرین کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں یہ بات زیادہ قرین قیاس لگتی ہے کہ طالبان حکومت کی بے یقینی اور پاکستانی رائے عامہ میں شدید اختلاف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلسل اپنی قوت میں اضافہ کر رہے ہیں اور مختلف حملوں کے ذریعے اپنی اس قوت کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ کوئی دہشت گرد گروہ اس وقت تک سیاسی مفاہمت پر راضی نہیں ہوتا جب تک وہ مدمقابل حکومت کو باہمت اور طاقتور محسوس نہیں کرتا۔ طالبان کو ابھی یہ اندازہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اور لوگ کمزور اور پریشان ہیں۔یہی کمزوری درحقیقت شدت پسندوں کی طاقت ہے۔ اہل پاکستان کو اگر ان عناصر کا مقابلہ کرنا ہے اور بزور شمشیر یا بذریعہ مذاکرات انہیں عقل کے ناخن لینے پر مجبور کرنا ہے تو سب سے پہلے خود اپنے اختلافات ختم کر کے کسی ایک پوائنٹ ایجنڈے پر متفق ہونا پڑے گا۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button