تازہ ترینفن فنکار

آج استاد امانت علی خان کی برسی منائی جا رہی ہے

آج پاکستان کے نامور موسیقار اور گلوکار استاد امانت علی خان کی اکتالیسویں برسی ہے۔ استاد امانت علی خان کا تعلق برصغیر کے مشہور موسیقی دان گھرانے پٹیالہ گھرانے سے تھا۔ وہ جرنیل علی بخش کے پوتے اور استاد اختر حسین خان کے فرزند تھے وہ 1928ءکے لگ بھگ پیدا ہوئے تھے اور 1948ء میں پاکستان آگئے تھے۔ استاد امانت علی خان‘ بالعموم اپنے چھوٹے بھائی استاد فتح علی خان کے ہمراہ سنگت کرتے تھے وہ کلاسیکی اور ہلکی پھلکی موسیقی دونوں میں یک ساں مہارت رکھتے تھے۔ استاد امانت علی خان کی آواز میں ملائمت تھی جسے فتح علی خان اپنی مرکیوں، تان پلٹوں اور پیوندوں سے سجاتے چلے جاتے تھے اور سننے والوں پر سحر طاری کردیتے تھے۔ عموماً کلاسیکی راگ گانے والوں کو غزل اور گیت گانے میں دشواری پیش آتی ہے مگر استاد امانت علی خان اس میں استثنیٰ رکھتے تھے۔وہ جب غزل یا گیت گاتے تھے تو ان کے کمالات مزید کھل کر سامنے آتے تھے۔آتش کی غزل ”یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے“ ظہیر کاشمیری کی غزل ”موسم بدلا رت گد رائی اہل جنوں بے باک ہوئے“ سیف الدین سیف کی غزل ”مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے“ ادا جعفری کی غزل ”ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے“ ابن انشا کی غزل ”انشا جی اٹھو اب کوچ کرو“ اور ساقی جاوید کا ملی نغمہ ”چاند میری زمیں پھول میرا وطن“ ان کے چند ایسے ہی گائے ہوئے فن پارے ہیں جو ان کی یاد ہمیشہ تازہ رکھیں گے۔ استاد امانت علی خان 18 ستمبر 1974ءکو لاہورمیں وفات پاگئے جہاں وہ مومن پورہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  فوج کرپٹ سیاستدانوں کیخلاف بھی سخت آپریشن کرے ،انسٹیٹیوٹ آف نیشنل افیئرز

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker