تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

امیر علی غریب کیسے بنا

زندگی کی شارع پر بھٹکتے ہوئے انسانوں کے ساتھ بے شمار کئی قسم کے حالات و واقعات پیش آتے رہتے ہیں ۔کئی اتفاقاََ مشاہدات بھی سامنے آجاتے ہیں ۔جن کو دیکھ کر ایک اہلِ قلب مضطرب ہو جاتا ہے ۔اور اس وقت تک اسے سکون نہیں ملتا جب تک وہ اس کسی صورت میں دوسروں کے سامنے نہ رکھ دے۔ایک وقت تھا جب ایک انسان کے اندر دوسروں کے لیے خلوص پیار محبت اور ایثار کے جذبات ہر وقت موجزن رہتے تھے۔اور آج وہ وقت ہے ایک خون ایک ماں کی کوکھ سے جنم لیے بھائی بھائی کی طرف کم اور اپنی حوس کی طرف زیادہ دیکھتا ہے ۔ایک ہی والدین کی اولاد میں کوئی شاہانہ زندگی گزار رہا ہوتا ہے تو دوسرا پیٹ کی آگ بجانے کے لیے دن رات اپنا خون پسینہ ایک کرتا ہے ایک کے آگے نوکروں کی لائن ہے تو دوسرا خود کسی کا نوکر ہے ۔آخر کیا وجہ ہے کہ خون نے بھی گرگٹ کی رنگ بدل لیا اور ایسا ہی ایک میری
بصارت سے بھی ٹکرایاہے ۔اپنے قارئین کے لیے لکھ رہا ہوں جس کا مقصد صرف کہانی بیان کرنا نہیں بلکہ اگر کوئی ایسا کر رہا ہے تو شاید سمجھ ہی آ جائے اور ہمارے دلوں میں بھی زمانہ قدیم کا رنگ پھر سے بھر جائے
چھوٹے بھائی کی شادی تھی اور مکان کا پہلا رنگ و روغن موجودہ دلوں کی طرح دیواروں سے غائب ہو رہا تھا بلکہ کسی حد تک ہو چکا تھا ۔اس کام کے لیے ایک رنگ ساز کی ضرورت تھی ۔جو میرے گاوں میں دستیاب نہیں تھا اس لیے شہر کا رخ کیا ۔اپنے قریبی شہر کی ایک سڑک کنارے ایک آدمی کچھ برش اور رنگ والی بالٹی لیے بیٹھا تھا ۔میں اس کے پاس گیا اور اس کو مخاطب کیا ۔جب اس نے اپنا چہرہ میری طرف کیا تو مجھے وہ کچھ جانا پہچانا سا لگامگر یاد نہیں آرہا تھا کہ میں نے اس ادمی کو کہاں دیکھا ۔میں ابھی اسی کشمکش میں تھا کہ اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ،،ہاں بھائی کیا کام ہے ،، میں نے کہا کام وہی ہے جو تم کرتے ہو یعنی مکان کو رنگ کروانا ہے ۔اس نے مجھے مکان کا حدوداربعہ پوچھا پھر اپنی مزدوری بتائی بہر کیف مک مکا کرنے کے بعد اس نے مجھے کہا کہ کام کب شروع کرنا ہے ۔ میں نے کہا کہ کل سے آ جاو اس نے میرا ادریس پوچھا اور اگلے دن آنے کا واعدہ کیا ۔ میں وہاں سے تو چل دیا مگر ذہن کے کسی گوشے سے ایک آوازہ اُٹھ رہا تھا کہ ،، تو نے اس آدمی کو کہیں دیکھا ہے ،،مگر ذہن میں آ نہیں رہا تھا ایک دو اور کام تھے میں ان سے فارغ ہو کر آ گیا ۔
اگلے دن وہ آدمی اپنے مخصوص لباس اور اوزاروں کے ساتھ آ گیا ۔اور اپنا کام شروع کر دیا میں اسے بتا رہا تھا کہ کہاں اور کون سا کیسا کام کرنا ہے ۔اس کی آواز اور لب و لہجہ سے میرے یقین کو اور زیادہ تقویت ملی کہ ضرور اس آدمی سے پہلے کہیں ملاقات ہو چکی ہے ۔آخر کار مجبور ہو کر میں نے اس سے پو چھ ہی لیا کہ بھائی مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ ہم پہلے بھی کہیں مل چکے ہیں ۔تو وہ کہنے لگا کہ آپ پروفیسر ظہیر صاحب کو جانتے ہیں میں اس کا چھوٹا بھائی ہوں میرے منہ سے بے ساختہ ،،امیر علی،،تو وہ میری طرف دیکھنے لگا ۔اور میرے نام سے مجھے پکارا اور اپنے کام والی سیڑھی سے نیچے اتر آیا اور کہنے لگا ۔یہ اوپر والے کا کمال ہے کرامت بھائی اور اس کے ساتھ ہی اس کی انکھوں میں اشکوں کی جھلملاتی ہوئی ایک لڑی کو میں نے محسوس کر لیا ۔
میں نے کہا امیر علی تم وہ ہی امیر ہو جس کو سکول میں ہم امیر امیر یعنی نام بھی امیر اور ہے بھی امیر اس لیے دو بار امیر امیر کر کے پکارتے تھے یہ 1994 کی بات ہے امیر علی ایک امیر گھرانے کا چشم و چراغ تھا ۔مگر تعلیمی لحاظ سے انتہائی نالائق تھا تین بھائی تھے زمین بھی تھی باپ بھی کسی محکمہ میں افیسر تھا ۔اس کا بڑا بھائی ظہیر کافی ذہین تھا اور ہم سے تین درجے آگے تھا ۔چھاٹا بھائی کبیر ہم سے ایک کلاس پیچھے تھا اور وہ بھی اچھا سٹوڈنٹ تھا بیچ میں یہ امیر ہی تھا جو کند ذہن تھا ۔کوشش کرتا تھا پڑھنے کی مگر ہر بار ناکامی اس کا سبب بن جاتی ۔میٹرک سے فیل ہوگیا ۔سکول چھوڑنے کے بعد ظاہر ہے کم ہی ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی ہے ۔اب جو اس کی اپنی زبانی ہے وہ کچھ اسطرح ہے کہ۔
ظہیر نے اپنی تعلیم مکمل کی اور اچھی خاصی کی ابا جی نے اسے ٹیچر بھرتی کروا دیا ۔اس نے پھر بھی اپنی تعلیم جاری رکھی اور ترقی کرتا کرتا آ ج وہ پروفیسر بن گیا ۔میرے نصیب میں نہیں تھا اور میں کچھ نہ کر سکا ۔ ابا جی کے وہ الفا�آج بھی مجھے یاد ہیں جب وہ مجھے کہا کرتے تھے کہ ،،امیرو تو کچھ کر لے تیرے بھائیوں نے تیرا ساتھ نہیں دینا اپنا کچھ بنا لے ،،مگر میں سوچتا کہ جو بھائی آج مجھے سب کچھ دے رہے ہیں میرا اتنا خیال رکھتے ہیں اور ہم ایک باپ کی اولاد ہیں ۔کیا یہ مجھے چھوڑ دیں گے ایسا ہو نہیں سکتا ۔مگر کیا پتہ کہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی ۔ جب بھائی کی شادی ہوئی تو دن بدن اس میں تبدیلی آنی شروع ہو گئی ۔چھوٹا کبیر بھی زیادہ تو نہیں پڑھ سکا مگر پھر بھی کافی حد تک کامیاب ہو گیا اور ایک سرکاری محکمہ میں بھرتی ہو گیا ۔والد صاحب کی وفات میری شادی کے ایک سال بعد ہو گئی۔اور محترم ظہیر صاحب اس حد تک خود غرض ہو گے کہ کبھی پوچھا تک نہیں کہ کوئی زندہ ہے یا مر گیا ۔وہ تھا اس کی بیوی اور دو بچے اور بہت زیادہ دولت ۔یہ ہی اس کا دین ایمان رہ گیا تھا ۔اثر و رسوخ اس کا بہت زیادہ ہو گیا تھا ۔چاہتا تو میرے لیے کچھ کر سکتا تھا ۔مگر اس کی بے اتنائی اور خو د غرضی نے اسے ہمارے بارے سوچنے کا موقع ہی شاید نہیں دیا۔پوری طرح قصور وار بھائی بھی نہیں تھا اس کی بیوی جوایک امیر کبیر گھرانے سے آئی تھی وہ ہم کو نا پسند کرتی تھی ۔ہم اس کے نذدیک شاید کیڑے مکوڑے تھے ۔ان کی نظر میں صرف امیر زادوں کی ہی قدر و منزلت تھی ۔پھر کیا ہوا کہ کچھ بزرگوں کی محبت اور کچھ ظہیر کے اپنے اثررورسوخ کی بدولت تمام دولت اس نے اپنے نام کروالی چھوٹا کبیر اپنی نوکری پر اپنی گزر بسر اچھی خاصی کر رہا تھا اسے روز گار کی کوئی پریشانی نہیں تھی ۔میں پڑھ بھی نہ سکا اور بچپن سے جسم محنت مزدوری کا عادی بھی نہیں تھا ۔شادی کے بعد جب ضروریاتِ زندگی کا منہ اونچا ہونے لگا تو میری پریشانیاں بھی ساتھ ہی بڑھنی شروع ہوگئی جب بھائی کے دروازے پر دستک دی کہ بھائی میں بہت پریشان ہوں میرے لیے کچھ کرو تو جواب ملا کہ میں اب کیا کر سکتا ہوں ۔ہالانکہ وہ چاہتا تو مجھے کچھ رقم ہی دے سکتاتھا جس سے میں کوئی کاروبار کر کیاپنی زندگی کی گاڑی کا دھکا لگا سکتا تھا ۔ مگر مایوس واپس لوٹا دماغ بھی ماوف تھا کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کیا جائے چھوٹا بھائی میرے ساتھ ہمدردی رکھتا مگر اس کے پاس مجھے دینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا ۔سواء الفاظِ تسلی کے۔پھر ایک موقع آیا کہ چھوٹے نے مجھے ایک فیکٹری میں ملازمت دلوا دی تنخواہ تھی تو معمولی مگر کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا کے مصداق بہتر تھا کہ گھر میں دال روٹی تو پکنے لگی تھی ۔قانونی و آئینی طور پر بھی ہم ظہیر صاحب کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تھے کیونکہ ۔ایک تو معاشی لحاظ سے کمزور تھے اور دوسرے اس کے اثرو رسوخ ہم سے زیادہ بلکہ بہت زیادہ تھے ۔کچھ عرصہ فیکٹری کی بدولت گھر کا چولہا جلا مگر قسمت ایسی کہ تھوڑے ہی عرصہ بعد بعض نا گزیر وجوہات کی بنا پر فیکٹری بند ہو گی ۔اور میں پھر اسی حال میں یہ اللہ کا شکر ہے کہ مکان اپنا تھا ورنہ نا جانے سونا بھی سڑک پر ہی پڑتا ۔
پھر چھوٹے نے مشورہ دیا کہ میں راج گیری یعنی مستریوں کا کام سیکھ لوں ۔کوشش کی مگر نہ سیکھ سکا کیونکہ گھر کا خرچہ بھی چلانا تھا آخر کار پینٹ کرنے والے ایک مزدور کے ساتھ کچھ عرصہ لگایا تو میرے ہاتھ سیدھے ہو گے وہ بھی ایک دردِ دل رکھنے والا انسان تھا جس نے مجھے یہ ہنر سیکھا دیا ۔یہ میری داستان ہے ۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ کام اکثر مل ہی جاتا ہے اور شام کو بیوی بچوں کے لیے دال روٹی کا انتظام ہو جاتا ہے
میں اس کی کہانی سن رہا تھا اور ذہن اس طرف تھا کہ کیا خون اس قدر سفید ہو چکا ہے کہ ایک بھائی ،،شاہ تو دوسرا ،،گدا،،اور یہ وہ آدمی ہے جب سکول میں پڑھتا تھا اس کی جیب میں تما م اسٹوڈنٹس سے زیادہ پیسے ہوتے تھے اور خوب عیش کرتا اور اپنے دوستوں کو بھی کرواتا آج ہی شخص میرے گھر کے در و دیور کو چمکا رہا تھا جس کے اپنے جسم و دل کی چمک خود غرضی کی نذر ہو چکی تھی

یہ بھی پڑھیں  پی ٹی آئی کارکنان نے عمران خان کو بھابھی سمیت روک لیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker