تازہ ترینکالم

شمعیں ٗاین جی اوز ٗاور ہمارا کردار

یہود و نصار میں کسی کے مرنے یا کسی افسوسناک واقعے کے ظہور پذیر ہونے کے بعدایک عام دعائیہ تقریب منعقد کی جاتی ہے جس میں اس مذہب سے وابستہ افراد شریک ہوتے ہیں اور شمع روشن کرتے ہیں اور پھرمخصوص انداز میں کچھ کلمات بھی پڑھے جاتے ہیں اور مرنے والے کوخراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔کچھ عرصہ تقریباایک دھائی سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے کہ پاکستان میں بھی ایسا کوئی واقعہ ہوجاتا ہے تو کچھ این جی او جو خالصتاً مغرب کے ایجنڈے پر عمل پیراہو کر پاکستان کی اصل شناخت مٹانے کے مشن پر کام کررہی ہے انہوں نے بھی یہ طریقہ اپنایا ہوا ہے جیسا کہ 2005 کا زلزلہ ہو یا کوئی بھی سانحہ ہو اپنے ہم عصر کچھ افراد کو اکٹھا کرکے اُس جگہ پہنچ جاتی ہیں اور وہاں پر شمعیں روشن کی جاتی ہیں اور اس طرح اُن کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
محترم قارئین کرام بات صرف یہ نہیں کہ یہ این جی اور ایسا کیوں کررہی ہے دراصل میں کافی عرصہ سے اس موضوع پر لکھنا چارہا تھاکہ ہم لوگ پاکستان سے وابستہ ہیں اور پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس کا مطلب ہی لا الہ اللہ ہے جس کی بنیاد ہے ہی دین اسلام ہے اور جس کا آئین بھی قرآن و سنت کی واضح تشریح کرتا ہے تو یہ ہم لوگوں کو خود سوچنا ہوگا کہ ہم لوگ کدھر جارہے ہیں یا ہمیں کچھ مخصوص گروپ کس طرف لے جارہے ہیں ہمارے پیارے آقا حضرت محمدﷺ نے تو بڑے واضح انداز میں فرمایا ہے کہ یہودو نصار سے دور رہنا اور اُن کی تقلید بھی مت کرنا۔تو یہ اب ہم لوگوں کو خود سوچنا چاہیے کیا یہ یہود ونصار کی تقلید نہیں ہے کہ جب کوئی واقع ہوتا ہے ہم بہت سہل اور آسان سے طریقہ اختیار کرتے ہیں اور اُس جگہ جاکر موم بتیاں جلا کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اُس سانحہ میں جاں بحق یا زخمی ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔خداراغور کیجئے کہ کچھ مخصوص این جی اوز کس طرح اپنے مقاصد میں کامیاب ہوچکی ہیں اور ہم لوگ خاموشی سے اُن کے جال میں ہمدردی کے نام پر پھنس کر کس طرح سے اپنے مذہب سے دور ہوتے جارہے ہیں کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم لوگ جب کسی ایسے اجتماع میں شریک ہوں تو اپنی ایک الگ شناخت جو ہمارے دین نے ہمیں دی ہیں عمل کرتے ہوئے ہم لوگ اپنے ملک یا عالم اسلام کے ساتھ کسی بھی ایسے سانحے کی تقریب میں شریک ہوں تو موم بتیاں پکڑنے کی بجائے ایک ایک سپارہ پڑھ کر اُن کو خراج تحسین پیش کریں اور اُن کی ارواح کو ایصال ثواب بھی پہنچائیں اور اگر یہ بھی مشکل لگتا ہے تو ہم لوگ کم سے کم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ جو لوگ کسی ایسے واقعے میں جاں بحق ہوجائے اُن کیلئے جو دعائیہ تقریبات یہ تعزیتی ریفرنس منعقد کیئے جائے اُس میں اُن کیلئے ایک بارہ سورہ فاتحہ اور تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب اُن کو بخشا جائے اور أن کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی جائے۔ذرا سوچئیے ہم اپنے اس ایک چھوٹے سے فعل سے خود بھی ثواب کما سکتے ہیں اور جو کسی حادثے کی نذر ہوچکے ہیں اُن کی روح کیلئے بھی باعث تسکین بن سکتے ہیں اور ہمارے پیارے آقاﷺ کی سنت بھی زندہ رہے گی اور ہماری شناختِ اسلام بھی
قارئین کرام یہ ہم سب کا دینی ملی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے کہ ہم جہاں تک ہوسکے اپنی شناخت قائم رکھے یہ کوئی اسلامی طریقہ نہیں کہ جہاں کوئی واقع رونما ہوا ہم لوگ وہاں پر موم بتیاں لیکر پہنچ جائے اور پھر یہود و نصاری کی طرح کھڑے ہوجائے اور پھر اُن کیلئے دعائے مغفرتکئیبنا واپس آجائیں میر ی ذاتی رائے میں تو ہم ایسے صرف اپنا وقت برباد کرتے ہیں اور بس ایک رسمی کاروائی میں شریک ہوکر واپس اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آتے ہیں ہاں ایک کام ہم ضرور کرآتے ہیں وہ یہ کہ ہم اُن مخصوص این جی اوز جو اس مقصد کیلئے کام کررہی ہوتی ہیں اُن کی نمبرنگ گیم بنوا دیتے ہیں اور اُن کیلئے مزید فنڈ اکٹھا کرنے کا بہانہ بن جاتے ہیں۔
یہاں میں ایک بات اور واضح کرتا چلوں ضروری نہیں کہ تمام این جی اوز اسلام مخالف اور پاکستان مخالف ایجنڈے پر عمل کر رہی ہوں بہت سی این جی اوز ایسی بھی ہیں جو عوام کی فلاح و بہودکیلئے بھی کافی سرگرم عمل ہیں۔لیکن میرا واضح اور اصل موضوع صرف یہ ہے کہ ہم لوگ جویہ شمعیں روشن کرکے کھڑے ہوجاتے ہیں جیسا کہ مارگلہ ٹاور جو 2005 کے زلزلے میں منہدم ہوا تھا اب ہر سال وہاں تقریب منعقد ہوتی ہے اور تمام لوگ شمعیں روشن کرنا شروع کردیتے ہیں اسی طرح کشمیر میں بھی زلزلہ کی جہاں جہاں زیادہ تبارہ کاری ہوئی ہے وہاں پر بھی تمام افراد اکٹھے ہوتے ہیں ہر سال اور شمعیں روشن کرکے واپس آجاتے ہیں۔تقاریب منعقد کرنا اور اُس سانحے کو یاد رکھنا اچھی بات ہے کیونکہ غیور اقوام اپنے ماضی کو یاد رکھ کر ہی آگے بڑھتی ہیں اور نئے عزم کے ساتھ تعمیر نو کے کاموں میں شریک رہتی ہے۔تو میری ذاتی رائے اور تمام مسلمانان پاکستان سے صرف ایک یہی درخواست ہے کہ ایسی تقاریب ضرور منعقد کریں اور اپنے پیاروں اور اپنے پاکستانی بہن بھائیوں جن کو ہم ان سانحات یہ کسی بھی سانحات میں کھو چکے ہیں اُن کو یاد کریں اور اپنے اوپر فرض کرلیں کہ ہم اُنہیں یہود ونصاریٰ کی طرح شمعیں جلا کر یاد نہیں کرینگے بلکے اپنے پیارے دین محمدیؐ کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے آئندہ اُن کیلئے تمام افراد مل کر قرآن پاک کی محافل سجائیں گے اور تمام افراد مل کر ختم قرآن پاک کا اہتمام کیا کریں گے اور اُن کے ایصال ثواب کیلئے سورہ فاتحہ اور اور تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر اُن کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کریں گے ۔
دراصل بات ساری سمجھنے کی ہے ہم لوگ اپنی زندگی کے روزمرہ کے کاموں میں اتنے مشغول ہوچکے ہیں کہ ہم یہ بھی نہیں سوچتے کیا صحیح ہے اور کیا غلط اور بس اندھی تقلید کئے جارہے ہیں اور ویسیاگر توجہ دی جائے تو ہمارا میڈیا اس سلسلے میں اہم اور موثر ترین کردار ادا کرسکتا ہے اور اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے معاشرے میں کافی مثبت تبدیلیاں بھی رونما کرسکتا ہے میرے نزدیک میڈیا آج کل کے دور میں ایک ایسی مضبوط طاقت بن چکا ہے کہ وہ معاشرے پر برا ہ راست اثر انداز ہوتا ہے اور ایسی تقریبات کی کوریج جب میڈیا کرتا ہے کہ فلاں جگہ پر ایسی تقریب منعقد ہوئی اوریاد میں موم بتیاں جلائی گئی تو بعض لوگ اساس کو سٹیٹس سمبل اور ایک نیا انداز سمجھ کر اپنالیتے ہیں اور پھر ایسے مواقع پر خود بھی یہ کام شروع کردیتے ہیں۔یہ بات اپنی جگہ بجا کہ تمام خبروں کو جگہ دینامیڈیا کی ذمہ داری ہے اور کوریج کرنا بھی اُن کا حق ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کو بحثیت مسلم ملک کا نمائندہ ہونے کے ناطے اپنے طور پر بھی ایسی تقاریب منعقد کرنی چاہیے جس میں شمعیں روشن کرنے کی بجائے ختم قرآن پاک کی محافل کروائی جائیں اور لوگوں کو دکھائی جائے مجھے قوی اُمید ہے کہ لوگ میڈیا کی اس کاوش کو ضرور سراہے گے اور پھر آہستہ آہستہ شمعیں روشن کرنے والی فضول رسومات ختم ہوکرصحیح طریقہ اپنانا شروع کردینگے جو کہ ہم اہل پاکستان اور اہل اسلام کی شناخت ہیں اور ااس کا سہرا میڈیا کہ ہی سر بندھ سکتا ہے اب دیکھتے ہیں کہ پہلی ابتدا کو ن کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ایوان صدر میں تقسیمِ سول و عسکری اعزازات کی تقریب

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker