تازہ ترینکالم

عملی اسلام ،محب وطن

atiqسماج و معاشرہ کی تعمیر و ترقی میں تعلیمی اداروں کا اہم کردار ہوتاہے اور اگر معاشرے میں اچھے اور معیاری تعلیمی ادارے موجود ہوں تو معاشرہ عروج کی منزلوں پر پہنچتاہے۔بدقسمتی سے برصغیر میں انگریز نے دوران قبضہ یہاں کے نظام و نصاب تعلیم کا چہرہ مکمل طور پر مجروح و مسخ کردیا تھا جس کے نتیجہ میں یہاں کا نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد مادرپدر کی آزادی اور آزادی رائے کا بے معنی و بے حیا نعرہ ببانگ دہل بلند کرنے لگے جبکہ دوسری جانب دینی تعلیمی اداروں میں جمود کی ایک نہ ختم ہونے والی فضا و رسم قائم چلی آرہی ہے جس کے سبب معاشرہ میں افراط و تفریط کی کشمکش عروج پر ہے۔۔ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک پاک میں ایسے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں جو دین و دنیوی تعلیم دونوں کا اہتما م کریں اور سماج کو عصر حاضر کے تقاضوں سے روشناس کرنے کے ساتھ دینی علوم و مصادر کی درست تفہیم کے ساتھ تعلیم کا انتظام کیا جائے ۔اس طرح کے متعدد ادارے قائم ہوچکے ہیں جو اپنے فرائض خوش اسلوبی کے ساتھ اداکررہے ہیں۔ان ہی اداروں میں ایک نام الحمد اسلامی یونیورسٹی کا بھی ہے ۔یونیورسٹی کے منتظمین سے ہونے والی گفتگو قارئین کے استفادہ کے لئے ذیل میں درج کی جارہی ہے۔
الحمد یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات نثار محمد نے بتایا کہ الحمد اسلامی یونیورسٹی جس کا مرکزی و مین کیمپس بلوچستان میں ہے اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور بلوچستان گورنمنٹ سے منظور شدہ ادارہ ہے۔الحمد اسلامی یونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹر شکیل روشن کی یہ خواہش و تمنا ہے کہ پاکستان میں موجود علماء کے سیاسی و سماجی اور معاشرتی کردار کو اجاگر کرنے کے لئے ان کو عصری جامعات میں تعلیم دلوائی جائے اس سلسلہ میں انہوں نے دینی مدارس کے طلبہ کے لئے پچاس فی صد ٹیوشن فیس معاف کردی ہے۔ الحمد کے متعدد ذیلی سکول و کالجزہیں جن میں بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی،دارارقم سکول سسٹم،قرآن ریسرچ اکیڈمی اور الحمد سکول آف اسلام اینڈ سائنزشامل ہیں۔میٹرک سسٹم تک ہم تمام طلبہ و طالبات صبح آٹھ بجے سے دس بجے تک حفظ و ناظرہ کی الگ الگ مستقل کلاس ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں جہاں طلبہ میٹرک مکمل کرتے ہیں وہیں پر وہ قرآن مجید بھی حفظ کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی میٹر ک کے اسباق کے ساتھ ہم نے اسلام کی عملی پریکٹس کااضافی سبق شامل نصاب ہے۔ایف اے لیول پر کوئی اضافی سبق تو موجود نہیں ہے لیکن گریجویٹ لیول کے تما م پروگرامات میں اسلامیات ،عربی زبان ،حدیث اور فقہ جیسے مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے۔ہمارے یہاں شعبہ اسلامیات کے دو بیج فارغ ہوچکے ہیں اور دو نئے بیج شروع ہوچکے ہیں ،مین کیمپس میں مستقل اور متخضص اساتذہ موجود ہیں اور اسلام آبادکیمپس میں مستقل اساتذہ تو کم ہیں مگر ماہرین علم و فن اساتذہ سے استفادہ کرتے ہیں جن میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سینئیر اساتذہ ڈاکٹر علی اصغر چشتی اور ڈاکٹر ثناء اللہ و دیگر ماہرین تعلیم اساتذہ ویڈیولنک کے ذریعہ سے لیکچر دیتے ہیں۔الحمد اسلامی یونیورسٹی اپنے نظام و نصاب تعلیم کے معیار کو درست بنیادوں پر قائم کرنے کے لئے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے استفادہ کرتی ہے۔
پروفیسر شکیل ایڈیشنل رجسٹرار الحمد اسلامی یونیورسٹی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب مسلمانوں سے نہیں بلکہ اسلام سے خوف زدہ ہے اور اسی لئے وہ کوشاں ہے کہ انسانوں کو اسلام اور اسلامی تعلیمات سے خوفزدہ کرتاہے۔تعلیمی اداروں پر حملہ کرنے والے دانستہ یا نادانستہ طورپر اغیار و اسلام دشمنوں کی مدد کررہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں پر دہشت گردی اور انتہاپسندی کے نتیجہ میں تعلیمی اداروں کو بند کرنا مستقل حل نہیں ہے ۔حکومت اور انتظامیہ کو چاہئیے کہ دہشت گردوں کی اسلام و ملک دشمن عناصر کی سازشوں کی روک تھام اور ان سے نمٹنے کے لئے مستقل منصوبہ بندی کرے۔اور انہوں نے مزید کہاکہ الحمد اسلامی یونیورسٹی نوجوانوں کو عملی اسلام کی دعوت منتقل کرنے کے لئے سیرت کانفرنسز اور سیمینارز کا اہتمام کرتی ہے۔یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات میں اسلامیات اور عربی زبان دانی کے لازمی کورسز کروائے جاتے ہیں۔تعلیم کو یکساں کرنا یا اس میں تغیر و تبدل زیادہ مؤثر عمل نہیں ہے اصل میں ہمیں چاہیے ہم اپنی عملی سیاسی و سماجی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں۔حکمران و عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے نماز و روزہ رکھ لئے اور عبادت کرلی تو ہم کامیاب ہیں اور بقیہ زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق گذارنا لازمی نہیں ہے جبکہ دین ہمیں معاشرتی و سماجی اور مکمل انسانی زندگی کو بسر کرنے بارے ہدایات فراہم کرتاہے۔ ،موجودہ دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی مدارس و سکول و کالج میں دینی و دنیاوی یکساں تعلیم فراہم کی جائے۔
الحمد یونیورسٹی معاشرے میں اسلام کی حقیقی روح کی بیداری کے لئے جلد ایف ایم ریڈیوکا سلسلہ شروع کررہے ہیں،ایف ایم ریڈیو کا سلسلہ شروع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اسلام کی تعلیمات عوام الناس تک پہنچائیں اور اس کے ساتھ حب الوطنی کا جذبہ بلوچستان و کوئٹہ کے لوگوں میں بیدار کریں۔دوسرے مرحلہ میں انشاء اللہ اسلام آباد سے بھی ایف ایم ریڈیوکا آغاز کریں گے۔ الحمد اسلامی یونیورسٹی پاکستان کے نوجوانوں میں اسلام کی ٹھوس اور درست تعلیم کی تربیت دینے کے ساتھ نوجوانوں کو عصر حاضر کے تقاضوں اور ضرورتوں کی تکمیل کے لئے بھی تیار کرتے ہیں اور ساتھ ہی وطن عزیز کی محبت و وفاداری کی تعلیم دیتے ہیں۔اللہ رب العزت سے دعاگوہوں کہ اس طرح کے ملک کے طول و عرض میں تعلیمی ادارے قائم ہونے چاہییں جن میں دینی و عصری دونوں تعلیموں کا اہتمام موجود ہو اور انہیں اسلام سے وابستگی اور ملک پاکستان کے باشندہ ہونے پر فخر ہو۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button