تازہ ترینکالممیرافسر امان

امریکی چالبازیاں

mir afsarپرنٹ میڈیا امریکی چالبازیوں کی داستانوں سے بھرا پڑاہے تمام محب وطن کالم نگار اپنی اپنی سوچ کے مطابق اس پر اظہار خیال کرتے رہتے ہیں۔ہم بھی اپنے کالموں جو کہ پاکستان کے اکثر اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں گزارش کرتے رہے ہیں کہ امریکی دوستی اچھی نہ امریکی دشمنی اچھی۔یہ تو ثابت شدہ حقیقت ہے دشمنی تو کسی قوم کی اچھی نہیں ہوتی مگر کبھی کبھی کہا جاتا ہے ناداں دوست سے داناں دشمن اچھاہوتا ہے مگر امریکہ تو داناں دوست بھی اچھا نہیں ہے۔ تمام اہل دانش کو اچھی طرح سے معلوم ہے اور یہ بات ا ہل وطن کے ہاں گردش بھی کرتی رہتی ہے کہ پاکستان کی چار وزارتیں ہمیشہ امریکی کی مرضی سے بنتی رہی ہیں(اب تو پوری حکومت) جس میں وزارت خزانہ ،وزارت تعلیم،وزارت دفاع اوروزرات اطلاعات شامل ہیں۔ امریکہ ان ہی وزارتوں کی آڑ میں اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے اور غلط مشورے دیتے ہوئے شروع دن سے پاکستان کے لیے ایک پالیسی بنائی ہوئی ہے کہ اسے خود اپنے پاوٗں پر کھڑا نہیں ہونے دینا ہے اس کے لیے اس کے پالیسی سازوں نے پاکستان کبھی بھی انڈسٹریل ملک نہیں بننے دیا جس سے یہ زر مبادلہ کماتا بلکہ اسے کنزیومر مارکیٹ بننے میں پالیسیوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔
اس کے علاوہ ہم سب پاکستانیوں کو معلو م ہے ہمارا ملک زرعی ترقی کر سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس بہترین نہری نظام ہے اس کی زمین زرخیز ہے اس کے ملک میں چار موسم ہر وقت موجود رہتے ہے جس سے کسان سال میں چار فصلیں حاصل کرتے ہیں خط استوا پر واقع ہونے کی وجہ سے گرمیوں میں سخت گرم اور سرد یوں میں سخت سرد موسم، جو فصلوں کے لیے مدد گار ثابت ہوتا ہے لیکن بہت ہی افسوس ہے ہمارا کسان طبقہ کسمپرسی کی حالت میں مبتلا رہتا ہے اس سلسلے میں راقم کو اپنے فیصل آباد کے قیام کے دوران جماعت اسلامی کی برادر تنظیم کا رسالہ ’’کسان بورڈ‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک مضمون تھا’’ شہری اوردیہاتی کے مسائل‘‘ دیہاتی اپنے شہری بھائی سے مخاطب ہے اور کہہ رہاہے شہری بھائی میں آپ کے شہر میں اشیا ء ضرورت خریدنے کے لیے ہر سال آتا ہوں میرے بھائی آپ اپنی اشیا ء کی قیمتیں اپنی مرضی سے ہر سال بڑھا دیتے ہو مثلاً میں پچھلے سال شہر میں بجلی کا ایک پنکھاخریدنے آیا تھا تو اس کی قیمت کم تھی اور اس سال ایک اور پنکھا خریدنے آیا ہوں تو اس کی پچھلے سال سے قیمت زِیادہ ہے اسی طرح ہر چیز کی قیمت ہر سال آپ اپنی مرضی سے بڑھا دیتے ہو آپ کو کو ئی پوچھنے والا نہیں، جبکہ میری پیدا وار پر حکومت قیمت خرید خود مقرر کرتی ہے اور آپ کو میری پیدا کردہ اشیاء کی کم قیمت دینی پڑتی ہے دوسری بات میرا آٹھ افراد پر مشتمل کنبہ سارا سال محنت کرتا ہے تو شہر کے مزدور سے بہت ہی کم فی کس یومیہُ اجرت بنتی ہے آپ کو اپنی پیدا وار پر حق ہے جتنی چاہو قیمت بڑھا دومجھے اپنی پیدا وار پر قیمت بڑھانے کا اختیار نہیں یہ اختیار حکومت نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور میں اپنی پیدا کردہ اشیاء کی قیمت کے لیے حکومت وقت کی طرف دیکھتا ر ہتا ہوں یہ بے انصافی نہیں تو کیا ہے ؟اس غریب دیہاتی کو کیا پتہ یہ پالیسی تو آئی ایم ایف بناتا ہے جو دیہاتی اورشہری کے درمیان فرق کرتا ہے تاکہ ملک کے لوگ یکساں ترقی نہ کر سکیں اور طبقاتی کشمکش برقرار رہے جس سے حکومتیں قرض لیتیں ہیں تمہاری قسمت تو آئی ایم ایف کے پاس حکمرانوں نے قرض پر قرض لے کرگروی رکھی ہوئی ہے اور آئی ایم ایف پریہود اور نصارا کا کنٹرول ہے جو امریکہ کے کہنے پر عمل کرتا ہے۔کیا اچھا ہوتا 70/80 فیصد آبادی پر مشتمل دیہاتیوں کے گھروں کے قریب بائی پروڈکس کی انڈسٹری لگائی جاتیں ان کو ان کی پیدا کردہ اشیاء کی ان کی مرضی کے مطابق قیمتیں دی جاتیں اور وہ خوش حال ہوتے جس سے ان کی مایوسی دور ہوتی ملک یکساں ترقی کرتا دیہاتی دل لگا کر اشیاء پیدا کرتے یہ اشیاء ہم دنیا کو ایکسپورٹ کرتے زر مبادلہ کماتے ملک خوش حال ہوتا اور جس سے دہاتیوں کا شہروں کے طرف آنے کا روحجان رک جاتا اور آئے دن کے شہری مسائل سے بھی چھٹکارا ملتا۔
اسی طرح 64 سال سے ہمیں اپنی یکساں تعلیمی پالیسی بنانے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی ملک میں مختلف قسم کے نظام ہائے تعلیم چل رہے ہیں آج بھی ہمارے نظام تعلیم میں لارڈ میکالے کے فرسودہ خیالات موجود ہیں جو صرف کلرک پیدا کرتا ہے جن میں تخلیقی ذہن نہیں اُبھرتا۔ ہم اردو کو اپنی، جو برصغیر کے مسلمانوں کی زبان ہے کوقومی ؍سرکاری زبان نہ بنا سکے دنیا کے تمام ملکوں نے اپنی اپنی قومی ز بانوں کورائج کر کے ترقی کی منزلیں طے کی ہیں مگر ہم آج تک اس قومی فکر سے عاری ہیں امریکہ نے ہمارے نصاب سے ہماری قومی امنگوں کے خلاف تبدیلی کروائی اور یہ کام پرویز مشرف صاحب نے کیا جس سے ملک میں احتجاج بھی ہوامگر غلاموں کے احتجاج سے کچھ نہیں ہوتا۔اب پنجاب حکومت نے اپنے آقاؤں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انگریزی زبان کو پہلے جماعت سے رائج کر کے قوم کے ساتھ ظلم کیا ہے۔
ہمارے مالیاتی نظام میں سودی نظام کو جاری وساری رکھ کر ہمیں قرض کے بوجھ تلے دبا دیا گیا آئے دن کے آئی ایم ایف کے قرضوں نے پاکستانی قوم کی کمر توڑ دی ہے باہر سے
بلائے گئے وزیر اعظم نے مشرف دور میں قوم کو خرچ کرنا تو سکھا دیا گیا مگر آمدنی کے ذرائع کی طرف توجہ نہیں دی گئی وزارت سے فارغ ہوتے ہی واپس اپنے آقاؤں کے پاس چلے قوم کو بیچ منجدھار میں چھوڑ کر چلے گئے۔ نگران حکومت کے دوران بھی باہر سے آئے ہوئے قریشی صاحب ورلڈ بنک کے کلکٹر کا کام انجام ادا کر کے واپس اپنے آقاؤں کے پاس چلے گئے موجودہ کرپٹ حکمرانوں کو ملک پر معاہدے کے تحت مسلط کر کے کرپشن کو عروج تک پہنچا دیا گیا ہے تاکہ پاکستان کا مالیاتی نظام صحیح سمت پر نہ چل سکے۔
ہمارے ملک میں امریکہ نے لاتعداد ڈالر خرچ کر کے کچھ الیکٹرونک میڈیا کو خرید لیا گیا ہے آج ہمارے ملک کے میڈیا سے متعلق یہی لوگ امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتے نظر آ رہے ہیں لوگوں کو اللہ سے ڈرانے کے بجائے امریکہ سے ڈرا رہے ہیں یہی کام وہ روسی حملے کے وقت بھی کرتے رہے ہیں جو اب کر رہے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل روسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ جو کہ بین القوامی میڈیا میں شایع ہو چکی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے ذریعے امریکہ کا مشن اس بات پر کام کر رہا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کے ذریعے القاعدہ کو ایٹمی ہتھیار مہیا کئے جائیں اور اس سے امریکہ میں ۱۱؍۹ جیسا جعلی واقعہ کروایا جائے اور پھر اس بہانے پاکستان پر حملہ کر دیا جائے اور افغانستان میں موجود میرین اور پاکستان میں موجود بلیک واٹر کے تربیت یافتہ کمانڈوز سے نشان زدہ جگہوں پر حملہ کر ادیا جائے اور اس طرح اپنی پرانی اسکیم جس کو پاکستانی میڈیا وقتاً فوقتاً اخبارات میں بیان کرتا رہا ہے کو فائنل کرتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو یورپ ؍اقوام متحدہ کے حوالے کر دیا جائے یہ ہے ہمارے دوست امریکہ کے نن الائنس نیٹو اتحادی پاکستان کے خلاف عزائم ! مغربی صحافی وین میڈیسن ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں افراتفری پھیلا کر اس کے ایٹمی اثاثوں کو مغرب کے کنٹرول میں دینا ہے اس انکشاف پر تحقیقی ٹیم کو ایف بی آئی اور سی آئی اے کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کا سامنا ہے۔ امریکا کے محقق صحافی وپاکستانی میڈیا کی رپورٹ۔
جہاں تک ہمارے دفاعی معاملات ہیں امریکہ بہادر نے طرح طرح کے روڑے اٹکا کر ہمیں پریشان کر رکھا ہے اس کو ہمارا ایٹمی ملک ہونا برداشت نہیں ہے ہر روز کوئی نہ کوئی بات اس کی طرف سے ہوتی رہتی ہے 10 جولائی2011 ء کو امریکی اخبارات میں خبر آئی کی کہ سابق آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے شمالی کوریا سے ایٹمی راز کے عوض لاکھوں ڈالر وصول کیے۔ اس طرح جھوٹے الزام لگا کر ہمارے فوجی لیڈر شپ کو دنیا میں بدنام کیا جا رہا ہے۔29 جولائی2011 ء کے اخبارات میں امریکی حکومت کی جانب سے عام کی جانے والی خفیہ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے 1970 ء کی دہائی میں پاکستان کے لیے ایک خفیہ پروگرام ترتیب دیا تھا اس میں پاکستان کے خلاف سفارتی مہم شروع کی تھی جس میں مغربی ممالک پر زور دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان کو برآمدات پر کنٹرول کریں ۔5 اگست2011 ٗ کو اخبارات میں امریکی ٹی وی این بی سی نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہے ان کا خیال ہے کہ یہ ہتھیار غلط ہاتھوں میں جا سکتے ہیں واشنگٹن اتحاد ی ملکوں سے مل کر جوہری مواد کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالے گا۔اُدھر ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کا دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جانے کا خدشہ مغرب کا پھیلایا ہوا ہے جوہری اثاثے فوج کی زیر نگرانی میں محفوظ ہیں۔
قارئین کیا کیا بیان کیا جائے ہمارے ملک پاکستان کے پیچھے امریکہ ہاتھ دھو کر پڑا ہوا ہے ہمارے ملک کے مقتدر اداروں کو اس کی خبر ہے ہمارے ملک کے موجودہ حکمران بھی اس سے باخبر ہیں مگر بُزدلی اورامداد کی خواہش نے ہمیں یہ دن دکھائے ہیں جہاں تک ملک کے دشمنوں کی گیدڑ ببکیوں کا سوال ہے تو کیا ہمیں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد نہیں’’ دل شکستہ نہ ہو،غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو‘‘ (ال عمران۱۳۹) کیا ہمیں رسول ؐاللہ کی اس حدیث کا مفہوم یاد نہیں کہ فرمایا رسول ؐ نے ایک وقت آئے گا کہ میری امت پر دشمن قومیں ایسی چڑ دوڑیں گی جیسے کھانے پر بھوکے چڑ دوڑتے ہیں صحابہؓ نے کہا کیا یا رسولؐ ہم تعداد میں کم ہوں گے فرما یا نہیں بلکہ دولت کی ہوس اور موت سے خوف کی وجہ سے (سنن ابوداوٗد) کیا ہمارے مقتدر حلقے اس بیماری میں مبتلا نہیں ہیں ؟کیا ان حلقوں کی وجہ سے عوام میں مایوسی نہیں پھیل رہی ہے ؟ اللہ کے لیے مقتدر حلقے اور موجودہ حکمران اپنا رویہ درست کر لیں!اورامریکی امداد نہ قبول کریں اوربقول شاعر:۔ اپنی ہی مٹی پے چلنے کا سلیقہ سیکھو…سنگ مر مر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے
اے اللہ تو پاکستان کا محافظ ہو آمی

یہ بھی پڑھیں  لالہ موسیٰ:لالہ موسیٰ شہر اور گردونواح میں جعلی نوٹ گردش کرنے لگے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker