انور عباس انورتازہ ترینکالم

امریکہ کی شام کے خلاف بدمعاشی

anwar abasمیرے پچھلے کالم جن حضرات نے باقاعدگی سے پڑھے ہیں انہیں یاد ہوگا کہ میں نے واضع طور پر تحریر کیا تھا کہ امریکہ آنے والے دنوں میں شام سمیت کسی بھی عرب ملک پر براہ راست حملہ کرنے والا ہے۔بس وہ موقع مناسبت کی ٹوہ میں ہے اور ھملے کے لیے کسی جواز کی تلاش میں بھی ہے۔امریکی سفید ہاتھی کے بلیک صدر نے دنیا کی یک طاقی قوت ہونے کے نشے میں بد مست ہوکر کل اعلان کر دیا ہے کہ امریکہ شام پر ہر صورت حملہ کریگا اور یہ حملہ ایک دو روز میں کر دیا جائیگا۔امریکی بد مست ہاتھی پر سوار بلیک اوبامہ نے روس اور چین سمیت ساری دنیا پر واضع پیغام دیا ہے۔کہ اگر اقوام متحدہ نے شام پر حملے کی اجازت نہ بھی دی اور اگر اتحادیوں نے بھی اس کارروائی میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو بھی امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اکیلا ہی شام پر حملہ کریگا۔
امریکی بلیک مین کے اس واضع اعلان کے بعد اباس بات کو ئی شک نہیں رہ جاتا کہ امریکہ شام پر حملہ کریگا یا نہیں ؟امریکہ دہشت گردوں کے خلاف بشارالاسد حکومت کی جانب سے کیمیکل ہتھیار استعمال کرنے کو شام پر حملے کا جواز بنا رہا ہے۔ جبکہ روس نے سلامتی کونسل میں حملے کی اجازت کے لیے ]یش کی گئی قراداد کو ویٹو کر دیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ شام گئے ہوئے معائنہ کاروں کی واپسی اور انکی رپورٹ کا انتظار کیا جائے۔لیکن شام پر حملے کے لیے بے چین اوبامہ کہتا ہے کہ اسے شام پر حملے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔
دوسری طرف عراق ،افغانستان اور لیبیا کے بعد عالمی برادری آنکھیں بند کر کے امریکی کارروائی کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ برطانیہ کی باضمیر پارلیمنٹ نے برطانوی حکومت کی امریکہ کا ساتھ دینے کیلیے پیش کی گئی قرارداد کو مسترد کرکے برطانوی حکومت کی خواہشات کو ملیا میٹ کردیا ہے۔ایسی ہی صورت حال دیگر ممالک میں پائی جا رہی ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ شام پر کیوں چڑھائی کرنا چاہتا ہے؟اس سول کا جواب پانے کے لیے میں نے متعدد دانشوروں،صحافیوں اور علما ئے دین سے رابطہ کیا توان حضرات کی جانب سے متعدد وجوہات بتائی گئیں۔ مجھے سب سے زیادہ شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی سکریٹری علامہ عارف حسین واحدی کا موقف حقیقت کے قریب تر لگا ۔علامہ واحدی کہتے ہیں کہ’’ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی اسلام دشمنی کا سلسلہ جاری و ساری ہے ۔اسلام دشمن شیطانی طاقت امریکہ اب نئے اسلامی ملک شام کو تباہ و برباد کرنے پر تلاہوا ہے ۔اس کا مقصد مسلمان ممالک کو کچلنا اور اپنے چہیتے یہودیت کے مرکز اسرائیل کو تحفظ دینا ہے ۔ اس کے علاوہ امریکہ امت مسلمہ کے اتحاد کو پار ہ پارہ کرنے کے درپے ہے ۔ ’’ لیکن امریکہ طاقت کے نشے میں برطانوی عوام سمیت دیگر عالمی برادری کے موقف کو یکسر نظرانداز کرنے کی حماقت کر رہا ہے۔اسے یاد رکھنا چاہئے کہ اب عراق ،افغانستان اور لیبیا والے حالات نہیں ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ نے شام کے خلاف کارروائی سے قبل مصر میں اسلامی نظریات کی حامل اخوان المسلمون کی حکومت ختم کروائی ہے۔موجودہ مصری جنرل مصری عوام کی بجائے اسرائیلی عوام میں مقبول ہے بلکہ اسرائیلی عوام ابولفتح السسی کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔لیکن اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں ۔شام پر امریکہ حملہ ساری دنیا کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ایران کی حکومت اور لبنان کی حزب اللہ اس جنگ سے الگ نہیں رہ سکتے ۔ایسا سوچنا بھی حماقت ہو گی۔کیونکہ ایران اور حزب اللہ شام پر امریکی حملے کو اسرائیل کو تحفظ دینے کی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔اور یہ دونوں قوتیں اسرائیل کو امت مسلمہ کے لیے ناسور سمجھتے ہیں اور اس کی بربادی کے لیے منصوبے بناتے رہتے ہیں اور یہ اپنے اس عزم کو ہر پلیٹ فارم پر دہراتے رہتے ہیں۔
اب امریکہ کو سوچنا اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ محض ایک اسرائیل کو تحفظ دینے کے لیے پوری دنیا کے امن کو داو پر لگا دیگا ؟اگر امریکہ ایسا کرنے پر بضد رہا اور اس نے شام پر کروز مزائل کے حملے کیے تو اپنے اعلان کے مطابق روس بھی سعودی عرب پر حملہ کردے تو کیا اس دنیا کو عالمی جنگ سے محفوظ رکھا جا سکے گا؟اور روس سعودی عرب پر حملہ نہ بھی کرے تو حزب اللہ اور ایران کو اس جنگ سے کیسے باز رکھا جائیگا؟ ایران تو اپنے ایٹمی قوت ہونے کا بار ہا دعوی کر چکا ہے ۔اور ایران کا یہ بھی دعوی ہے کہ وہ اسرائیل کو ایک منٹ میں صفحہ ہستی سے مٹا نے کی قوت کا حامل ہے۔اگر واقعی ایران نے اسرائیل کو نشانے پر لے لیا تو دنیا کے نقشے میں حیرت انگیز تبدیلیاں رونما واقع ہو نے کی گنجائش موجود ہے
روس سمیت اس حملے کے مخالفین کے موقف میں وزن پایا جاتا ہے کیونکہ عراق پر اتحادیوں کے حملوں کے بعد امریکی صدور اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ معائنہ کاروں کی رپورٹس جعلی اور جھوٹ پر مبنی تھیں اس لیے ان کا کہنا ہے کہ معائنہ کاروں کی واپسی کا انتظار کیا جائے لیکن امریکہ کو بھی اس بات کا علم ہے کہ کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کا پروپیگنڈہ غلط اور جھوٹا ہے۔اور اگر معائنہ کاروں کو واپسی کی مہلت دی گئی تو سارا بھانڈہ پھوٹ جانے کابھی اسے خدشہ لاحق ہے۔دنیا بھر کے عالمی رہنماوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا کے امن کو تباہ کرنے کی امریکی کوششوں کو ناکام بنایا جائے اور اس کے لیے عالمی رہنما اپنے پوری صلاحیتوں کو بروے کار لائیں۔اگر عالمی رہنما اس میں ناکام ہوئے تو پھر سوائے پچھتاوے کے کچھ باقی نہ بچے گا

یہ بھی پڑھیں  لاہور:جی سی یو میں تین روزہ کتاب میلے کا کامیاب آغاز

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker