امتیاز علی شاکر

کیا امریکہ دہشتگردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے.؟

مسلمان ہمیشہ سے نرم دل ہیں یہ خدا کا احسان ہے کہ مسلمان کسی کودکھ دینا تو دور کی بات ہے مسلمان تومشکل سے مشکل حالات میں بھی خلق خدا کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے دین کے دشمنوں نے اسی نرم دلی کو کمزوری سمجھا اور اسی بات کا فائدہ اٹھا کر اسلام دشمن طاقتوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو دھوکے دیے ہیں ۔حالیہ حالا ت کو دیکھیں تو صاف پتا چلتا ہے دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں پاکستا ن کی ہیں لیکن اس کے باوجود پچھلے دس سال سے امریکہ کا یہی الزام ہے کے پاکستان دہشتگردوں کی مدد کر رہا ہے۔اور دنیا بھر کو یہ بتانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے کہ مسلمان ہی دہشتگرد ہیں ۔لیکن ایک مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے میں یہ بات دنیا پر واضع کر دینا چاہتا ہوںکہ کوئی بھی مسلمان دہشتگرد نہیں ہو سکتا ۔اور جودہشتگردی کرتا ہے وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔مسلمانوں کا روپ اختیار کرلینے سے کوئی مسلمان نہیں ہو جاتاداڑھی رکھنے ۔پگڑی پہننے سے یاہاتھ میں تسبیح پکڑنے سے کوئی مسلمان نہیں بن جاتا۔میرے نزدیک مسلمان وہ ہے جس کے شرسے نہ صرف انسان بلکہ تمام مخلوق محفوظ ہو ۔مسلمان تو ظالموں کو بھی معاف کردیتا ہے تو مسلمان بے گناہ اور معصوم انسانوں کی جان کیسے لے سکتا ہے۔برے سے برامسلمان بھی مسجدوں اور درگاہوں پر بم نہیں چلا سکتا یہ وہی لوگ ہیں جو اسلام سے دشمنی رکھتے ہیں اور مسلمانوں کا ظاہری حلیہ بنا کر دنیا میں دہشتگردی کر رہے ہیںکیونکہ جب بھی یہ مارے جاتے تو پتہ چلتا ان میں سے اکثر کے ختنے تک نہیں ہوئے ہوتے ۔ ان کا چہرہ دنیا کے سامنے ہے اگریہ لوگ مسلمان ہوتے تو کبھی بھی مسجدوں پر حملے نہ کرتے اور اگر پاکستان نے دہشتگردوں کا ساتھ ہی دینا ہوتا تو پاکستان کو امریکہ کا اتحادی بننے کی کیا ضرورت تھی ؟پاکستا ن کی بے بہا قربانیوں کے باوجود امریکہ کوپاکستان پرالزام لگاتے دیکھ یوں لگتا ہے کہ پاکستان نے اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے کر غلطی کی ۔جب اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکا نے افغانستا ن پر جنگ مسلط کی جس میں پاکستان فرنٹ لائن اتحادی بنا پاکستانی حکمرانوں نے سوچے سمجھے بغیر قوم کو اغیار کی آگ میں جھونک دیا ۔اسامہ ایک عرب باشندہ تھا جسے پاکستانی قوم بالکل نہیں جانتی اسامہ کون تھا کہاں کا پڑھا لکھا تھاکہاں اس نے دہشتگرد ی کی تربیت حاصل کی اور کب امریکہ کے خلاف ہوا پاکستانیوں کو اسامہ سے کچھ لینا دینا نہ تھا لیکن دہشتگردی کے خلاف خودساختہ امریکی جنگ میں اتحادی کاکردار ادا کر کے جو نقصان پاکستانی قوم کو ہوا اس کی تلافی ناممکن ہے۔پاکستا ن کے ہزروں بے گناہ شہری اس جنگ کے رد عمل میں ہونے والی دہشتگردی کا نشانہ بن کرجان قربان کر گئے ۔دنیابھرمیں سبزپاسپورٹ خوف کی علامت بن کر رہ گیاجس کیوجہ سے بیرون ملک پاکستانیوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔پاکستانی حکمرانوںکونائن الیون کے بعد جنگ میں اتحادی بننے سے پہلے عوامی رائے لینی چاہیے تھی کیونکہ عوام کی اکثریت امریکہ کو ناپسند کرتی ہے۔ اوریہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ دنیا بھر کے انسان امریکہ سے نفرت کرتے ہیں ۔دس سال پہلے گیارہ ستمبر 2001ئ کو جوامریکہ میں انسانی تاریخ کی بدترین دہشتگردی ہو ئی بے شک اس میںجاں بحق ہونے والے لوگ بے گناہ اور معصوم تھے ۔اس علم ناک اور درد ناک واقع کے بعد جو امریکہ اور دنیا بھر سے جو ری ایکشن آیاوہ بے جاہ نہ تھا۔نائین الیون کو ہونے والے خون خرابے کی ذمہ داری القائدہ پرعائد ہوئی جس کا سربراہ اسامہ بن لادن کو بتایا گیاجو ان دنوں افغانستان میں پناہ لیے ہوئے تھا ۔اور امریکہ کو اسامہ بن لادن مطلوب تھا زندہ یا مردہ جسے بلا آخر جنگ کے دسویں برس 2011ئ میں ایبٹ آباد اپریشن میں امریکی فورسز نے ماردیا ۔اسامہ مارا گیا لیکن جنگ ابھی باقی ہے ۔گیارہ ستمبر 2001ئ کے بعد سے اب تک کے سارے معاملات کو غور سے دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسامہ صرف ایک بہانا تھاجس کی بنا پر امریکی حکمرانوں نے نہ صرف افغانستان اور پاکستان کومشکلات میں ڈالا بلکہ اس نام نہاد جنگ کی وجہ سے امریکی قوم بھی بیرونی قرضے کے بوجھ تلے دب چکی ہے اور ہشتگردی کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے ۔ان حالات میں نہ صرف امریکی عوام کے ذہن میں بلکہ دنیا کے ہر باشعور انسان کے ذہن میں بہت سے سوالات اٹھتے ہیں ۔ جیسے کے کیا امریکی قوم اقتصادی طور پراتنی خوشحال ہے کہ ساری دنیا میں جنگ لڑ سکے ؟ کیاامریکا کودنیا میں امن کی علامت سمجھاجاتا ہے ؟کیا آج تک جہاں جہاںامریکی کارروائی ہوئی وہاں وہاں امن قائم ہو گیا ہے؟کیاامریکا کو کسی بھی جگہ کارروائی کا حق حاصل ہے ؟کیا امریکا نے عراق میں پوری طرح امن قائم کردیا ہے؟ کیا امریکا کے افغانستان میں رہتے ہوئے امن قائم ہوسکتا ہے؟کیا امریکا پاکستان ۔بھارت اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات کا حامی ہے؟امریکی حکمران باربار یہ بیان دیتے ہیں کہ دنیا بھر میںامریکیوںکے مفادات کا تحفظ کیا جائے گاکیا امریکی معیشت کو بیرونی قرضے تلے دبا کر امریکیوںکے مفادات کا تحفظ ممکن ہے ؟کیا امریکہ مضبوط بھارت کو برداشت کرسکتا ہے؟کیا امریکہ پاکستان کو توڑ کر دہشتگردی کی جنگ جیت سکتا ہے؟کیا ساری دنیا کا امن تباہ کر کے امریکی عوام امن سے رہ سکتی ہے؟کیاامریکہ کے تمام اتحادی امریکہ کے شر سے محفوظ ہیں ؟کیا بھارت افغانستان میں اپنی اجارہ داری قائم کرپائے گا؟

یہ بھی پڑھیں  عورت دور قدیم سے وینا ملک تک

کیا امریکہ پاکستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے؟ان سوالات کے جواب ہاں میں ہوں یا نہ میں ۔میں آج امریکہ کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں پاکستانی دہشتگرد نہیں اور جودہشتگر دہے وہ پاکستانی نہیںپھر اگر کوئی پاکستان کی سلامتی کوچیلنج کرتا ہے تو قوم ہر وقت تیار ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان جب جب اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے میدان میں اترے تو تعداد میں دشمن سے کم ہو نے اور جنگی سازو سامان کم ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی مدد سے سرخرو ہوے ۔کیونکہ مسلمانوں کو صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا مقصود ہے اس لیے مسلمان کسی پر بھی جنگ مسلط نہیں کرتے ۔ساری کائنات میں اسلام سے زیادہ امن پسند کوئی مذہب نہیں ۔لیکن کفار کو اس بات کا ڈر ہے کہ کفر مٹ جائے گااورحق باقی رہنے والا ہے ۔کفاراللہ کے حکم سے خائف ہو کرمسلمانون کی نسل کشی کرتے آئے ہیں ان کے نزدیک اگرمسلمانوں کی تعداد کم ہو جائے گی تو کون کفرکونیست ونابود کرے گا ۔لیکن یہ وعدہ تو خالق کائنات کا ہے ۔اور اس ذات پاک کو کسی کی ضرورت نہیں پڑتی کچھ بھی کرنے کے لیے۔اسلام دشمن کچھ بھی کرلیں اللہ کا دین ہی باقی رہے گا اور مسلمان تمام تر مشکلات کے باوجود سرخرو ہونگے انشااللہ ۔ماضی میں بھی مسلمانوں نے دین خدا کی خاطر اپنی جانوں کے نزرانے پیش کئے ہیں اور آج بھی پوری قوم قربانی دینے کو تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں  کرپشن کا دیمک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker