پاکستانتازہ ترین

امریکی سینیٹرجان کیری 29 اپریل کوپاکستان کا دورہ کریں گے

اسلام آباد﴿بیورو رپورٹ﴾ امریکی سینٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کے سربراہ سینیٹر جان کیری رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔ امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا ٹاسک‘ نیٹو حملے پر معافی کااختیاربھی دیدیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ امریکی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان کیری ممکنہ طور پر 29 اپریل کو پاکستان کا دورہ کریں گے۔ اس دورے میں وہ پاکستان کی اعلیٰ سول و فوجی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جن میں سلالہ چیک پوسٹ حملے کے بعد بند ہونیوالی نیٹو سپلائی لائن کی بحالی‘ پاکستانی پارلیمنٹ کی جانب سے پیش کردہ نئی خارجہ پالیسی گائیڈ لائن کے مطابق پاکستان سے تعلقات بحال کرنے سمیت دیگراُمور پر تبادلۂ خیال کیاجائیگا۔ سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ امریکی صدر نے سینیٹر جان کیری کو سلالہ حملہ پر پاکستانی عوام سے باضابطہ معافی مانگنے سمیت ہر صورت میں پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔ سینیٹر جان کیری‘ سول و فوجی قیادت کے علاوہ اپوزیشن رہنمائوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے اور امریکی صدر کی جانب سے ان تک یہ پیغام پہنچائیں گے کہ امریکہ حالیہ کشیدگی کے باوجود پاکستان کو اپنا انتہائی اہم قیدی سمجھتا ہے۔ جان کیری کے اس دورے سے قبل 24 اپریل کو پاکستانی دفاعی کمیٹی کاایک اور اجلاس ہوگا جس میں امریکہ کیساتھ اہم معاملات کے حل کیلئے پاکستان کی پوزیشن واضح ہوجائیگی۔ امریکی حکام کا یہ دورہ رواں ماہ کے شروع میں کیاجانا تھا تاہم حکومت کی درخواست پر اس کو مؤخر کیاگیا تھا۔ اس سے قبل پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکہ پاکستانی پارلیمنٹ کی نئی سفارشات کے مطابق پاکستان سے بات چیت کرنے کیلئے تیار ہے تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ ان تمام مطالبات کو تسلیم کرلے گا۔ دریں اثنائ جنوبی ایشیائ کیلئے امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی مارک گراسمین بھی آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ نجی ٹی وی کے مطابق مارک گراسمین سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل مولن‘ پنٹاگون اور محکمہ خارجہ کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ پاکستان پہنچیں گے۔ امریکی وفود میں 2 روزہ دور شامل ہے جس میں وہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی‘ وزیرخارجہ حنا ربانی کھر‘ پاک فوج کے سربراہ جنرل کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ امریکی وفد سے کولیشن سپورٹ فنڈ کی ادائیگی کیری لوگر بل کے تحت امداد‘ دفاعی تعاون سے متعلق بات چیت کی جائیگی اور مذاکرات میں ڈرون حملوں‘ نیٹو سپلائی کی بحالی اور پاکستان میں امریکی خفیہ ایجنسی کی موجودگی زیر بحث آئیگی۔

یہ بھی پڑھیں  لاہور: کالعدم تنظیموں کے100اہم دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker