شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ۔،۔ اکھیاں اڈیک دیاں ۔،۔

۔،۔ اکھیاں اڈیک دیاں ۔،۔

۲۵ جولائی کے انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کی جو حکومت تشکیل پائی ہے اے انتہائی سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے۔مالی اور معاشی دشواریاں اپنی جگہ پر مسلمہ حقیقت ہیں جس سے یہ حکومت تاحال باہر نہیں نکل سکی۔اس کی بنیادی وجہ منصوبہ بندی کا فقدان ہے،غلط ترجیحات ہیں، انتظامی امور میں نا سمجھی ہے یا پھر ناتجربہ کار ٹیم ہے ؟جب مسائل کا انبار ہو تو سمجھ بوجھ ساتھ چھوڑ جاتی ہے ، انسان کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں اور وہ غلط سمت میں سفر شروع کر دیتا ہے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت پی ٹی آئی کی بھی ہے جو تا حال اپنی درست سمت کا تعین نہیں کر سکی ۔علامتی فیصلوں پر زیادہ زور کی وجہ سے سنگین مسائل سے چشم پوشی ہو رہی ہے۔الیکشن سے قبل پی ٹی آئی نے پہلے سو دنوں کا جو ایجنڈہ دیا تھا اس کا کہیں نام و نشان نہیں ہے ۔ معاشرے میں وہی ابتری ہے،وہی رشوت ستانی ہے ،وہی دغا بازی ،وہی جھوٹ ،وہی منافقت،وہی وعدہ خلافی،وہی لوٹ مار اور وہی دھوکہ دہی ہے۔لوٹ مار کا کلچر اپنی ساری حشر سامانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے ۔ایک نیا پاکستان جس میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنی تھیں اس کا دور دور تک کہیں کوئی سراغ نہیں مل رہا ۔ کسی کے دل میں،دماغ میں، روح میں کوئی تبد یلی پربا ہو چکی ہو تو اس کا مجھے علم نہیں ہے لیکن میری کھلی آنکھوں کے سامنے سب کچھ پراناہی ہے۔ عمران خان کے خلوصِ نیت اور اس کی عوام دوست سوچ پر کوئی دو رائے نہیں ہیں۔اس کے درد اور بے چینی کو میں محسوس کر سکتا ہوں کیونکہ وہ دل سے موجودہ پاکستان کو بدلنا چاہتا ہے لیکن زمینی حقائق ان کی سوچ کی راہ میں آڑے آ رہے ہیں ۔ کرائے کے فوجیوں اور بھگوڑوں کی ٹیم سے کیا ہمالیہ سر کیا جا سکتا ہے؟سچ تو یہ ہے کہ کپتان کی ٹیم نکمی،نا تجربہ کار اور غیر ذمہ دار ہے۔وہ بڑھکوں میں تو ماہر ہے لیکن کارکردگی کے میدان مں کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دینے سے قاصر ہے۔وہ حکومت چلانے کے جوہر سے تہی دامن ہے جس کے مظاہرے ہم آئے روز دیکھتے رہتے ہیں ۔ بیان بازی کی حد تک تو زمین و آسمان کے قلابے ملا ئے جاتے ہیں لیکن عملی میدان میں کارکردگی غیر تسلی بخش ہے ۔اس ٹیم میں اتنا تپڑ نہیں ہے کہ وہ حکومتی معاملات کی ڈور کو سلجھا سکے ۔ اخباری بیانات سے عوام کو تو بیوقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن ملکی معاملات نہیں چلائے جا سکتے۔ملکی معاملات جس سنجیدگی اور بردباری کا تقاضہ کرتے ہیں وہ عمران خان کی ٹیم میں مفقود ہے۔۲۰۱۳ ؁ کے انتخابات میں شکست کے بعد عمران خان نے اس بات کااشارہ دیا تھا کہ اچھا ہوا ہمیں حکومت نہیں ملی کیونکہ ہمیں حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا لہذا ان کی کارکردگی کو جانچتے وقت نا تجربہ کاری کے اس عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔کے پی میں صوبائی حکومت ہونے کے باوجود عمران خان حکومت چلانے کا کوئی تجربہ حاصل نہ کر پائے کیونکہ انھوں نے اپنا سارا وقت سڑکیں ناپنے اور لانگ مارچ میں گزار دیا تھا ۔،۔
لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہو ، ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی کی مشکلات ہوں ،کساد با زاری کا سوال ہو،مہنگائی کا ایشو ہو یا دھشت گردی کی نئی لہر کی چیرہ دستیاں ہو ں حکومت بالکل بے بس نظر آ رہی ہے ۔ بلدیاتی نظام میں تبدیلی، پولیس میں اصلاحاتی ایجنڈہ،جنوبی پنجاب کا علیحدہ صوبہ،صحت اور تعلیم میں انقلابی اقدامات دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں۔کچھ تو کیجئے کہ اکھیاں اڈیک دیاں والی کیفیت سے ہم باہر نکل سکیں ۔ مہنگائی کے عفریت نے عوام کو جس بے رحمی سے جکڑ رکھا ہے حکومت اس معاملہ میں بالکل بے بس ہے۔عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتیں گر رہی ہیں لیکن پاکستان میں پٹرول کہیں مہنگا ہے جو ہم سب کے لئے لمحہِ فکریہ ہے۔ حکومت کا بنیادی کام عوام کی قوتِ خر ید کو بڑھانا اور اس کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہوتا ہے لیکن تبدیلی کے نام پر عوام کی مشکلات میں اضافہ سمجھ سے بالا تر ہے۔کاروبار کے جو حالات ہیں وہ انتہائی دگرگوں ہیں۔اس طرح کی کساد بازاری پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔اگر کاروبار کی یہی روش جاری رہی تو عوام کودو وقت کی روٹی کے لالے پڑ جائیں گے۔مہنگائی کی وجہ سے عوام کی قوتِ خرید میں جو کمی واقع ہوئی ہے اس نے پورا معاشرتی ڈھانچہ ہلا کر رکھ دیا ہے۔اس کا تدارک کیسے کیا جائے حکومت کی سمجھ سے بالا تر ہے۔طفل تسلیوں کا سلسلہ تو جاری ہے لیکن اس طرح کاروبارِ حکومت نہیں چلا کرتے۔اس کیلئے ٹھوس پالیسیاں بنانی پڑتی ہیں اور عوام کو ریلیف دینا پڑتا ہے جس کے تا حال کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔اعلی کارکردگی دکھانے کی بجائے عمران خان کی ٹیم کے ذہن میں ایک بات سمائی ہوئی ہے کہ وہ الیکٹیبلز ہیں لہذا حکومت کے زمین بوس ہو جانے ، ناکام ہو جانے، یا نتائج نہ دینے سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑیگا ؟ کیونکہ وہ آنے والے انتخابات میں کسی ایسی نئی جماعت کا حصہ بن جائیں گے جس کے اقتدار کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کردے گی ۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے گہرے روابط ہیں اس لئے ان کی نظر میں حکومت کی کارکردگی کوئی معنی نہیں رکھتی۔وہ جنرل پرویز مشرف کے دست و بازو تھے، وہ آصف علی زر داری کی آنکھ کا تارا تھے اور وہ میاں محمد نواز شریف کی قوت تھے۔وہ جہاں کہیں بھی جائیں گے اپنی مسلمہ حیثیت منوا کر رہیں گے ۔ انھیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کا سو دنوں کا ایجنڈہ کیا ہے اور اسے کیسے پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے ۔ انھیں وزیر بننا تھا سو وہ وزیر بن چکے ہیں۔ان کی بری کارکردگی پر کوئی ان کی سرزنش بھی نہیں کر سکتا کیونکہ حکومت پہلے ہی مانگے تانگے کے ووٹوں پر قائم ہے ۔ کسی ایک بھی ایم این اے کی ناراضگی مول لینا حکومت کے بس میں نہیں ہے۔حکومت کے کچھ حمائتیوں حکومت سے شدید تحفظات ہیں لہذا مزید کسی ایک رکن کو بھی ناراض کرنا حکومت کی بساط سے باہر ہے۔یہ تو پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی اعلی قیادت کی اعلی ظرفی ہے کہ وہ حکومت گرانے کی کسی سازش میں شریک نہیں ہو نا چاہتے ۔ جمعیت العلمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان نے تو پورا زور لگا دیا تھا کہ دھاندلی شدہ انتخا بات کی وجہ سے حلف نہ اٹھائے جائیں لیکن متذکرہ بالا دونوں جماعتوں نے ان کے موقف سے اختلاف کیا اور ان کی تجویز کو رد کر کے پارلیمنٹ میں حلف اٹھا لئے۔مولانا تو اب بھی حکومت کے خلاف ملین مارچ کر رہے ہیں اور اس حکومت کو ایک بھی دن دینے کیلئے تیار نہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر مسلط کی گئی ہے لہذا اس کا گرایا جاناملکی مفاد میں ہے۔ کوئی پی پی پی سے لاکھ اختلاف کرے،اس کی کرپشن کی داستانوں سے اخبارات کے صفحے کالے کرے اور الیکٹرانک میڈیا پر بیٹھ کر ان کا میڈیا ٹرائل کرے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ پی پی پی نے جمہوریت کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔پی پی پی کی ساری جدو جہد کا محور پاکستان میں جمہوریت کا فروغ ہے اور اپنے اس بیانیہ سے وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹی ۔ بلاول بھٹو زرداری کی تقاریر کا لب ولحجہ بھی یہی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو عوام نے جو مینڈیٹ دیا ہے اس کا احترام کیا جائے ۔جہاں تک اپوزیشن کی بات ہے تو حکومت کو ان کے سخت الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑیگا ، پارلیمنٹ میں شور و غوغہ بھی برداشت کرنا پڑیگا۔واک آؤٹ بھی سہنا پڑیگا اور حکومتی پالیسیوں پر ان کی دھواں دار تقاریر بھی برداشت کرنی پڑیں گئی۔پی ٹی آئی خود بھی توکئی سال یہی کرتی رہی تھی ۔ شہروں کی ناکہ بندی ، چوراہوں پر دھرنے اور احتجاج اس کی پہچان تھا۔ہر روز پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ ہوتا تھا لہذا آج بھی شور شرابے اور احتجاج سے کسی کو پریشان نہیں ہو نا چائیے ۔اصل بات جمہوری سسٹم کے تسلسل کا ہے اور وہ تسلسل بے شمار تحفظات کے باوجود جاری و ساری ہے ۔اگر یہ تسلسل نہ ہوتا تو پھر پی ٹی آئی اقتدار کے سنگھاسن پر کیستے بیٹھتی؟اس پر تو دلائل دئے جا سکتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے جوماحول تخلیق کیا گیا تھا اس کا واحد مقصد پی ٹی آئی کی جیت کی راہیں کشادہ کرنا تھالیکن آخری فیصلہ ووٹ کی قوت سے ہی ہوا تھا اور عوام نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔مقتدر قوتوں کی منشاء اور مرضی کے بغیریہاں کچھ نہیں ہوتا اور جو اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا اس کا ٹھکانہ جیل کی کال کوٹھری ہوتی ہے ۔،۔

یہ بھی پڑھیں  لاہور میں کار نالے میں جاگری، ایک شخص جاں بحق، تین زخمی